دیہاتوں میں غربت، حکومت ورلڈ بنک کی رپورٹ پر توجہ دے، چودھری سرور
80 فیصد غریب دیہاتوں میں رہتے ہیں،، حکومت کے معاشی ماہرین ورلڈ بنک کی اس ہوشربا رپورٹ پر توجہ دیں

لاہور (فیصل علوی) سابق گورنر پنجاب چودھری محمد سرور نے کہا ہے کہ ورلڈ بنک نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ 80فیصد انتہائی غریب آبادی دیہات رہتی ہے، جہاں نہ کوئی روزگار کے مواقع ہیں اور نہ تعلیم، صحت کی تسلی بخش سہولیات ہیں، امیر لوگ ماہانہ اپنی آمدن کا 20 سے 30 فیصد خوراک پر خرچ کرتے ہیں جبکہ دیہات میں رہنے والے خوراک پر ماہانہ اپنی آمدن کا 70 سے 80 فیصد خرچ کرتے ہیں، یہ فرق غیر منصفانہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے قومی وسائل چند شہروں پرخرچ ہورہے ہیں۔اربوں روپے کے منصوبے صرف شہروں کیلئے بنتے ہیں،دیہات کی تعمیر و ترقی کا پیسہ بھی شہروں کے فینسی منصوبوں میں خرچ کر دیا جاتا ہے،ون مین شو اور فنانشل مس مینجمنٹ کی وجہ سے امیر اور غریب کے درمیان معاشی عدم مساوات کا گراف دن بدن اوپر جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم بلاجواز تنقید نہیں چاہتے، بحثیت پاکستانی امیر اور غریب کے درمیان فاصلہ دیکھ کر دکھ ہوتا ہے، پاکستان کے قومی وسائل پر پاکستان کے ہر شہری کا یکساں حق ہے، ریاست کے ہر شہری کے بچوں کو تعلیم کے حصول اور روزگار پر یکساں حق حاصل ہے، عوام کے منتخب ایوانوں کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ ہر قسم کی معاشی و سماجی عدم مساوات کا خاتمہ کریں۔
انہوں نے کہا کہ دیہات میں بڑھتے ہوئے مالی و سماجی مسائل کی وجہ سے سرور فاؤنڈیشن نے ریموٹ ایریاز میں تعلیم، صحت صاف پانی کے منصوبہ جات شروع کر رکھے ہیں، ٹوبہ ٹیک سنگھ پیر محل میں نیشنل سٹینڈرڈ کا سکول، رجانہ اور چیچہ وطنی میں سٹیٹ آف دی آرٹ ہسپتال قائم کئے ہیں، صاف پانی کی فراہمی اور خواتین کو ہنر مند بنانے کا ایک فلاحی منصوبہ ”ہنرگاہ” بھی کام کر رہا ہے۔
سرور فاؤنڈیشن کے فلاحی منصوبہ جات سے مستفید ہونے والوں کی تعداد لاکھوں میں ہے، تاہم این جی اوز کی کوششوں سے نہیں ریاست کے وسائل کے مساوی اور منصفانہ استعمال سے عام آدمی کی زندگی میں تبدیلی آئے گی، انہوں نے کہا کہ جس طرح صوبے این ایف سی ایوارڈ کے تحت وفاق سے اپنا مالیاتی حصہ وصول کرتے ہیں اسی طرح صوبوں کو چاہیے کہ وہ پی ایف سی ایوارڈ کا اعلان کریں اور ہر ضلع تک ان کا حق پہنچائیں۔



