column and articlelatest news

خالد حسین تھتھال لفظوں میں محفوظ پنجابی تہذیب کا مسافر

شہزاد فراموش

کچھ لوگ دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں، مگر اپنی زبان کے لفظوں، عہد کی یادوں میں اور لوگوں کے دلوں میں ایسی جگہ بنا جاتے ہیں جہاں وقت کی گرد بھی نہیں پہنچ پاتی۔ ان کی زندگی کا سفر تمام ہو جاتا ہے،مگر ان کے قلم سے پھوٹنے والی روشنی نئے راستوں کو منور کرتی رہتی ہے۔ خالد حسین تھتھال بھی انہی اہلِ قلم میں سے تھے جنہوں نے اپنی زندگی پنجابی زبان و ادب کی خدمت، تہذیبی ورثے کی بازیافت اور انسانی تجربات کو لفظوں میں محفوظ کرنے کے لیے وقف کیے رکھی۔اسی روشن ادبی ورثے کو یاد کرنے، ان کے فن کی تہہ داریوں کو سمجھنے اور ان کی شخصیت سے وابستہ یادوں کو تازہ کرنے کے لیے ناروے کے شہر اوسلو کے ”میلہ ہاؤس“میں ایک خصوصی تقریب کا اہتمام بھی کیا جا رہا ہے۔

حلقہ اربابِ ذوق، اوسلو، ناروے اور خالد حسین تھتھال میموریل سوسائٹی کے اشتراک سے منعقد ہونے والی اس تقریب کو”خالد حسین تھتھال کی یادوں سے مہکتی شام“کا عنوان دیا گیا ہے۔ یہ ادبی اجتماع اس قلم کار کے نام ایک محبت بھرا اعتراف ہے جس نے دیارِ غیر میں رہتے ہوئے بھی اپنی مٹی، بولی اور تہذیبی شناخت سے رشتہ کبھی کمزور نہیں ہونے دیا۔

تقریب کے انتظامی امور کی ذمہ داری نعیم طارق تھتھال اور آفتاب وڑائچ سنبھالیں گے، جب کہ خالد حسین تھتھال کے فن اور شخصیت کے مختلف پہلوؤں پر پرویز اقبال، ارشد بٹ، نعیم طارق تھتھال، آفتاب وڑائچ اور اعظم ملک اظہارِ خیال کریں گے۔ پاکستان سے معروف ناول نگار، شاعر اور خالد حسین تھتھال کے دیرینہ دوست پروفیسر زاہد حسن خصوصی مہمان کی حیثیت سے شرکت کریں گے۔ ان کی شرکت اس شام کو دوستی، ادبی رفاقت اور مشترکہ یادوں کی ایک ایسی معنویت عطا کرے گی جسے رسمی الفاظ میں سمیٹنا ممکن نہیں۔

ناروے میں مقیم خالد حسین تھتھال کے عزیز و اقارب اور احباب ہر سال ان کی یاد میں تقریب منعقد کرتے ہیں۔ یہ مسلسل اہتمام اس حقیقت کا اظہار ہے کہ کسی تخلیق کار سے محبت اس کی زندگی تک محدود نہیں رہتی بلکہ اس کے بعد بھی اس کے لفظ، اس کے خیالات اور اس کی زبان سے وابستگی زندہ رہتی ہے۔خالد حسین تھتھال میموریل سوسائٹی ناروے، نے ان کی یاد کو سالانہ تقریب تک محدود رکھنے کے بجائے اسے پنجابی زبان و ادب کی خدمت کا مستقل حوالہ بنا دیا ہے۔ سوسائٹی کی جانب سے ہر سال پنجابی زبان میں شائع ہونے والی شاعری، فکشن، تحقیق اور تنقید کی اہم کتابوں کو ایوارڈز دیئے جاتے ہیں۔ ان ایوارڈز کے ذریعے ان تخلیقی کاوشوں کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے جو پنجابی ادب کے دامن کو وسعت دیتی اور اس کی فکری و فنی روایت کو آگے بڑھاتی ہیں۔ان کتابوں کا انتخاب پنجابی زبان و ادب کے اہم لکھنے والوں پر مشتمل جیوری کرتی ہے۔ مقابلے میں اول، دوم اور سوم آنے والی کتابوں کے مصنفین کو شیلڈز کے ساتھ نقد انعامات بھی دیئے جاتے ہیں۔ ایوارڈز کی تقسیم کی یہ تقریب ہر سال لاہور کے پنجاب ہاؤس میں منعقد ہوتی ہے۔یوں خالد حسین تھتھال کی یاد ایک شخص کی یاد سے نکل کر ایک ادبی مقصد میں ڈھل گئی ہے۔ایک ایسا مقصد جس میں نئی کتابوں کی پذیرائی، اہلِ قلم کی حوصلہ افزائی اور پنجابی زبان کے تخلیقی مستقبل سے وابستگی شامل ہے۔ یہ کسی قلم کار کو خراجِ تحسین پیش کرنے کا وہ بامعنی طریقہ ہے جس میں یادگاریں آنے والے وقت کے لیے روشنی پھیلاتی ہیں۔

