latest newsPolitics

عمران خان کی بہنوں کی مسلسل حراست، لاہور ہائیکورٹ کا ہوم سیکرٹری اور سپرنٹنڈنٹ جیل طلب

لاہور(عمران اسلم) لاہور ہائیکورٹ نے تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کی تین بہنوں کو 30 روزہ نظر بندی کی مدت ختم ہونے کے باوجود حراست میں رکھنے کے معاملے پر پنجاب کے ہوم سیکرٹری اور سپرنٹنڈنٹ کوٹ لکھپت جیل کو طلب کرلیا۔

جسٹس ابر گل خان نے کیس کی مزید سماعت 28 اکتوبر تک ملتوی کرتے ہوئے دونوں افسران کو عدالت میں پیش ہونے اور وضاحت دینے کی ہدایت کی کہ علیمہ خان، عظمیٰ خان اور نورین نیازی کی نظر بندی کی مدت ختم ہونے کے باوجود انہیں حراست میں کیوں رکھا گیا ہے۔

عمران خان کی تینوں بہنوں کو ستمبر میں پنجاب مینٹیننس آف پبلک آرڈر (ایم پی او) آرڈیننس 1960 کی دفعہ 3 کے تحت اس وقت حراست میں لیا گیا تھا جب پی ٹی آئی نے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب احتجاجی مارچ کا اعلان کیا تھا۔ علیمہ خان کو 20 ستمبر جبکہ عظمیٰ خان اور نورین نیازی کو 21 ستمبر کو گرفتار کیا گیا تھا۔

لاہور کے ڈپٹی کمشنر نے تینوں خواتین کی 30 روزہ نظر بندی کے احکامات جاری کیے تھے۔ ان احکامات میں پولیس رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ خواتین کی سرگرمیاں عوامی تحفظ اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔

تینوں بہنوں نے لاہور ہائیکورٹ میں نظر بندی کے احکامات کو چیلنج کرتے ہوئے انہیں کالعدم قرار دینے اور فوری رہائی کی استدعا کی تھی۔ عدالت نے 25 ستمبر کو عظمیٰ خان اور نورین نیازی کی نظر بندی کے نوٹیفکیشن معطل کرنے سے اس مرحلے پر انکار کرتے ہوئے متعلقہ حکام سے جواب طلب کیا تھا۔

عمران خان کی بہنوں کی رہائی کے لیے نئی درخواست علیمہ خان کے بیٹے شہرز خان نے دائر کی تھی، جس میں تینوں خواتین کو بازیاب کرا کے عدالت میں پیش کرنے اور رہا کرنے کی استدعا کی گئی۔

جمعرات کو سماعت کے دوران جسٹس ابر گل خان نے درخواست گزار کے وکیل رانا مدثر عمر سے استفسار کیا کہ لاہور کے ڈپٹی کمشنر کو درخواست میں فریق کیوں نہیں بنایا گیا۔

وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ڈپٹی کمشنر کو فریق نہیں بنایا گیا کیونکہ ان کی جانب سے جاری کردہ نظر بندی کا نوٹیفکیشن اپنی مدت پوری کرچکا ہے۔

اس موقع پر عظمیٰ خان کے شوہر احد خان بھی روسٹرم پر آئے اور عدالت سے استدعا کی کہ ڈپٹی کمشنر کو بھی طلب کیا جائے۔

جسٹس ابر گل خان نے ریمارکس دیے کہ ڈپٹی کمشنر کو تو درخواست میں فریق بھی نہیں بنایا گیا، جس پر عدالت نے درخواست گزار کے وکیل کو ہدایت کی کہ وہ اس معاملے پر احد خان کو مطمئن کریں۔

شہرز خان نے بدھ کو لاہور ہائیکورٹ میں نئی درخواست دائر کی تھی، جس میں اپنی والدہ علیمہ خان اور ان کی بہنوں کی رہائی اور عدالت میں پیشی کی استدعا کی گئی۔

ایڈووکیٹ رانا مدثر عمر کے توسط سے دائر درخواست میں پنجاب کے ہوم سیکرٹری، انسپکٹر جنرل پولیس، کیپیٹل سٹی پولیس آفیسر اور سپرنٹنڈنٹ کوٹ لکھپت جیل کو فریق بنایا گیا ہے۔

درخواست کے مطابق تینوں خواتین کی 30 روزہ نظر بندی کے احکامات 20 ستمبر کو جاری کیے گئے تھے، جن کی مدت 19 اکتوبر کو ختم ہوگئی، تاہم رہائی کی درخواستوں کے باوجود انہیں جیل میں رکھا گیا ہے۔

درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ نظر بندی کی مدت ختم ہونے کے بعد بھی حراست جاری رکھنا غیر قانونی اور بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ درخواست میں یہ بھی کہا گیا کہ تینوں خواتین کسی فوجداری مقدمے میں مطلوب نہیں ہیں اور رہائی نہ ملنے کی صورت میں انہیں مبینہ طور پر جھوٹے مقدمات میں ملوث کیے جانے کا خدشہ ہے۔

درخواست میں مزید مؤقف اپنایا گیا کہ ان کی نظر بندی کی وجہ اپنے بھائی عمران خان کی رہائی کے لیے کوششیں کرنا ہے، جبکہ احتیاطی نظر بندی کو عام فوجداری قانون کا متبادل نہیں بنایا جا سکتا۔

درخواست گزار نے آئین کے آرٹیکل 10 اور پنجاب ایم پی او آرڈیننس 1960 کی دفعہ 3 کے تحت نظر بندی کے احکامات کو چیلنج کرتے ہوئے استدعا کی کہ انہیں غیر قانونی قرار دیا جائے، سپرنٹنڈنٹ کوٹ لکھپت جیل کو تینوں خواتین عدالت میں پیش کرنے اور فوری رہا کرنے کا حکم دیا جائے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button