
لاہور ہائیکورٹ ،ٹوبہ ٹیک سنگھ میں فاطمہ جناح میڈیکل کالج کے لیے مختص چار ہزار کنال اراضی جعلسازی سے اپنے نام منتقل کرانے کا کیس،جسٹس شہرام سرور چوہدری نےاینٹی کرپشن کی رپورٹ کی روشنی میں ڈی جی اینٹی کرپشن کے خلاف توہین عدالت کی درخواست نمٹا دی، ڈپٹی ڈائریکٹر اینٹی کرپشن نے موقف اپنایا کہ عدالتی حکم پر اینٹی کرپشن نے انکوئری مکمل کرلی ہے ،سابقہ پرنسپل سمیت 36 افراد جعلسازی میں ملوث پائے گئے،تمام ملوث افراد کے خلاف مقدمہ درج کر کے کارروائی کا آغاز کریں گے ،درخواستگزار کے وکیل نے موقف اپنایا کہ 1953 میں ٹوبہ ٹیک سنگھ میں فاطمہ جناح میڈیکل کالج کے لیے چار ہزار کنال اراضی مختص کی گئی ،سابقہ پرنسپل سمیت 36 افراد نے ملکر کالج کی اراضی اپنے نام منتقل کرالی ،تین سال قبل عدالت نے اینٹی کرپشن کو انکوئری کا حکم دیا تھا ،عدالتی حکم کے باوجود انکوئری مکمل نہیں کی گئی ،عدالت ڈی جی اینٹی کرپشن سہیل ظفر چٹھہ کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کرے ۔
لاہور ہائیکورٹ کی جسٹس عبہر گل خان نے پی ٹی آئی کارکنوں کی نظر بندی کے خلاف درخواست پر ڈی سی لاہور اور شیخوپورہ سے رپورٹ طلب کر لی، عرفان کلار ایڈووکیٹ نے موقف اپنایا کہ راشد، جاوید اقبال و دیگران کو نظر بند کیا گیا، مدت نظر بندی ختم ہونے کے باوجود رہا نہیں کیا گیا، ڈپٹی کمشنر لاہور اور شیخوپورہ نے نظر بندی کے نئے نوٹیفکیشن جاری کر دیئے، بغیر وجہ مسلسل نظر بندی غیر آئینی ہے،استدعا ہے کہ عدالت پی ٹی آئی کارکنوں کی رہائی کا حکم دے، عدالت پی ٹی آئی کارکنوں کی نظر بندی کالعدم قرار دے۔
لاہور ہائیکورٹ میں کریانہ سٹور سے 60 ہزار روپے لے جانے کے الزام پر توہین عدالت کی درخواست پر سماعت،جسٹس شہرام سرور چوہدری نےپتنگ اڑانے کے مقدمے میں ملوث نوجوان کی درخواست پر ایس پی شیخوپورہ غلام عباس کو 29 اکتوبر کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا، درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ پلاسٹک سے بنی پتنگ اڑانے پرتھانہ صدر فاروق آباد میں مقدمہ درج کیا گیا تھا،مقدمے کے دوران پولیس اہلکار درخواست گزار کے کریانہ سٹور سے 60 ہزار روپے اٹھا کر لے گئے، درخواست گزار کا بیٹا مقدمے سے بری ہو چکا ہے جبکہ مقدمے کی ایف آئی آر بھی خارج ہو گئی ہے، تاہم پولیس اہلکاروں کی جانب سے مبینہ طور پر لے جانے والی رقم تاحال واپس نہیں کی گئی، عدالت نے ڈی پی او شیخوپورہ کو قانون کے مطابق کارروائی کرنے کی ہدایت کی تھی جس پر کارروائی نہیں کی گئی جو توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے، استدعا ہے کہ عدالتی حکم پر عمل درآمد نہ کرنے پر ڈی پی او شیخوپورہ کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے۔
لاہور ہائیکورٹ کےجسٹس عابد عزیز شیخ اور جسٹس منور اقبال دوگل پر مشتمل بینچ نے پنجاب ریونیو اتھارٹی کا طریقہ کار غلط قرار دیتے ہوئے اپیلٹ ٹربیونل کا فیصلہ کالعدم قرار دیدیا ، تحریری فیصلے میں عدالت نےپنجاب سیلز ٹیکس آن سروسز ایکٹ 2012 کی دفعہ 49(2) کی تشریح کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ ڈیفالٹ سرچارج کی گنتی ٹیکس کی واجب الادا تاریخ کے بعد سولہویں دن سے شروع ہوگی، نہ کہ اگلے ہی دن سے، پی آر اے نے موقف اپنایا کہ کمپنی نے وصول کردہ سیلز ٹیکس مقررہ تاریخوں کے بعد جمع کرایا، شوکاز نوٹس کے بعد 12 ستمبر 2019 کو اسسمنٹ آرڈر کے ذریعے 24 لاکھ 86 ہزار 219 روپے کا ڈیفالٹ سرچارج عائد کیا گیا، کمشنر (اپیلز) نے 3 دسمبر 2019 کو یہ سرچارج برقرار رکھا، البتہ ادائیگی کا دن حساب سے نکالنے کی ہدایت