
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس امجد پرویز نے پنجاب اسمبلی سے منظور ہونے والے انسداد دہشت گردی ترمیمی بل 2026 کے خلاف دائر درخواست پرسماعت سے معذرت کرلی،عدالت نےفائل رجسٹرار آفس کو بھجوا دی، عدالت نے ریمارکس دیئے کہ جب یہ بل تیار کیا جا رہا تھا، میں اس وقت ایڈووکیٹ جنرل پنجاب تھا،درخواستگزار یوسف وائیں ایڈووکیٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ ملزمان کو منصفانہ ٹرائل کا آئینی حق حاصل ہے، جبکہ مقدمے کی کارروائی میں جج، پراسیکیوٹر اور گواہوں کی شناخت مکمل طور پر پوشیدہ رکھنے کی شق ملزم کے بنیادی قانونی حقوق کو متاثر کرسکتی ہے اوریہ آئینی تقاضوں سے متصادم ہے۔
لاہور ہائیکورٹ نے ایف آئی اے فراڈ کے دو مقدمات میں نامزد ملزم برہان افضل کی درخواست ضمانت منظور کرلی،ملزم کے وکیل بیرسٹر احمد جاوید اعوان نے مؤقف اختیار کیا کہ ایف آئی اے نے ملزم کے خلاف امیگریشن آرڈیننس کے تحت مقدمات درج کیے ہیں، تاہم ملزم کو کنسلٹنسی کمپنی کے معاملات سے جوڑنا قانونی طور پر درست نہیں،جس شخص نے 2003 میں کنسلٹنسی کمپنی قائم کی تھی، وہ اب وفات پاچکا ہے، مذکورہ کنسلٹنسی کمپنی پر شہریوں سے مبینہ فراڈ کرنے کے الزامات عائد کئے گئے ہیں،وکیل صفائی نے مؤقف اختیار کیا کہ کنسلٹنسی فرم کے اصل مالک کی وفات کے بعد اس کے بیٹے کو بھی ایف آئی اے نے مقدمات میں ملوث کردیا، حالانکہ جس شخص کے خلاف مقدمات درج کیے گئے ہیں وہ نہ تو کمپنی کا ڈائریکٹر ہے اور نہ ہی شیئر ہولڈر، ملزم کا کمپنی کے انتظامی یا ملکیتی معاملات سے کوئی براہ راست تعلق ثابت نہیں ہوتا، اس لیے اسے مقدمات میں نامزد کرنا بلاجواز ہے۔
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری کی سربراہی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے ڈکیتی کے دوران دو شہریوں کو قتل کرنے والے نواز عرف بھالی کی سزائے موت کے خلاف اپیل منظور کر لی اور اسے رہا کرنیکا حکم دیدیا، تھانہ ننکانہ صاحب پولیس نے 2018 میں قتل کا مقدمہ درج کیا ،ٹرائل کورٹ نے 2023 میں سزائے موت کا حکم دیا تھا ، وکیل نے موقف اپنایا کہ ٹرائل میں پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹر گواہ کو پیش نہیں کیا گیا،پوسٹ مارٹم تاخیر سے ہوا ۔
لاہور ہائیکورٹ کےجسٹس خالد ابن عزیز نے1 کروڑ 25 لاکھ روپے چیک باؤنس کیس میں گرفتار ملزم کی پچاس لاکھ روپے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کرلی ، درخواست گزار کے وکیل فیاض مہر نے موقف اپنایا کہ مدعی مقدمہ ملزم کے بہنوئی کا بھائی ہے،مدعی مقدمہ تصدق حسین نے 2016 میں 1 کروڑ 25 لاکھ روپے قرض حسنہ دیا،درخواست گزار ملزم نے 2016 میں ضمانتی چیک دئیے جو اسی سال باؤنس ہو گئے،دس سال بعد 24 مئی 2026 میں تھانہ عطاء شہید سرگودھا میں مقدمہ درج کروا دیا گیا،درخواست گزار ملزم 14 جون 2026 بے گناہ جیل میں قید ہے،قرضہ حسنہ سول معاملہ ہے،فوجداری نہیں ہے۔
لاہورہائیکورٹ کے جسٹس عاصم حفیظ نے توہین عدالت کی درخواست پر ڈائریکٹر ایڈمن پی ٹی وی فرحت عباس کو نوٹس جاری کرتے ہوے جواب طلب کرلیا ،امجد علی شاہ ایڈووکیٹ نے موقف اپنایا کہ عدالت میں کروائی گئی یقین دہانی کے باوجود ملازمین کو پنشن ادا نہیں کی جا رہی ہے،عدالت ڈائریکٹر ایڈمن پی ٹی وی کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی عمل میں لائے ۔
