latest newsPakistan

لاہور ہائیکورٹ میں مقدمات کی سماعت اور فیصلے

رپورٹ: مبشر حسن

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم نے توہین عدالت کی درخواست پر پولیس کو 16 سالہ مغویہ سکینہ بی بی کو آج عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیدیا،عدالت نے پولیس کی کارکردگی پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے آئی جی پنجاب سے استفسار کیا کہ آپ دیکھیں آپ کے انڈر کیا ہو رہا ہے ؟ اگر کوئی لڑکی گھر نہ پہنچے تو پولیس کیا کرے گی؟ دو سال تک پولیس کیا کرتی رہی ؟افسران کی فوج ظفر موج کی روزانہ ہائیکورٹ پیشیاں ہوتی ہیں لیکن مغویہ بازیاب نہ ہوئی ، عدالت نے سوال اٹھایا کہ کیا لوگ پولیس کے بجائے اپنا کام خود کرنا شروع کر دیں؟ عدالت نے حکم دیا کہ تفتیش میرٹ پر کی جائے اور مغویہ کو کل تک عدالت میں پیش کیا جائے تاکہ اس کی پہچان ہو سکے۔

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم نے آتشزدگی واقعات روکنے کے لیے دائر درخواست پر صوبہ بھر کے آر پی اوز اور ہسپتالوں کے ایم ایس سے تفصیلی رپورٹس 29 اکتوبر تک طلب کر لیں، جوڈیشل ایکٹوازم پینل کی درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ بلڈنگ کوڈ اور فائر ایکٹ پر عمل نہ ہونے سے عمارتوں میں آگ لگنے کے واقعات ہو رہے ہیں، شہر کی اڑسٹھ اعشاریہ سات آٹھ فیصد عمارتیں فائر سیفٹی میں گریڈ ڈی، چھ سو بیاسی عمارتیں ہائی رسک اور ترسٹھ ناقابلِ رہائش ہیں، مزید برآں ریسکیو الیون ٹو ٹو کی تراسی فیصد ایمبولینسز میعاد پوری کر چکی ہیں، سماعت کے دوران فیسکو، گیپکو، لیسکو، این ڈی ایم اے، ایل ڈی اے، ریسکیو اور پولیس نے جواب جمع کروا دیا، جبکہ والڈ سٹی کے وکیل بیمار ہونے کے باعث پیش نہ ہو سکے۔

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم نے چھ جعلی رجسٹریاں کرنے کے کیس میں رجسٹری محرر جھنگ تاج دین کی درخواست ضمانت پر محکمہ اینٹی کرپشن کے سربراہ سہیل ظفر چٹھہ کو آج ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا، تفتیشی افسر اینٹی کرپشن کی غلط بیانی پر عدالت نے اظہار برہمی کیا ،عدالت نے ڈائریکٹر اینٹی کرپشن فیصل آباد کو بھی طلب کر لیا ،عدالت نے استفسار کیا کہ غلط رپورٹ کیوں دی؟ عدالت کے سامنے کھڑے ہو کر غلط بیانی کی جا رہی ہے، عدالت نے ریمارکس دیئے کہ کیا یہ زیادہ ہوشیار ہیں کہ عدالت کو دھوکہ دے رہے ہیں، یہ سب مل کر کام کرتے ہیں ،حصہ ملتا رہے تو چپ رہتے ہیں جب نہ ملے تو مقدمہ درج کرا دیا، کیا اینٹی کرپشن میں مقدمہ کے اندراج کے بعد انکوائری ہوتی ہے؟ انکوائری اور تفتیش میں کوئی فرق ہے یا نہیں؟ سسٹم پر ایف آئی آر کا اندراج چھ سال سے موجود ہے ،درخواست گزار کو چھ سال بعد ملوث کرلیا گیا، 2020 سے پولیس ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھی رہی ،اب انکوائری کی بجائے سیدھا مقدمہ ہی درج کر دیا،چھ سال سے ایف آئی آر پڑی ہے اینٹی کرپشن حکام کس کے انتظار میں رہے ؟اگر درخواست گزار ملزم تھا تو انکوائری میں کیوں شامل نہیں کیا گیا ؟ ڈیل ہو جائے تو ٹھیک ورنہ گھر پر چھاپوں کا سلسلہ شروع کر دیتے ہیں ۔