کی، اپیلٹ ٹربیونل نے 24 نومبر 2022 کو کمپنی کی اپیل خارج کر دی، جس کے خلاف ہائیکورٹ سے رجوع کیا گیا،کمپنی وکیل اعجاز چدھڑ نے مؤقف اپنایا کہ دفعہ 49(2) میں "واجب الادا تاریخ کے بعد سولہویں دن” کے الفاظ ہیں، جبکہ محکمہ نے اسے "ٹیکس مدت کے اختتام کے بعد” یا "اگلے دن” کے معنوں میں لیا،اگر واجب الادا تاریخ 15 نومبر ہو تو سولہواں دن یکم دسمبر بنتا ہے، مگر محکمہ نے 16 نومبر سے سرچارج لگایا، رول 11(2) صرف ادائیگی اور ریٹرن کی ڈیڈ لائن بتاتا ہے اور سرچارج کی گنتی پر اثر انداز نہیں ہوتا،پی آر اے کے وکیل سہیل زاہد بٹ نے مؤقف اپنایا کہ ٹیکس 15 تاریخ تک جمع کرانا لازم ہے اور اس کے بعد ٹیکس دہندہ ڈیفالٹر ہو جاتا ہے، اس لیے سرچارج اگلے دن سے لگنا چاہیے،عدالت نے قرار دیا کہ قانون میںواجب الادا تاریخ اورٹیکس مدت کی الگ الگ تعریفیں موجود ہیں اور انہیں ایک دوسرے کی جگہ استعمال نہیں کیا جا سکتا، اگر واجب الادا تاریخ 15 نومبر ہو تو 16 نومبر پہلا دن، 17 نومبر دوسرا دن اور یکم دسمبر سولہواں دن بنتا ہے، 16 نومبر کو سولہواں دن قرار دینا کسی بھی حساب سے درست نہیں،عدالت نے کہا کہ محکمے کی تشریح قبول کرنے کا مطلب لفظ سولہویں کوپہلے سے بدلنا ہوگا، جو قانون کی تشریح نہیں بلکہ اسے دوبارہ لکھنے کے مترادف ہے، ٹیکس قوانین کی تشریح سادہ اور لغوی معنوں کے مطابق ہوگی اور اگر ایک سے زیادہ معقول تشریحات ممکن ہوں تو وہ تشریح اپنائی جائے گی جو ٹیکس دہندہ کے لیے کم بوجھ کا باعث ہو، عدالت نے واضح کیا کہ گولڈن رول لاگو کرنے کی ضرورت نہیں، عدالت نے واضح کیا کہ اس فیصلے سے کمپنی ٹیکس بروقت جمع کرانے کی ذمہ داری سے بری نہیں ہوئی، اور 15 تاریخ کے بعد ٹیکس جمع کرانے والا بدستور ادائیگی میں ڈیفالٹ کا مرتکب ہی رہے گا۔
لاہور ہائیکورٹ کےجسٹس خالد اسحاق نے چیئرمین نیپرا وسیم مختار کی تعیناتی کے خلاف درخواست پر دلائل مکمل ہونےکے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا،نیپرا کے وکیل نے درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ درخواست گزار متاثرہ فریق نہیں ہیں، لہٰذا درخواست ناقابلِ سماعت قرار دے کر خارج کی جائے،درخواست گزار اشبہ کامران نے مؤقف اپنایا کہ درخواست پارلیمنٹ اور آئین کی بالادستی یقینی بنانے کے لیے دائر کی گئی ہے۔
سیشن عدالت نے غیر ملکی خاتون ڈیانا زیادتی کیس میں نامزد ملزم تنویر کی عبوری ضمانت میں 27 اکتوبر تک توسیع کر دی،تفتیشی افسر نے موقف اپنایا کہ ملزم تفتیش میں شامل نہیں ہو رہا، جس پر عدالت نے حکم دیا کہ ملزم کو کمرہ عدالت میں ہی شامل تفتیش کیا جائے،ملزم کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ غیر ملکی خاتون نے کہا ہے کہ تنویر اس کا ملزم نہیں، وکیل نے استدعا کی کہ خاتون کو پاکستان بلوایا جائے یا ویڈیو لنک کے ذریعے اس کا بیان ریکارڈ کیا جائے،سماعت کے دوران پولیس کی بھاری نفری سیشن کورٹ پہنچ گئی، اس موقع پر پولیس اور ملزم کے ساتھ آنے والے افراد کے درمیان تلخ کلامی اور دھکم پیل بھی ہوئی،پولیس نے ملزم کے ساتھ آنے والے بعض افراد کو گرفتار کرکے تھانے منتقل کر دیا، تاہم ملزم تنویر وہاں سے نکلنے میں کامیاب ہو گیا، بعد ازاں ملزم تنویر ، اسکے بھائی و دیگر افراد کو حراست میں لیا گیا۔
جوڈیشل مجسٹریٹ ضلع کچہری نےخاتون اےایس پی کو ہراساں کرنے والےسی ایس پی افسر ملزم بشارت علی کا چار روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرتے ہوئے این سی سی آئی اے کےحوالے کردیا،ملزم کے خلاف اے ایس پی نے مقدمہ درج کروایا تھا، دونوں افسران کا تعلق ایک ہی کامن سے تھا۔



