بیگم نصرت بھٹو آمریت کے خلاف مزاحمت کی علامت اور شفیق ماں تھیں، صدر زرداری

اسلام آباد: (ہم شہری) صدر مملکت آصف علی زرداری نے مادرِ جمہوریت بیگم نصرت بھٹو کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ایک بہادر اور ہمدرد سیاسی رہنما، آمریت کے خلاف مزاحمت کی علامت اور سب سے بڑھ کر ایک شفیق ماں تھیں، جنہوں نے زندگی کے انتہائی کٹھن ذاتی صدمات برداشت کیے، لیکن اپنے اصولوں اور اقدار پر ثابت قدم رہیں۔

بیگم نصرت بھٹو کی 15ویں برسی کے موقع پر اپنے پیغام میں صدر مملکت نے کہا کہ ان کے لیے بیگم نصرت بھٹو محض ایک عظیم سیاسی رہنما نہیں بلکہ ایک نہایت شفیق ماں بھی تھیں، جنہوں نے تاریخ کے تاریک ترین ادوار میں اپنے خاندان کو متحد رکھا۔

ایوان صدر کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق آصف علی زرداری نے کہا کہ بیگم نصرت بھٹو نے اپنی زندگی کی محبت شہید ذوالفقار علی بھٹو اور اپنے پیارے بیٹوں شاہنواز بھٹو اور میر مرتضیٰ بھٹو کو کھو دیا، لیکن گہرے رنج و غم کے باوجود نہ اپنے عزت و وقار پر سمجھوتہ کیا اور نہ ہی پاکستانی عوام سے اپنی وابستگی ترک کی۔ ان کا دکھ ذاتی تھا، مگر ان کی بہادری پاکستان کے عوام کے لیے تھی۔
صدر مملکت نے پاکستان کی ماؤں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ ہر ماں اپنی اولاد کے لیے دی جانے والی قربانیوں اور ان کے بہتر مستقبل کے لیے خاموشی سے اٹھائے جانے والے بوجھ کو سمجھتی ہے۔ بیگم نصرت بھٹو کی زندگی ماں کے دل کی غیر معمولی طاقت اور اس حقیقت کی یاد دلاتی ہے کہ محبت کس طرح گہرے سے گہرے صدمے کو بھی برداشت کرنے کا حوصلہ دیتی ہے۔

انہوں نے پاکستان کی نوجوان لڑکیوں کو خصوصی پیغام دیتے ہوئے کہا کہ ہر لڑکی کو بیگم نصرت بھٹو کی جدوجہد اور زندگی کی کہانی سے آگاہ ہونا چاہیے۔ انہوں نے اس وقت بھی ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا جب طاقتور قوتیں انہیں خاموش کرانا چاہتی تھیں، لیکن وہ اپنے پختہ نظریات سے دستبردار نہیں ہوئیں۔
صدر زرداری نے کہا کہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے اپنی والدہ کے اسی ورثے کو آگے بڑھایا اور پاکستان سمیت مسلم دنیا کی پہلی خاتون وزیراعظم بننے کا اعزاز حاصل کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ بیگم نصرت بھٹو کی زندگی پاکستان کی ہر بیٹی کے لیے ایک دائمی پیغام ہے کہ وہ اپنی صلاحیتوں کو کبھی کم نہ سمجھے، تعلیم حاصل کرے، آزادانہ سوچ اپنائے، اپنے عزت و وقار کے لیے آواز بلند کرے اور کسی خوف کو اپنے خوابوں کی راہ میں حائل نہ ہونے دے۔ نوجوان لڑکیوں کا مستقبل ان کا اپنا ہے اور انہیں ملک کے مستقبل کی تشکیل میں کردار ادا کرنے کا پورا حق حاصل ہے۔
صدر مملکت نے کہا کہ مائیں نسلوں کی تشکیل کرتی ہیں، جبکہ تعلیم یافتہ اور بااختیار بیٹیاں اقوام کی تقدیر سنوارتی ہیں۔ بیگم نصرت بھٹو کو خراج عقیدت پیش کرنے کا ایک طریقہ ایسا پاکستان تعمیر کرنا بھی ہے جہاں ہر خاتون کا احترام ہو، اسے مساوی حقوق حاصل ہوں اور ہر لڑکی کو اپنی صلاحیتوں کے بھرپور اظہار کے مواقع میسر آئیں۔

بیگم نصرت بھٹو کو ذاتی طور پر یاد کرتے ہوئے آصف علی زرداری نے کہا کہ ان کی کمی آج بھی خاندان میں شدت سے محسوس کی جاتی ہے۔ سال اور دہائیاں گزر سکتی ہیں، لیکن محبت، احترام اور خوبصورت یادیں ہمیشہ تازہ رہتی ہیں۔ انہیں صرف ان صدمات کی وجہ سے یاد نہیں کیا جاتا جو انہوں نے برداشت کیے، بلکہ ایک غیر معمولی اور بلند پایہ خاتون کے طور پر بھی یاد رکھا جاتا ہے۔
صدر مملکت نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ بیگم نصرت بھٹو کو جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے اور ان کی روح کو ابدی سکون نصیب کرے۔
اپنے پیغام کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ اللہ کرے ہر ماں کو بیگم نصرت بھٹو کی مثال سے حوصلہ ملے اور ہر بیٹی کو اپنی زندگی کی کہانی خود تحریر کرنے کی ہمت نصیب ہو۔