لاہور ہائیکورٹ کی جسٹس عبہر گل خان نے محمد خان بھٹی کی دائر توہین عدالت کی درخواست پر 12 اکتوبر کو تفصیلی جواب طلب کرلیا، عدالت نے سرکاری وکیل کو ہدایت کی کہ دو مقدمات درج کرنےکی وجوہات داخل کریں، ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ عدالتی حکم پر عمل کرتے ہوئے ریکارڈ فراہم کر دیا تھا، عدالت نے ریمارکس دئیے کہ آپ نے عدالتی پر عمل نہیں کیا بلکہ دو مزید دو ایف آئی آر درج کردیں،اس کا مطلب ہے آپ نے مان لیا کہ آپ نے توہین عدالت کی، عدالت نے استفسار کیا کہ عدالتی حکم کے بعد دو ایف آئی آر کیوں درج کیںسوموار تک تفصیلی جواب دیں،محمد خان بھٹی نے 2023 میں توہین عدالت کی درخواست دائر کی تھی، درخواست میں موقف تھا کہ عدالت نے درخواست گزار کو ہراساں نہ کرنے کا حکم دیا، عدالتی حکم کے باوجود اینٹی کرپشن حکام ہراساں کررہے ہیں ،عدالتی حکم پر عمل درآمد نہ کرنا توہین عدالت ہے ، درخواست میںاستدعا کی گئی کہ عدالت ڈی جی انٹی کرپشن کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی کرے۔

لاہور ہائیکورٹ کی جسٹس عبہر گل خان نے اداکارہ مومنہ اقبال کی بہن رمشاء کے خلاف لیگی ایم پی اے ثاقب چدھڑ کے مقدمے کی اخراج کی درخواست پر دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا، ثاقب چدھڑ کے وکیل علی اشفاق نے موقف اپنایا کہ رمشاء نے باہر جانے کے لیے بینک سٹیٹمنٹ بنوانے کی خاطر رقم اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کی درخواست کی تھی، جس پر دو ہزار بائیس میں مختلف اوقات میں رقم منتقل کی گئی، مومنہ اقبال نے بھی ثاقب چدھڑ کے خلاف مقدمہ درج کروا رکھا ہے، عدالت نے استفسار کیا کہ ان کے آپس میں کیا تعلقات تھے اور کس بنیاد پر رقم جمع کروائی گئی ؟ عدالت نے وہ تمام رقوم بینک سٹیٹمنٹ پر ہائی لائٹ کرنے کی ہدایت کی۔

لاہور ہائیکورٹ کےجسٹس احمد ندیم ارشد نے گندم کی امدادی قیمت پانچ ہزار روپے فی من مقرر کرنے کی درخواست پر وفاقی حکومت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا،درخواست گزار سردار ظفر حسین صدر کسان بورڈ پاکستان کے وکیل نےموقف اپنایا کہ گندم کی بروقت امدادی قیمت کا تعین کرنے سے بحران پیدا نہیں ہوگا، کسان کے مفاد کے پیش نظر امدادی قیمت کے اعلان کا حکم دیا جائے، عدالت گندم کی امدادی قیمت پانچ ہزار روپے فی من مقرر کرنے کے احکامات صادر کرے۔

لاہور ہائیکورٹ کےجسٹس عابد عزیز شیخ کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نےپیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے خلاف درخواست پر وفاقی حکومت، اوگرا اور وزارت پیٹرولیم کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا، جوڈیشل ایکٹوازم پینل کی درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ پیٹرولیم مصنوعات پر لیوی فیس عائد کرنے کا اختیار صرف پارلیمنٹ کو ہے اور وفاقی حکومت از خود قیمتوں میں ردوبدل نہیں کر سکتی، درخواست میں کہا گیا کہ پاکستان میں پیٹرول تین سو روپے فی لیٹر سے زائد ہے اور کم آمدنی کے باوجود عوام پر بوجھ ڈالا گیا ہے،حکومت نے بغیر کسی شفاف فارمولے کے قیمتیں بڑھائیں اور پیٹرولیم لیوی معاشی استحصال کے مترادف ہے، پیٹرول مہنگا ہونے سے خوراک اور ٹرانسپورٹ کے شعبے شدید متاثر ہوں گے، استدعا ہے کہ موجودہ قیمتوں کے نظام اور ردوبدل کو فوری طور پر معطل کیا جائے اور عدالت عالمی قیمتوں کا تقابلی چارٹ طلب کرے۔