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس وقار حیدر اعوان کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے غیر استعمال شدہ کپسٹی چارجز کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل پر سرکاری وکیل کو تحریری جواب داخل کرانے کیلئے 16 ستمبر تک مہلت دیدی ،سرکاری وکیل نےموقف اپنایا کہ انٹرا کورٹ اپیل ناقابل سماعت ہے مسترد کی جائے، شہری اشبا کامران نے موقف اپنایا کہ حکومت غیر استعمال شدہ بجلی یونٹس کی قیمت صارفین سے وصول کررہی ہے ،حکومت نے بجلی بلوں میں کیپسٹی چارجز پارلیمنٹ کی منظوری کے بغیر وصول کئے ،مقامی انویسٹرز کو ڈالرز کے تناسب سے قومی گریڈ سے ادائیگی غیر آئینی ہے ،سنگل بنچ نے حقائق کا درست جائزہ لئے بغیر فیصلہ کیا ،استدعا ہے کہ عدالت سسٹم میں انیوالی بجلی کے تحت ادائیگیوں کا حکم دے ،عدالت حکومت کو آئی پی پیز سے اضافی وصول کئے گئے کھربوں روپے واپس لینے کا حکم دے ،عدالت ملوث نیپرا سمیت دیگر حکام کے احتساب کا حکم دے ۔
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہباز رضوی کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے سرکاری وکیل کے جواب کی روشنی میں پی ٹی آئی رہنما حماد اظہر کی بازیابی کی درخواست نمٹا دی ،عدالت نے حکم دیا کہ ملاقات کیلئے آپ متعلقہ عدالت سے رجوع کریں، درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ دو روزقبل حماد اظہر کو ملتان سے حراست میں لیا گیا،حماد اظہر کو تاحال کسی عدالت میں پیش نہیں کیا گیا ، استدعا ہے کہ حماد اظہر کو بازیاب کروا کہ عدالت پیش کرنے کا حکم دے،عدالت متعلقہ حکام کو حماد اظہر کی قانون کے مطابق گرفتاری ظاہر کرنے کا حکم دے ،عدالت حماد اظہر پر درج مقدمے کا ریکارڈ فراہم کرنے کاحکم دے ،عدالت فیملی اور وکلاء کی ملاقات کیلئے ہدایات جاری دے۔
لاہور ہائیکورٹ میں 9 مئی جلائو گھیرائو کیس میں سزاؤں کیخلاف گوجرانوالہ کے شہریار شیراز سمیت 49 ملزمان کی دستاویزات کو ریکارڈ کا حصہ بنانے کی درخواستوں پرسماعت، جسٹس شہباز رضوی کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے وکلاء کو دلائل کیلئے 16 ستمبر کوطلب کرلیا ،انسداد دہشت گردی عدالت گوجرانولہ نے سزائیں سنائی تھیں ۔
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس احمد ندیم ارشد کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے ہتک عزت کیس میں ہرجانے کی رقم علی ظفر کو ادا کرنے کے بارے میں ماتحت عدالت کے فیصلے کیخلاف گلوکارہ میشا شفیع کی درخواست پر سات روز میں جواب طلب کرلیا ،عدالت نے ہرجانے کی حد تک ماتحت عدالت کا فیصلہ معطل کر رکھا ہے ،میشا شفیع نے اپیل میں موقف اپنایا کہ ٹرائل کورٹ نے حقائق اور قانون کو درست انداز میں نہیں دیکھا ، جنسی ہراسانی کے الزامات کا میرٹ پر فیصلہ ہوئے بغیر ہتک عزت کیس کا فیصلہ دیا گیا ، میشا شفیع کا کیس اب بھی سپریم کورٹ آف پاکستان میں زیر التوا ہے، غیر ثابت شدہ الزام کو جھوٹا قرار نہیں دیا جا سکتا ، استدعا ہے کہ ہائی کورٹ ماتحت عدالت کی جانب سے ہرجانہ ادا کرنے کا حکم کالعدم قرار دیا جائے ، ٹرائل کورٹ نے علی ظفر پر ہراساں کرنے کا الزام لگانے پر میشا شفیع کو 50 لاکھ ہرجانہ ادا کرنے کا فیصلہ دیا تھا۔
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نےدوہرے قتل کے 2 ملزمان اشتیاق پرویز اور اکرم ڈوگرکی بعد از گرفتاری ضمانتیں منظور کرلیں ، عدالت نے ایک ایک لاکھ روپے مچلکے جمع کروانیکا حکم دیدیا،دونوں پارٹیوں کے درمیان علاقے کی چوہدراہٹ وجہ تنازع ہے،فائرنگ کے نتیجے میں بلال ڈوگر اور رانا پرویز قتل ہوئے،تھانہ صدر فیصل آباد نے قتل کا مقدمہ درج کیا۔