خالد حسین تھتھال کا شمار پنجابی زبان کے اہم اور معتبر لکھنے والوں میں ہوتا ہے۔ وہ 23 نومبر 1953ء کو گاؤں مہمد چک، کھاریاں ضلع گجرات میں چودھری غلام نبی کے گھر پیدا ہوئے۔ ان کی زندگی کا سفر 16 اگست 2021ء کو اوسلو، ناروے میں 68برس کی عمر میں اختتام پذیر ہوا۔ ان کے علمی و ادبی سفر کی بازگشت ان کی تحریروں، کتابوں اور پنجابی زبان کے لیے ان کی خدمات میں آج بھی سنائی دیتی ہے۔ان کی شخصیت کا ایک نمایاں وصف علم کی وسعت اور فکر کی جستجو تھا۔ انہوں نے اوسلو یونیورسٹی، ناروے سے سوشل انتھروپولوجی میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔ اس کے ساتھ ہسٹری آف آئیڈیاز اور جنرل اینڈ کمپیریٹو لٹریچر کا مطالعہ بھی کیا۔ جنیوا میں اقوامِ متحدہ کے ڈائریکٹر جنرل آفس کی انفارمیشن سروس سے متعلق گریجویٹ کورس ان کے علمی سفر کا ایک اور اہم حوالہ ہے۔ان کے علمی مشاغل اور ادبی دلچسپیوں میں انسانی معاشرے، تہذیب، تاریخ اور ادب کے باہمی رشتوں کو سمجھنے کی جستجو نمایاں تھی۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ان کی تحریروں میں پنجابی زندگی اپنی تاریخ، ثقافت، زبان اور اجتماعی حافظے سمیت جلوہ گر ہوتی ہے۔

ناروے میں قیام کے دوران انہوں نے ریڈیو ناروے کی اردو سروس سے کئی برس تک معلوماتی پروگرام”بات سے بات“ پیش کیا۔ یہ پروگرام ان کی علمی دلچسپی اور ابلاغی صلاحیت کا مظہر تھا۔ اس کے علاوہ وہ اوسلو میں ادبی سنگت کو بھی کئی برس تک نہایت اہتمام سے چلاتے رہے۔ دیارِ غیر میں ادبی محفلوں کا تسلسل برقرار رکھنا اور اپنی زبان کے لکھنے والوں اور پڑھنے والوں کو ایک جگہ جمع کرنا بذاتِ خود ایک ایسی خدمت ہے جس کے اثرات ایک تقریب یا ایک زمانے تک محدود نہیں رہتے۔

خالد حسین تھتھال کی ادبی زندگی کا کینوس مختلف اصناف پر پھیلا ہوا ہے۔ ان کی تخلیقات میں شاعری، کہانی، مضامین، سفرنامے، تحقیق اور تنقید شامل ہیں۔ یہ تنوع ان کے قلم کی وسعت کے ساتھ ساتھ پنجابی زبان کے مختلف امکانات سے ان کی گہری وابستگی کا پتا دیتا ہے۔ان کی پنجابی کہانیوں کا مجموعہ ”نویں لو“ 1985ء میں شائع ہوا، جب کہ شعری مجموعہ”انملے پھل“ 1991ء میں منظرِ عام پر آیا۔ ان کا اگلا شعری مجموعہ”تلی اُتے چھالے“ 2002ء میں شائع ہوا۔ اس کے بعد مضامین کی کتاب ”بھنڈا بھنڈار“ 2003ء میں سامنے آئی، جس میں ان کے فکری و نثری اظہار کے مختلف رنگ دیکھے جا سکتے ہیں۔ ان کے شعری مجموعے”سفنے بیجے برف وچ“ کومسعود کھدر پوش ایوارڈ سے نوازا گیا۔ ان کی زندگی کے موسموں اور انسانی تجربات سے جڑی تخلیقی کائنات کا ایک اور حوالہ”جیون، جوبن رت بہار“ ہے، جو2016ء میں ”جیون،جوبن،رُت بہار“ شائع ہوئی۔ 2021ء میں ان کی تحقیقی اور تنقیدی تحریروں کو یکجا کرنے والی کتاب”پندھ حیاتی دا“ 2023ء میں شائع ہوئی۔جس کی تدوین زاہد حسن اور نعیم طارق تھتھال نے کی۔ اس کتاب میں ان کی ادبی و فکری کاوشوں کے ساتھ ساتھ ان کے مطالعے، مشاہدے اور تنقیدی شعور سے آگاہی حاصل ہوتی ہے۔ان کا اردو شعری مجموعہ”پیار کے دیپ“ زیرِ اشاعت ہے، جب کہ ان کی پنجابی شاعری اور کہانیوں کی بعض کتابیں ابھی اشاعت کی منتظر ہیں۔ یہ غیر مطبوعہ کام ان کے ادبی سرمائے کا وہ حصہ ہے جس سے قارئین کو مستقبل میں مزید شناسائی حاصل ہو سکے گی۔

