ریاض ایئرپورٹ محدود شرائط کے ساتھ دوبارہ کھول دیا گیا، کمرشل پروازیں تاحال بند

سعودی سول ایوی ایشن اتھارٹی کے جاری کردہ تازہ نوٹم نمبر A3650/26 کے مطابق ریاض ایئرپورٹ پر آنے اور روانہ ہونے والی پروازوں کے لیے متعلقہ ایوی ایشن اتھارٹی سے پیشگی اجازت لینا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ سکیورٹی وجوہات کی بنا پر ہنگامی حالات میں بھی ریاض ایئرپورٹ کو متبادل ایئرپورٹ کے طور پر استعمال کرنے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
فلائٹ ٹریکنگ ویب سائٹ فلائٹ ریڈار کی تازہ رپورٹ کے مطابق ایئرپورٹ دوبارہ کھلنے کے باوجود فی الحال صرف نجی اور کارگو پروازیں آپریٹ کر رہی ہیں، جبکہ کسی بھی کمرشل مسافر ایئرلائن کی جانب سے پروازوں کے لیے پیشگی اجازت کی درخواست سامنے نہیں آئی۔
رپورٹ کے مطابق 11 روزہ بندش کے دوران ریاض ایئرپورٹ کی تقریباً 8,250 پروازیں منسوخ ہوئیں یا غیر فعال رہیں، جس کے نتیجے میں ایئرلائنز اور ایئرپورٹ کو کروڑوں ڈالر کے مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ حالیہ حملوں میں ایئرپورٹ کی عمارتوں اور کم از کم چھ طیاروں کو بھی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔
سکیورٹی خدشات کے پیش نظر 22 مختلف ایئرلائنز نے اپنے تقریباً 80 قیمتی طیارے ریاض سے محفوظ ایئرپورٹس پر منتقل کر دیے ہیں۔ بین الاقوامی ایئرلائنز تاحال ریاض کے لیے پروازیں بحال کرنے میں محتاط دکھائی دے رہی ہیں، جبکہ متعدد بڑی فضائی کمپنیوں نے اپنی پروازیں طویل مدت کے لیے معطل کر رکھی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق قطر ایئرویز اور اتحاد ایئرویز نے 24 اکتوبر تک، کے ایل ایم نے 31 اکتوبر تک، لفتھانزا نے 18 نومبر تک، جبکہ کیتھے پیسیفک نے جنوری 2027 کے اختتام تک ریاض کے لیے اپنا فضائی آپریشن معطل رکھا ہے۔
ایئرپورٹ کو محدود شرائط کے تحت دوبارہ کھولنے کے باوجود کمرشل پروازوں کی بحالی سکیورٹی صورتحال اور متعلقہ حکام کی اجازت سے مشروط ہے، جبکہ بین الاقوامی فضائی آپریشن معمول پر آنے کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔
سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو حوثی باغیوں کے حالیہ حملوں کے بعد 10 اکتوبر سے عارضی طور پر بند رکھنے کے بعد محدود پیمانے پر فضائی ٹریفک کے لیے دوبارہ کھول دیا گیا ہے، تاہم سکیورٹی خدشات کے باعث ایئرپورٹ پر آپریشنز کے لیے سخت شرائط عائد کی گئی ہیں۔
سعودی سول ایوی ایشن اتھارٹی کے جاری کردہ تازہ نوٹم نمبر A3650/26 کے مطابق ریاض ایئرپورٹ پر آنے اور روانہ ہونے والی پروازوں کے لیے متعلقہ ایوی ایشن اتھارٹی سے پیشگی اجازت لینا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ سکیورٹی وجوہات کی بنا پر ہنگامی حالات میں بھی ریاض ایئرپورٹ کو متبادل ایئرپورٹ کے طور پر استعمال کرنے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
فلائٹ ٹریکنگ ویب سائٹ فلائٹ ریڈار کی تازہ رپورٹ کے مطابق ایئرپورٹ دوبارہ کھلنے کے باوجود فی الحال صرف نجی اور کارگو پروازیں آپریٹ کر رہی ہیں، جبکہ کسی بھی کمرشل مسافر ایئرلائن کی جانب سے پروازوں کے لیے پیشگی اجازت کی درخواست سامنے نہیں آئی۔
رپورٹ کے مطابق 11 روزہ بندش کے دوران ریاض ایئرپورٹ کی تقریباً 8,250 پروازیں منسوخ ہوئیں یا غیر فعال رہیں، جس کے نتیجے میں ایئرلائنز اور ایئرپورٹ کو کروڑوں ڈالر کے مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ حالیہ حملوں میں ایئرپورٹ کی عمارتوں اور کم از کم چھ طیاروں کو بھی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔
سکیورٹی خدشات کے پیش نظر 22 مختلف ایئرلائنز نے اپنے تقریباً 80 قیمتی طیارے ریاض سے محفوظ ایئرپورٹس پر منتقل کر دیے ہیں۔ بین الاقوامی ایئرلائنز تاحال ریاض کے لیے پروازیں بحال کرنے میں محتاط دکھائی دے رہی ہیں، جبکہ متعدد بڑی فضائی کمپنیوں نے اپنی پروازیں طویل مدت کے لیے معطل کر رکھی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق قطر ایئرویز اور اتحاد ایئرویز نے 24 اکتوبر تک، کے ایل ایم نے 31 اکتوبر تک، لفتھانزا نے 18 نومبر تک، جبکہ کیتھے پیسیفک نے جنوری 2027 کے اختتام تک ریاض کے لیے اپنا فضائی آپریشن معطل رکھا ہے۔
ایئرپورٹ کو محدود شرائط کے تحت دوبارہ کھولنے کے باوجود کمرشل پروازوں کی بحالی سکیورٹی صورتحال اور متعلقہ حکام کی اجازت سے مشروط ہے، جبکہ بین الاقوامی فضائی آپریشن معمول پر آنے کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔



