لائبہ خودکشی کیس کا ملزم نعمان اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک

اسلام آباد: امریکا میں اعلیٰ تعلیم اور اسکالرشپ کے لیے جانے کی خواہشمند طالبہ لائبہ اعجاز کی مبینہ خودکشی کے مقدمے میں نامزد ملزم نعمان پولیس حراست کے دوران اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہوگیا۔
اسلام آباد پولیس کے ترجمان کے مطابق پولیس ٹیم ملزم نعمان کو برآمدگی کے لیے اس کی نشاندہی پر لے جا رہی تھی کہ تھانہ رمنا کی حدود میں دو موٹر سائیکلوں پر سوار چار ملزمان نے اسے چھڑوانے کے لیے پولیس ٹیم پر فائرنگ کردی۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ فائرنگ کے دوران ملزم نعمان اپنے ہی ساتھیوں کی گولیوں کا نشانہ بن کر زخمی ہوگیا۔ اسے فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم وہ جانبر نہ ہوسکا۔
اسلام آباد پولیس کے مطابق بلٹ پروف جیکٹس اور دیگر حفاظتی اقدامات کے باعث پولیس ٹیم محفوظ رہی۔ واقعے کے بعد ملزم کے دیگر ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کردیا گیا ہے۔
پولیس ترجمان کے مطابق نعمان تھانہ رمنا کی حدود میں پیش آنے والے لائبہ کی مبینہ خودکشی کے واقعے سے متعلق مقدمے میں نامزد تھا۔
ہارورڈ یونیورسٹی میں داخلے اور اسکالرشپ کے نام پر فراڈ
واضح رہے کہ لائبہ اعجاز امریکا کی معروف ہارورڈ یونیورسٹی میں داخلے اور اسکالرشپ حاصل کرکے اعلیٰ تعلیم کے حصول کی خواہشمند تھی۔ الزام ہے کہ ملزم نعمان نے اسے یونیورسٹی میں داخلے اور اسکالرشپ دلوانے کے نام پر دھوکا دیا اور جعلی ایڈمیشن لیٹرز، اسکالرشپ دستاویزات اور فیس کی رسیدیں فراہم کیں۔
مقدمے کی ایف آئی آر کے مطابق لائبہ اعجاز سے امریکی ویزا اور اسکالرشپ دلوانے کے نام پر مبینہ طور پر 93 لاکھ روپے وصول کیے گئے تھے۔
امریکا میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے اور اسکالرشپ کا خواب پورا نہ ہونے، بھاری مالی نقصان اور مبینہ فراڈ کے باعث ذہنی اذیت کا سامنا کرنے والی لائبہ نے 9 اکتوبر کو مبینہ طور پر گلے میں پھندا ڈال کر خودکشی کرلی تھی۔
واقعے نے طالب علموں کو بیرون ملک تعلیم دلوانے کے نام پر مبینہ فراڈ اور جعلی تعلیمی دستاویزات کے ذریعے رقم بٹورنے کے معاملات پر بھی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ پولیس ملزم کے دیگر ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے کارروائی جاری رکھے ہوئے ہے۔



