column and articlelatest news

موسیقی اور مصوری کا حُسن : سید حسنین بخاری

طاہر اصغر

وہ ایک دل کش اور دل نواز شخصیت کے مالک انسان ہیں۔ انسان دوستی اور ہر ایک کیلئے ایک مسکراہٹ اُن کی پہچان ہے لیکن اُن کا بنیادی حوالہ ایک آ رٹسٹ، مصور ا ور موسیقار کا ہے۔ سید حسنین بخاری کا تعلق لاہور سے ہے، این سی اے سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد وہ آرٹ سے وابستہ اداروں میں کام کرتے رہے۔ اپنی افتاد طبع کے باعث موسیقی اور گلوکاری اُن کا اولین شوق رہا ہے۔ اُن کی انگلیاں ہارمونیم پر جب سُر چھیڑتی ہیں تو وہ آنکھیں بند کرکے اپنی روح کی گہرائیوں میں اُتر جاتے ہیں۔

سید حسنین بخاری نے فنِ موسیقی کی باقاعدہ تعلیم حاصل نہیں کی ہے البتہ موسیقی کی محافل میں باقاعدگی سے شرکت کرتے رہے۔ وہ فن موسیقی کے نامور استادوں کی قربت سے اس فن کی باریکیوں کو سمجھنے کی سعی کر تے رہے۔ وہ برصغیر کی نیم کلاسیکل اور کمرشل گائیکی سے بخوبی آگاہ ہیں، اس لئے استاد سلامت علی خان ہوں یا بڑے غلام علی خان یا مہدی حسن اور پھر محمد رفیع، مناڈے یا مکیش اور کوئی بھی مقبولِ عام گلوکار یا گلوکارہ، وہ اُن کی گائیکی کے اسرار و رموز سے بخوبی واقف ہیں۔

سید حسنین بخاری کیلئے مہدی حسن لاجواب تھے، اُن جیسا گائیک پہلے کبھی پیدا ہوا اور نہ اُن کے بعد پیدا ہو گا۔وہ کہتے ہیں کہ نئی نسل کے فنکاروں کو میرا مشورہ ہے کہ موسیقی تربیت سے حاصل کریں۔وہ کہتے ہیں کہ ہر زمانے کا انداز اور چلن الگ ہوتا ہے،آج زندگی کی رفتار بہت تیز ہے۔ زندگی کے مطالبات مختلف ہیں، اس لئے کلاسیکل موسیقی کے سننے والے بہت کم ہو گئے ہیں۔جس طرح ہمارے ہاں مشاعرے نہیں ہوتے اسی طرح موسیقی کی محافل بھی نہیں ہوتیں۔

حسنین بخاری کہتے ہیں کہ میرے خیال میں موسیقی بنی نوع انسان کی آفاقی زبان ہے جہاں الفاظ ختم ہو جاتے ہیں وہاں موسیقی کا آغاز ہوتا ہے۔ سُر ناپاک نہیں ہے، حرام نہیں ہے، اگر غلط الفاظ کا چناؤ کیا جائے تو بول ناپاک ہو سکتا ہے۔اب دیکھیں اذان سُر میں ہوتی ہے، تلاوت خوش الحانی سے کی جاتی ہے۔

حسنین بخاری کہتے ہیں کہ محمد رفیع میرے آئیڈیل ہیں، ان کی آواز کا پھیلاؤ بہت زیادہ تھا۔نور جہاں کی آواز دل کو چھُو لینے والی تھی تاہم برصغیر کی موسیقی نے عام انسانوں کو ایک دوسرے سے جوڑ کر رکھا ہوا ہے۔ انہوں نے ایک میوزک اکیڈمی قائم کی ہے اور اس مقصد کیلئے ایک کمرہ لے رکھا ہے جہاں گاہے بگاہے موسیقی کی محافل ہوتی ہیں اور موسیقی کے شائقین آتے ہیں۔

سید حسنین بخاری ایک شاندار شخصیت کے مالک ہیں۔درددل رکھتے ہیں،ضرورت مندو ں کے کام آنے میں کوئی تامل نہیں کرتے۔ وہ صلہ بھی نہیں مانگتے، اور نہ ہی ان کے دروازے کسی محروم اور ضرورت مند کیلئے بند ہوتے ہیں۔ حسنین بخاری فن موسیقی کے حوالے سے پر عزم ہیں اور بہت سارا ادھورا کام مکمل کر رہے ہیں۔ہارمونیم پر چلنے والی انگلیاں کینوس پر مصوری بھی کرتی ہیں اور ان کا یہ سفر جاری ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button