Businesslatest news

وزیراعظم نے نئی آٹو پالیسی 2026-31 کی منظوری دے دی، گاڑیوں کی برآمدات 6 ارب ڈالر تک بڑھانے کا ہدف

اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے نئی آٹو پالیسی 2026-31 کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت آئندہ پانچ سال میں گاڑیوں کی برآمدات 6 ارب ڈالر تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ پالیسی میں الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ، مقامی آٹو انڈسٹری کی ترقی، برآمدات میں اضافے اور صارفین کے تحفظ کے لیے متعدد اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔

نئی آٹو پالیسی کے تحت 15 ہزار ڈالر سے کم مالیت کی چھوٹی الیکٹرک گاڑیوں پر کم ٹیرف متعارف کرانے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ الیکٹرک گاڑیوں کی خریداری کے لیے فنانسنگ کی حد 30 لاکھ روپے سے بڑھا کر ایک کروڑ روپے کرنے اور قرض کی مدت تین سال سے بڑھا کر پانچ سال کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔

پالیسی کے تحت ایک ہزار سی سی سے بڑی گاڑیوں پر آٹوموٹیو ڈیولپمنٹ لیوی عائد کی جائے گی، جبکہ آٹو پارٹس تیار کرنے والی کمپنیوں کی برآمدات 2030-31 تک 1.2 ارب ڈالر تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں کے لیے لازمی برآمدی اہداف مقرر کیے جائیں گے۔ برآمدات بڑھانے والی کمپنیوں کو برآمدی مالیت کا پانچ فیصد معاوضہ دینے کی تجویز ہے، جبکہ گزشتہ سال کے مقابلے میں اضافی برآمدات پر مزید 10 فیصد مراعات بھی دی جائیں گی۔

پالیسی میں برآمدی اہداف پورے نہ کرنے والی کمپنیوں پر جرمانے عائد کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔ مسلسل دو سال تک اہداف حاصل نہ کرنے والی کمپنیوں کے مینوفیکچرنگ سرٹیفکیٹ منسوخ کیے جا سکیں گے، جبکہ مسلسل ناکامی کی صورت میں انہیں دی جانے والی مراعات بھی واپس لے لی جائیں گی۔

حکومت نے پانچ سال کے دوران آٹوموٹیو ڈیولپمنٹ لیوی کی مد میں 232 ارب روپے سے زائد وصولیوں کا تخمینہ لگایا ہے۔ اس رقم سے برآمدی مراعات اور صنعتی ترقی کے پروگراموں کو مالی معاونت فراہم کی جائے گی۔

نئی پالیسی میں آٹو پارٹس مینوفیکچررز کی ٹیکنالوجی اپ گریڈیشن کے لیے فنڈز مختص کرنے، پاکستان آٹوموٹیو ٹیسٹنگ انسٹی ٹیوٹ قائم کرنے اور آٹو سیکٹر میں تحقیق، سرٹیفکیشن اور تھرڈ پارٹی آڈٹ کے لیے مالی معاونت فراہم کرنے کی تجاویز بھی شامل ہیں۔

صارفین کے تحفظ اور گاڑیوں کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے مقامی اور درآمدی گاڑیوں پر عالمی حفاظتی ضوابط نافذ کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ آٹو کمپنیوں کے معاہدوں میں خریداروں کے حقوق کے تحفظ سے متعلق شرائط شامل کی جائیں گی، جبکہ آٹو سیکٹر کا سال میں دو مرتبہ تھرڈ پارٹی آڈٹ کرانے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔

پالیسی میں آٹو انڈسٹری کے لیے ہنرمند افرادی قوت تیار کرنے اور کارکنوں کی تربیت کے نئے اہداف مقرر کرنے پر بھی زور دیا گیا ہے۔ آٹوموٹیو ڈیولپمنٹ لیوی سے متعلق قانون سازی دسمبر 2026 تک مکمل کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔

حکومتی منصوبے کے مطابق نئی آٹو پالیسی کے ذریعے مقامی صنعت کی پیداواری صلاحیت بڑھانے، برآمدات کو فروغ دینے، الیکٹرک گاڑیوں کی خریداری آسان بنانے اور پاکستان کی آٹو انڈسٹری کو عالمی منڈیوں میں مسابقت کے قابل بنانے کی کوشش کی جائے گی۔ پالیسی کو حتمی منظوری کے لیے وفاقی کابینہ میں پیش کیا جائے گا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button