column and articlelatest news

خواتین کی معاشی خودمختاری: محض نعرہ یا عملی انقلاب؟

ڈاکٹر وقار علی گل

​پاکستان کی معاشی ترقی کا پہیہ اس وقت تک تیز رفتاری سے نہیں گھوم سکتا جب تک آبادی کا نصف، یعنی خواتین، معاشی دھارے میں مکمل طور پر شامل نہ ہوں۔ بالخصوص ہمارے دیہی علاقوں میں رہنے والی محنت کش خواتین جو صبحِ کاذب سے شامِ غریباں تک کھیتوں، گھاس کے میدانوں اور مویشیوں کی دیکھ بھال میں اپنا خون پسینہ ایک کرتی ہیں، اکثر بنیادی معاشی حقوق اور وسائل سے محروم نظر آتی ہیں۔ ایسے حالات میں پنجاب حکومت کی جانب سے 3 ارب روپے کی لاگت سے "لائیو سٹاک سپورٹ پروگرام” کا آغاز ایک محض سرکاری سکیم نہیں، بلکہ دیہی معیشت میں ایک بڑا اور دیرپا انقلاب لانے کا پیش خیمہ معلوم ہوتا ہے۔

​حال ہی میں صوبائی وزیر لائیو سٹاک و زراعت سید عاشق حسین کرمانی نے پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ (PITB) کے ڈیجیٹل ڈیش بورڈ کے ذریعے اس پروگرام کے دوسرے مرحلے کی شفاف ای بیلٹنگ کا افتتاح کیا۔ اس افتتاحی تقریب کے موقع پر وزیرِ موصوف کا یہ کہنا بے حد معنی خیز تھا کہ "وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف صوبے کی خواتین بالخصوص جنوبی پنجاب کی مستحق اور محنت کش خواتین کو معاشی طور پر اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کے لیے پوری طرح پُرعزم ہیں۔ خواتین کو بااختیار بنانا دراصل پورے معاشرے کی ترقی کی ضمانت ہے۔”

1 ​اگر ہم اس سکیم کے خد و خال اور اعداد و شمار کا باریک بینی سے جائزہ لیں تو کئی اہم نکات سامنے آتے ہیں:

۔ شفافیت اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال

​عموماً سرکاری مالی معاونت یا اثاثوں کی تقسیم کے پروگراموں میں اقربا پروری اور سیاسی اثر و رسوخ کے خدشات رہتے ہیں۔ تاہم اس پروگرام میں 75,666 درخواستوں کی اربن یونٹ سے باقاعدہ تصدیق کروائی گئی، جس کے بعد 15,396 درخواستیں منظور ہوئیں۔ پھر پی آئی ٹی بی کے ڈیجیٹل ڈیش بورڈ کے ذریعے شفاف ای بیلٹنگ کر کے 3,304 خوش نصیب خواتین کا انتخاب کیا گیا۔ اس پروسیس میں اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز اور لائیو سٹاک افسران کی آن لائن شرکت نے عمل کو مزید شفاف بنایا ہے۔

2 ۔ بیوہ اور مطلقہ خواتین کا سہارا

​اس پروگرام کا سب سے خوبصورت اور انسانی پہلو اس کی ترجیحات ہیں۔ پہلے مرحلے میں جنوبی پنجاب کی 9,255 بیوہ اور مطلقہ خواتین میں اعلیٰ نسل کے جانور تقسیم کیے گئے۔ ہمارا معاشرہ اکثر ایسی خواتین کو بے سہارا چھوڑ دیتا ہے، لیکن انہیں لائیو سٹاک فراہم کر کے نہ صرف ان کے روزگار کا ذریعہ بنایا گیا بلکہ ان کی عزتِ نفس کی بھی حفاظت کی گئی۔

3 ۔ جانوروں کی رجسٹریشن اور سائنسی طریقہ کار

​فقط مفت گائیں اور بھینسیں بانٹ دینا ہی کافی نہیں ہوتا، بلکہ ان کی دیکھ بھال اور پیداواری صلاحیت کو برقرار رکھنا اصلی چیلنج ہے۔ اس سکیم میں جانوروں کی PAITS (پنجاب لائیو سٹاک اینڈ ڈیری ڈیولپمنٹ ٹریسبیلٹی سسٹم) کے تحت رجسٹریشن کی جائے گی، اور ان کی نسل میں بہتری کے لیے اعلیٰ معیار کا سیمن (Seamen) استعمال کیا جائے گا۔ یہ قدم صوبے میں دودھ اور گوشت کی پیداوار بڑھانے میں بھی کلیدی کردار ادا کرے گا۔

4۔ براہِ راست مالی معاونت اور ڈیبٹ کارڈ

​صرف جانور دینے کے بعد مستحق خواتین کو اکیلا نہیں چھوڑا گیا، بلکہ جانوروں کی ابتدائی دیکھ بھال، چارے اور دیگر اخراجات کے لیے بینک آف پنجاب کے ڈیبٹ کارڈ کے ذریعے 5,000 روپے کی یکمشت مالی معاونت بھی فراہم کی جا رہی ہے۔ یہ ایک دانشمندانہ اقدام ہے جو جانوروں کی فوری نگہداشت کو یقینی بنائے گا۔

5 ۔ 20 اکتوبر سے عملی شروعات

​پروگرام کے تحت 20 اکتوبر سے جانوروں کی تقسیم کا آغاز ہو رہا ہے، اور تحصیل کی سطح تک مخصوص کوٹہ مقرر کر کے ان جانوروں کو حقداروں تک پہنچایا جائے گا۔

​تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی معاشرے کی محروم اور محنت کش عورت کے ہاتھ میں معاشی خود مختاری کا وسیلہ آتا ہے، تو اس کا پہلا فائدہ اس کے بچوں کی تعلیم، صحت اور بہتر خوراک کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اور ان کی ٹیم کا یہ اقدام اگر اسی شفافیت، جذبے اور سائنسی حکمتِ عملی کے ساتھ جاری رہا تو یہ نہ صرف دیہی خواتین کی مالی مشکلات کا خاتمہ کرے گا، بلکہ پنجاب کی لائیو سٹاک صنعت کو بھی ایک نئی جلا بخشے گا۔
​واقعی، ایک مضبوط، خود کفیل اور بااختیار ماں اور بہن ہی ایک خوشحال اور مستحکم معاشرے کا سچا سنگِ بنیاد ہوا کرتی ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button