
حلقہ اربابِ ذوق لاہور جسے ایک طویل عرصے سے اردو ادب کی آبیاری، ترویج اور ارتقا کا سرچشمہ تسلیم کیا جاتا رہا ہے، گزشتہ87 برسوں سے فکر و ادب کی شمع روشن کئے ہوئے ہے۔ اب اس کی شاخیں پاک و ہند کی حدود سے نکل کر دیارِ غیر میں بھی علمی و ادبی کرنیں بکھیر رہی ہیں۔ تاہم، اس تاریخی ادارے کی تاریخ میں کچھ ایسے ادوار بھی آئے جن میں حلقے کے الگ الگ دھڑے بنے مگر معیار کو انہوں نے بھی ملحوظ خاطر رکھا۔ لیکن، موجودہ انتظامیہ اور بالخصوص حلقہ کی موجودہ صورت حال کا تجزیہ کرنا وقت کا اہم تقاضا ہے۔

یہ وہی حلقہ اربابِ ذوق ہے جہاں کبھی اعداد و شمار کے بجائے فکر کی بلندی اور تخلیق کے معیار کو اوّلیت دی جاتی تھی۔ مگر افسوس کہ گزشتہ چھ ماہ کے قلیل عرصے میں یہ تابناک روایات یکسر الٹ کر رہ گئی ہیں۔ رکنیت رکھنے والے اہلِ دانش نے موجودہ سیکرٹری آفتاب جاوید پر اعتماد اِس امید کے ساتھ کیا تھا کہ وہ میرا جی، قیوم نظر، منو بھائی، مستنصر حسین تارڑ، شہرت بخاری، یونس جاوید، اصغر ندیم سید اور شاہد محمود ندیم جیسی شخصیات کی یاد تازہ کریں گے اور ادب کے احترام کو مزید جلا بخشیں گے۔ لیکن، افسوس صد افسوس کہ موجودہ قیادت کے زیرِ اہتمام غیر معیاری تحریریں اور بے وزن شاعری پیش کی جا رہی ہے، جس سے شخصی و تجارتی مفادات کے حصول کا تاثر ابھرتا ہے۔

اس تلخ حقیقت کا اظہار اس لیے ضروری ہو گیا ہے کہ ان نشستوں میں ناپختہ اور غیر معیاری تحریروں کی پیش کش کے دوران انتہائی ناخوشگوار واقعات رونما ہوئے۔ ان حالات سے یہی اندازہ ہوتا ہے کہ تحریروں کو اجلاس میں پیش کرنے سے قبل مجلسِ عاملہ کی نظر سے نہیں گزارا جاتا۔ جب کوئی فردِ واحد کسی ادبی تنظیم پر مسلط ہو جائے تو وہ آمرانہ روش اختیار کر لیتا ہے اور جمہوری و علمی مشاورت سے یکسر منہ موڑ لیتا ہے۔ وہ اپنے فیصلے کو حرفِ آخر سمجھ کر یہ بھول جاتا ہے کہ اس منصب پر لانے والوں نے اس سے کیا توقعات وابستہ کی تھیں۔ جملہ افراد کی چاپلوسی کے لیے وہ یہ بھی بھول جاتا ہے کہ مجلسِ عاملہ کے اراکین بھی اس امید میں رہتے ہیں کہ پیش کی جانے والی تحریر کی موزونیت، غزل و نظم کے وزن اور معیار پر ان سے بھی مشورہ لیا جائے گا۔
گزشتہ کئی نشستوں میں غیر معیاری اور بے وزن کلام کی پیش کش اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ موجودہ انتظامیہ کو ادب کے بجائے دیگر ترجیحات عزیز ہیں۔ ایک نشست میں اس قدر غیر معیاری شاعری پیش کی گئی کہ صدرِ مجلس محترمہ حمیدہ شاہین بھی ششدر رہ گئیں اور انہوں نے برملا اس کا اظہار کرتے ہوئےفرمایا: ”مجھے جن شاعرات کے نام بتائے گئے تھے، ان میں اچانک تبدیلی کر دی گئی، جس کا مجھے اندازہ نہ تھا کہ ایسا رویہ اپنایا جائے گا۔“