خالد حسین تھتھال کی تصانیف میں پنجابی زبان کی قدیم لفظیات، ثقافت، تہذیب اور تاریخ کو نمایاں کرنے کی ایک سنجیدہ کوشش دکھائی دیتی ہے۔ انہوں نے زبان کے ان گوشوں کی طرف توجہ دلائی جن میں ایک قوم کا اجتماعی حافظہ، اس کے رہن سہن کے نقش، اس کی فکری تشکیل اور اس کے تاریخی تجربات محفوظ ہوتے ہیں۔کسی زبان کے قدیم لفظوں کے اندر نسلوں کی زندگی، موسموں کی خوشبو، رشتوں کی حرارت اور گزرے ہوئے زمانوں کی آوازیں آباد ہوتی ہیں۔ خالد حسین تھتھال نے اپنی تحریروں کے ذریعے اس لسانی اور تہذیبی سرمائے کو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کا کام اس اعتبار سے بھی اہم ہے کہ زبان کی خدمت کو انہوں نے تخلیق کے ساتھ تحقیق، مطالعے اور تاریخی شعور سے جوڑا۔انہوں نے سفرنامے بھی تحریر کیے، جو ان کی کتاب ”بھنڈا بھنڈار“ میں شامل ہیں۔ سفر ان کے لیے مقامات کی تبدیلی یا راستوں کی روداد کے بجائے مختلف معاشروں، انسانی رویوں اور زندگی کے نئے تجربات کو دیکھنے اور سمجھنے کا وسیلہ بھی تھا۔اسی طرح ویب سائٹ ”اپنا“ اور ”او آر جی“ پر شائع ہونے والے ان کے اہم اور سنجیدہ موضوعات پر مبنی کالموں کو ”پندھ حیاتی دا“ میں شامل کیا گیا۔ ان تحریروں میں ان کے مشاہدے، مطالعے اور فکری دلچسپیوں کے مختلف پہلو محفوظ ہیں۔اس طرح ان کا قلم شاعری اور کہانی کی تخلیقی دنیا سے نکل کر سماجی، تہذیبی اور فکری مباحث تک بھی پہنچتا ہے۔

میلہ ہاؤس اوسلو، ناروے میں منعقد ہونے والی”خالد حسین تھتھال کی یادوں سے مہکتی شام“ دراصل اس ادیب کی مادری زبان کے لیے خدمات کا اعتراف ہے جس نے اپنی تخلیقی زندگی میں پنجابی لفظ، پنجابی ثقافت اور پنجابی تاریخ کو اہمیت دی۔ یہ تقریب ان کے فن اور شخصیت پر گفتگو کا موقع فراہم کرنے کے ساتھ اس ادبی روایت کی یاد دہانی بھی ہے جس میں زبان سے محبت کو عملی خدمت میں ڈھالا جاتا ہے۔خالد حسین تھتھال کی زندگی ہمیں یہ احساس دلاتی ہے کہ وطن سے دوری اور اپنی مٹی سے دوری ایک ہی بات نہیں۔ انسان جغرافیے کی سرحدیں عبور کر سکتا ہے، مگر اس کی زبان اس کے اندر اپنا ایک وطن آباد رکھتی ہے۔ یہی وطن کبھی نظم میں بولتا ہے، کبھی کہانی میں اپنا دکھ بیان کرتا ہے، کبھی تحقیق کے ذریعے اپنے ماضی کے نشان تلاش کرتا ہے اور کبھی تنقید کے آئینے میں اپنی ادبی روایت کو پہچانتا ہے۔
خالد حسین تھتھال نے ان مختلف راستوں پر چلتے ہوئے پنجابی زبان کے لیے جو کام کیا، وہ ان کی شخصیت کا مستقل حوالہ ہے۔

ان کے نام سے قائم میموریل سوسائٹی کا ادبی ایوارڈز کا سلسلہ اس حوالہ کو مزید وسعت دیتا ہے، کیونکہ کسی زبان سے محبت کا سب سے معتبر اظہار یہی ہے کہ اس میں تخلیق کرنے والوں کو پہچانا جائے، ان کی کتابوں کو پڑھا جائے اور ان کے کام کو نئی نسلوں تک پہنچایا جائے۔کسی ادیب کی اصل یادگار سنگِ مرمر پر کندہ اس کا نام نہیں ہی نہیں بلکہ وہ لفظ ہوتے ہیں جو اس کے بعد بھی زندہ رہتے ہیں۔ خالد حسین تھتھال کی یاد میں سجنے والی یہ شام انہی لفظوں، رشتوں اور اسی لسانی وفا کی شام ہے۔ ایسی شام جس کی روشنی اوسلو سے اٹھ کر پنجاب کی مٹی تک پہنچتی ہے اور یاد دلاتی ہے کہ زبانیں صرف بولی نہیں جاتیں، جیتی بھی جاتی ہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button