لاہور ہائیکورٹ کےجسٹس جاوید اقبال وینس نےکینیڈا بھجوانے کا جھانسہ دے کر 90 لاکھ فراڈ کیس کے ملزم کی درخواست ضمانت پر دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیا،اسسٹنٹ اٹارنی جنرل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ درخواست گزار نے 75 لاکھ روپے کا پرونوٹ لکھ کر دیا ملزم نے 75 لاکھ روپے کی رقم واپسی کا اقرار نامہ بھی لکھ دیا جبکہ ملزم تفتیش میں گناہگار پایا گیا ئے ، سید زیب کی درخواست ضمانت بعد از گرفتاری پر سماعت کی درخواست گزار وکیل کا موقف تھا کہ درخواست گزارنے کوئی اقرار نامہ لکھ کر نہیں دیا،شریک ملزم کی ضمانت عدالت سے منظور ہوچکی ہے ،وکیل درخواست گزار کی استدعا تھی کہ عدالت درخواست گزار کی ضمانت بعد از گرفتاری منظور کرکے رہائی کا حکم دے

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس فاروق حیدر نے پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ کے خلاف درخواست پر سماعت سے معذرت کر لی، عدالت نے کیس چیف جسٹس کو واپس ارسال کر دیا، درخواست گزار شیخ امتیاز کے وکیل اظہر صدیق پیش ہوئے۔

لاہور ہائیکورٹ ،اصل شوہر کون ؟مقتولہ کے دو قانونی ورثا کے تعین کا فیصلہ نہ ہوا،جسٹس طارق سلیم شیخ نے دوبارہ انکوائری کیلئے کیس سیشن جج بہاولنگر کو بھجوا دیا،عدالت نے خاتون قتل کیس میں صلح کی بنیاد پر بریت کی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے حقیقی قانونی ورثاء کے تعین کے بغیر صلح کو غیر مؤثر قرار دے دیا، ممتاز اور شاہد نے مقتولہ سمیرا بی بی کا شوہر ہونے کا دعویٰ کیا جبکہ مقتولہ کے والدین نے شاہد کو اپنا داماد تسلیم کیا، ممتاز احمد نے مؤقف اختیار کیا کہ شاہد سے شادی ختم ہو چکی ہے اور اس نے سترہ اگست دو ہزار سترہ کو سمیرا سے شادی کی تھی، لہٰذا وہی قانونی شوہر ہے، عدالت نے شاہد اور ممتاز احمد کے متضاد دعوؤں کی مکمل انکوائری کا حکم دیتے ہوئے سیشن جج بہاولنگر کو تین ہفتوں میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی، تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ دفعہ تین سو دو کے مقدمے میں صلح حقیقی ورثاء کی رضامندی سے مشروط ہے اور اگر قتل غیرت کے نام پر ہو تو صرف ورثاء کی صلح سے ملزم رہا نہیں ہو سکتا۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس جواد ظفر نےسیمنٹ سے بھرا ٹرک چوری کرنے میں ملوث ڈرائیور رحمٰن سرور کی درخواست ضمانت پر تفتیشی افسر سے تفصیلی رپورٹ 13 اکتوبر کو طلب کرلی، اوکاڑہ کے تھانہ بی ڈویژن میں رحمٰن سرور کیخلاف مقدمہ درج ہوا، ایف آئی آر کیمطابق راستے بند ہونے کی وجہ سے ٹرک خریدار تک نہ پہنچا سکا، ساری صورتحال سے گاڑی مالک محمد اسلم کو آگاہ کیا ،ٹرائل کورٹ نے حقائق کے برعکس ضمانت خارج کی ،ماتحت عدالت نے سیمنٹ سے بھرے ٹرک کی سپرداری غیر قانونی طور پر تفتیشی افسر دیدی ،استدعا ہے کہ عدالت ضمانت منظور اور سپرداری کا حکم کالعدم قرار دے ۔