اسی اجلاس کے احوال پر گورنمنٹ سول لائنز کالج کے فاضل پرنسپل بھی یہ کہنے پر مجبور ہو گئے کہ ”کیا اب حلقہ اربابِ ذوق کا معیار اس حد تک گر چکا ہے؟“ ان کا یہ دردمندانہ تحریری احتجاج سوشل میڈیا پر اور ادبی حلقوں میں کئی روز تک سوالیہ نشان بنا رہا، مگر انتظامیہ کی جانب سے خاموشی کے سوا کوئی جواب نہ آیا۔
ایسی بدنظمی کا ایک مظاہرہ اس وقت بھی دیکھنے میں آیا جب حلقہ کے ایک معزز رکن نے ایک فاضل ڈاکٹر جوڑے کو اپنے اوپر پیش کئے گئے مضمون پر تبصرے کے دوران انتہائی غیر شائستہ اور مغلظات سے لبریز زبان استعمال کی۔ ایسے نازک موقع پر سیکرٹری کو اپنا مصالحانہ کردار ادا کرنا چاہیے تھا، مگر موصوف خاموش تماشائی بنے رہے۔ وہ محترم جوڑا شدید ندامت لئے اور دل برداشتہ ہوکر اجلاس چھوڑ کر چلا گیا اور پھر کبھی لوٹ کر نہیں آیا۔ کیا یہ رویہ کسی شائستہ ادبی تنظیم کے شایانِ شان ہو سکتا ہے؟ کیا یہ لوگوں کو ادب سے جوڑنے کی کاوش ہے یا رشتوں کو توڑنے کی؟
حال ہی میں ایک اور سینئر شاعرہ نے نہایت عامیانہ غزل پیش کی۔ جب مجلس میں سے ایک صاحب نے یہ قرینِ عقل تجویز دی کہ ایسی تحریریں اجلاس میں لانے سے قبل مجلسِ عاملہ کو دکھا لی جانی چاہئیں، تو سیکرٹری موصوف برہم ہو گئے اور ایسی غیر مناسب گفتگو کی کہ تمام حاضرین ہکا بکا رہ گئے۔ اصول تو یہ ہے کہ تنقید کے لیے پیش کی جانے والی تحریر کو قطع نظر اس کے مرتبے کے، نہایت سنجیدگی اور خاموشی سے سنا جائے، نہ کہ دورانِ قرأت ہی داد و تحسین کا شور برپا کر دیا جائے۔ مگر یہاں قصہ ہی الٹ ہے، جن قواعد و ضوابط سے آگاہ کرنا سیکرٹری کی ذمہ داری تھی، وہ خود ہی نعرہ ہائے تحسین بلند کرنے میں پیش پیش رہتے ہیں۔ایسے میں یوں گماں ہوتا ہے جیسے کوئی علمی و تنقیدی نشست نہیں بلکہ تجارتی مشاعرہ ہو رہا ہو۔
سیکرٹری آفتاب جاوید، جو ہر اجلاس میں مالی اعانت کا تقاضا کرتے نظر آتے ہیں، ان سے اتنی توفیق بھی نہ ہو سکی کہ حلقے کے وہ مائیک اور سپیکر درست کروا سکیں جو ایک ماہ سے خستہ حالی کا شکار ہیں۔ تاہم، موصوف کو دو روزہ سیمینار کے انعقاد کی شدید فکر لاحق ہے۔ ایسی ”کاوشوں“ کا مقصد غیر ادبی شخصیات سے غیر معیاری مضامین پڑھوا کر اپنے ”مقاصد“ حاصل کرنا ہی ہو سکتا ہے۔ شائستہ اور صاحبِ طرز ادیبوں نے ان افسوسناک حالات اور گرتے ہوئے معیار کی وجہ سے حلقہ کے اجلاسوں سے کنارہ کشی اختیار کر لی ہے۔ وہ معزز ارکان حلقہ کے دوسرے دھڑے کی جانب جانے کا سوچنے لگے ہیں۔ دوستو! یہ تو حلقہ اربابِ ذوق کے گزشتہ چھ ماہ کا المیہ تھا، اگر یہی رویہ قائم رہا تو آئندہ چھ ماہ میں اس تاریخی ادارے کے معیار اور عزت کا کیا بنے گا، اس کا اندازہ لگانا کچھ دشوار بھی نہیں۔
جاری ہے۔



