Businesslatest news

لاہور جم خانہ کلب کا سالانہ کرایہ 5 ہزار روپے ناکافی قرار، 10 ملین روے کرنے کی تجویز

لاہور(عمران اسلم) لاہور جم خانہ کلب کے چیئرمین نے تسلیم کیا ہے کہ سرکاری اراضی کے 100 ایکڑ سے زائد رقبے کا سالانہ کرایہ 5 ہزار روپے انتہائی ناکافی ہے اور اسے کم از کم ایک کروڑ روپے سالانہ ہونا چاہیے، جس پر پنجاب اسمبلی کی خصوصی کمیٹی نے کئی دہائیوں سے جاری اس معاہدے کی نگرانی اور سرکاری اراضی کی مناسب قیمت وصول نہ کرنے پر سوالات اٹھا دیے۔

پنجاب اسمبلی کی خصوصی کمیٹی نمبر 6 کا اجلاس بدھ کو رکن صوبائی اسمبلی سمیع اللہ خان کی زیر صدارت ہوا، جس میں لاہور جم خانہ کلب کو انتہائی معمولی سالانہ کرائے پر دی گئی 100 ایکڑ سے زائد قیمتی سرکاری اراضی کے معاملے کا جائزہ لیا گیا۔

کمیٹی نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ سرکاری اداروں نے کئی دہائیوں تک اس انتظام کو مناسب مالیت کے تعین، مؤثر نگرانی اور لیز کی شرائط کی جانچ پڑتال کے بغیر کیسے جاری رہنے دیا۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ زیر استعمال اراضی کی تخمینہ شدہ مالیت 76 ارب روپے سے 218 ارب روپے کے درمیان ہے۔

کمیٹی ارکان نے سوال اٹھایا کہ اتنی بڑی مالیت کے سرکاری اثاثے سے حکومت مناسب مالی فائدہ حاصل کرنے میں کیوں ناکام رہی۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی ادارے کی خودمختاری اسے سرکاری اراضی کے استعمال اور اس سے متعلق معاملات میں جواب دہی سے مستثنیٰ نہیں کرسکتی۔

اجلاس میں کلب کی انتظامیہ کے دیگر ارکان کے ہمراہ پیش ہونے والے چیئرمین سلمان صدیق نے ارکان کے تحفظات کو تسلیم کیا اور متعلقہ ریکارڈ فراہم کرنے کے ساتھ انکوائری میں مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

سلمان صدیق نے کہا کہ وہ خود بھی سالانہ کرائے کی معمولی رقم پر حیران ہیں، خصوصاً اس تناظر میں کہ کلب کے زیر استعمال اراضی کا رقبہ بہت زیادہ ہے اور اس کی مالی حالت بھی بہتر ہوچکی ہے۔

انہوں نے کلب کی موجودہ مالی حیثیت کا موازنہ 1990 کی دہائی میں درپیش مالی مشکلات سے کرتے ہوئے کہا کہ سالانہ کرایہ کم از کم ایک کروڑ روپے ہونا چاہیے۔

کمیٹی ارکان کے مطابق چیئرمین کے اس اعتراف نے اس معاملے کی تحقیقات کی ضرورت مزید بڑھا دی ہے کہ یکے بعد دیگرے آنے والی حکومتوں نے اس انتظام کا جائزہ کیوں نہیں لیا اور اسے کئی دہائیوں تک معمولی کرائے پر کیسے جاری رہنے دیا۔

ارکان نے زور دیا کہ سرکاری اثاثوں کا تحفظ متعلقہ حکومتی اداروں کی ذمہ داری ہے، جنہیں لیز کی شرائط پر عمل درآمد یقینی بنانے، سرکاری اراضی کے مناسب استعمال اور ذمہ داران کے احتساب کے لیے مؤثر اقدامات کرنا چاہییں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button