لاہورہائیکورٹ میں پنجاب اسمبلی سے پاس ہونے والے انسداد دہشت گردی ترمیمی قانون کی منظوری کے خلاف درخواست پر سماعت، جسٹس شہرام سرور چوہدری نےاسی نوعیت کے کیسز یکجا کرکے سماعت کیلئے مقرر کرنے کی ہدایت کر دی،وکیل درخواست گزار نے موقف اپنایا کہ انسدادِ دہشت گردی ترمیمی ایکٹ ایک اور درخواست زیر سماعت ہے، جس عدالت نے کہاتو پھر دونوں کیسز کو یکجا کرکے سن کر فیصلہ کر دیتے ہیں، انسداد دہشت گردی ترمیم بل 2026 غیر قانونی ہے ،ٹرائل میں جج پراسکیوشن،گواہ کے نام اور چہرے سامنے نہیں ہونگے یہ شق خلاف آئین ہے ،استدعا ہے کہ عدالت پنجاب اسمبلی سے منظور شدہ ترمیم بل کو غیر قانونی قرار دے ۔

لاہور ہائیکورٹ میں رجسٹرار تعیناتی کیخلاف اور سوئی گیس ٹریڈ یونین کے الیکشن رکوانے کی درخواست پر سماعت،جسٹس جاوید اقبال وینس نےچیئرمین این آئی آر سی کے پرسنل اسسٹنٹ کی درخواست پر رجسٹرار کو طلب کرلیا، وکیل درخواست گزارنے موقف اپنایا کہ رجسٹرار این آئی آر سی ٹریڈ یونین کرانے کی مجاز اتھارٹی ہے ،رجسٹرار این آئی آر سی کا عہدہ خالی ہے، چیئرمین این آئی آر سی نے الیکشن کرانے کیلئے اپنے پرسنل اسسٹنٹ کو رجسٹرار مقرر کر دیا ،قانون کے مطابق صرف رجسٹرار این آئی آر سی الیکشن کراسکتا ہے ،پرسنل اسسٹنٹ کو الیکشن کیلئے رجسٹرار تعینات نہیں کیا جاسکتا ،استدعا ہے کہ عدالت محکمہ سوئی گیس ٹریڈ یونین الیکشن روکنے کا حکم دے ،عدالت پرسنل اسسٹنٹ کی الیکشن کیلئے رجسٹرار تعیناتی کالعدم قرار دے ۔

بانی پی ٹی آئی کی بہن ڈاکٹر عظمی خان سے ملاقات کیلئے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کردی گئی، احد خان نےدرخواست میں موقف اپنایا کہ ڈاکٹر عظمی خان اور بہنوں کو نظر بند کردیا گیا ہے، تینوں بہنوں سے نہ تو اہل خانہ اور وکلاء کی ملاقات کرائی جارہی تینوں بہنوں کی روٹین کی ادویات اور اشیا فراہم نہ کرنے دی جارہی ہیں، متعلقہ اتھارٹیز کو ملاقات کیلئے درخواستیں دیں، گھریلو خواتین کو سخت قید میں رکھنا غیر قانونی ہے، ٹرائل کورٹ نے بھی تینوں معمر بہنوں کی درخواست مسترد کر دی ، استدعا ہے کہ عدالت درج گزار اور فیملی ممبرز کی ملاقات کا حکم دے،عدالت ڈاکٹر عظمی اور بہنوں تک وکیل کو رسائی کا حکم دے۔

انسداد دہشت گردی عدالت کے منظر علی گل نے9 مئی جلاؤ گھیراؤ مقدمات میں علیمہ خانم اور عظمی خانم و دیگران کی عبوری ضمانتوں میں 6 نومبر تک توسیع کر دی،،عدالت نے آئندہ سماعت پر ریکارڈ اور دلائل طلب کرلئے، سابق وفاقی وزیر اسد عمر اور فواد چوہدری،مسرت چیمہ و دیگر ملزمان پیش ہوئے جبکہ عدالت نے اعظم سواتی کی ایک روزہ حاضری معافی کی درخواست منظور کرلی جبکہ بانی پی ٹی کی بہنیں نظر بندی کی وجہ سے عدالت پیش نہ ہوئیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button