crimelatest news

آذربائیجانی خاتون کے مبینہ زیادتی کیس میں نیا موڑ، 2 کروڑ روپے لے کر ملزمان کو بے گناہ قرار دینے کا دعویٰ

ملزم کے اہل خانہ کی جانب سے رقم کی پیشکش کے الزامات، وکیل کی تردید؛ وزیراعلیٰ پنجاب کا انصاف کے نظام پر اثرانداز ہونے کی کوششوں کی تحقیقات کا مطالبہ

لاہور: آذربائیجان سے تعلق رکھنے والی خاتون ڈیانا سے مبینہ زیادتی کے مقدمے میں نیا موڑ سامنے آیا ہے، جہاں پولیس ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ خاتون نے مبینہ طور پر 2 کروڑ روپے وصول کرنے کے بعد ملزمان کی بے گناہی کا بیان دیا ہے۔ تاہم ملزم کے وکیل نے خاتون کو رقم دینے کے الزام کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نہ وہ آذربائیجان گئے اور نہ ہی ان کی خاتون سے کوئی بات ہوئی۔

رپورٹ کے مطابق ڈیانا نے گزشتہ روز آذربائیجان سے جاری کیے گئے ویڈیو بیان میں ملزم احمد تنویر کو بے گناہ قرار دیا اور کہا کہ لاہور کی عدالت میں مجسٹریٹ کے سامنے ضابطۂ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت دیا گیا اس کا سابقہ بیان دباؤ میں لیا گیا تھا۔ خاتون نے اپنے بیان میں مقدمے کے دیگر دو ملزمان محسن اور عزیز کو بھی معاف کرنے کا اعلان کیا۔

اس سے قبل خاتون نے مجسٹریٹ کے سامنے اپنے بیان میں تین افراد پر زیادتی کا الزام عائد کیا تھا۔ نئے ویڈیو بیان کے بعد مقدمے کی تفتیش اور ملزمان کی قانونی حیثیت سے متعلق نئے سوالات پیدا ہوگئے ہیں۔

پولیس ذرائع کے مطابق ملزم احمد تنویر کا تعلق ایک صاحبِ ثروت خاندان سے ہے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ملزمان کے ایک وکیل اور رشتہ داروں نے خاتون کو بیان تبدیل کرنے پر آمادہ کیا، جس کے بعد ملزم کے والد نے لندن سے آذربائیجان کا سفر کیا۔ رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ رقم وصول کرنے کے بعد ڈیانا دبئی میں موجود ہے۔

تاہم ملزم کے وکیل نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ نہ وہ آذربائیجان گئے اور نہ ہی خاتون سے ان کی کوئی بات ہوئی۔ انہوں نے ڈیانا کو رقم دینے کے دعوے کو بھی بے بنیاد قرار دیا ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے بھی اس مقدمے کے حوالے سے کہا تھا کہ زیادتی کے ایک حالیہ کیس میں ملزم کے امیر خاندان کی جانب سے متاثرہ خاتون کو الزامات واپس لینے کے بدلے ڈیڑھ سے دو کروڑ روپے کی پیشکش کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔

وزیراعلیٰ کے مطابق یہ الزام بھی سامنے آیا ہے کہ زیادتی کے مقدمے میں ملزم کی ضمانت منظور کرنے والے جج کو رشوت دی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ نظامِ انصاف کی دیانت داری کے حوالے سے سنگین معاملہ ہوگا۔

ان الزامات کی آزادانہ تصدیق اور متعلقہ فریقوں کا مؤقف سامنے آنا ضروری ہے تاکہ معاملے کے تمام پہلو واضح ہوسکیں۔

وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ مقدمے میں اغوا اور ڈکیتی سے متعلق دفعات بھی شامل ہیں، اس لیے خاتون کے نئے بیان کے باوجود قانونی کارروائی کا معاملہ ختم نہیں ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ مریم نواز کے پاس موجود معلومات کے تناظر میں وہ چیف جسٹس پاکستان سے بھی رجوع کرنے کو تیار ہیں۔

مقدمے میں خاتون کے سابقہ عدالتی بیان، حالیہ ویڈیو بیان، مبینہ مالی لین دین اور ملزمان کے خلاف عائد الزامات کی قانونی حیثیت اہمیت اختیار کرگئی ہے۔ حتمی صورتِ حال کا تعین متعلقہ شواہد، تحقیقات اور عدالتی کارروائی کی روشنی میں ہوگا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button