خاتون سے مبینہ زیادتی اور ڈکیتی کا ڈرامہ بے نقاب، مالی تنازع پر جھوٹا مقدمہ درج کرانے کا انکشاف
عابد نے مبینہ طور پر میاں بیوی کو 2 لاکھ 40 ہزار روپے دے کر منصوبہ تیار کیا، پولیس نے عابد کو گرفتار کرلیا، میاں بیوی کی تلاش جاری

ملتان: شوہر اور کمسن بچوں کے ہمراہ سفر کرنے والی خاتون سے مبینہ زیادتی اور ڈکیتی کا واقعہ پولیس تحقیقات میں خود ساختہ قرار دے دیا گیا۔ پولیس کے مطابق مالی تنازع پر مخالف کو پھنسانے کے لیے میاں بیوی کو رقم دے کر واردات کا ڈرامہ رچایا گیا تھا، جس کے بعد تینوں ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق واقعہ جمعرات کی شب پیش آیا تھا، جس میں خاتون نے مبینہ زیادتی اور ڈکیتی کی شکایت کی تھی۔ واقعے کی اطلاع پر پولیس نے مقدمہ درج کرکے تحقیقات شروع کیں، تاہم ابتدائی میڈیکل رپورٹ میں زیادتی کے شواہد سامنے نہیں آئے جبکہ تکنیکی شواہد سے بھی واقعے کے خود ساختہ ہونے کا انکشاف ہوا۔
رپورٹ کے مطابق عابد نامی شخص کا ایک دوسرے فریق کے ساتھ مالی لین دین کا تنازع تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ عابد نے سعد نامی شخص اور اس کی اہلیہ کو مبینہ طور پر 2 لاکھ 40 ہزار روپے دیے اور انہیں منصوبے کے مطابق مخصوص مقام پر جا کر پولیس ایمرجنسی نمبر 15 پر کال کرنے، ڈکیتی کا ڈرامہ رچانے اور زیادتی کا الزام عائد کرنے کی ہدایت کی۔
پولیس کے مطابق میاں بیوی نے رقم لے کر مبینہ منصوبے پر عمل کیا، جس کے نتیجے میں ڈکیتی اور زیادتی کا مقدمہ درج ہوا۔
حکام کے مطابق تحقیقات کے دوران پولیس نے میاں بیوی کو مزید پوچھ گچھ کے لیے طلب کیا، تاہم دونوں نے اپنے موبائل فون بند کردیے۔ بعدازاں جیو فینسنگ اور تکنیکی شواہد کی مدد سے عابد اور میاں بیوی کے درمیان مسلسل رابطوں کا پتا چلا۔
پولیس نے عابد کو حراست میں لے کر تفتیش کی تو، حکام کے مطابق، اس نے مالی تنازع کے باعث مخالف فریق کو پھنسانے کے لیے میاں بیوی کو رقم دینے کا اعتراف کیا۔ پولیس نے عابد اور سعد و اس کی اہلیہ کے خلاف جھوٹا مقدمہ درج کرانے کے الزام میں کارروائی شروع کردی ہے۔ عابد کو گرفتار کرلیا گیا ہے جبکہ میاں بیوی کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
دوسری جانب پولیس نے اینٹی ریپ ایکٹ کے تحت مزید تین مقدمات بھی درج کیے ہیں۔ پولیس کے مطابق ان مقدمات میں گزشتہ چھ سے آٹھ ماہ کے دوران زیادتی کے الزامات عائد کیے گئے تھے، تاہم دورانِ سماعت فریقین نے عدالت میں صلح کرلی تھی۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ یہ مقدمات مبینہ طور پر بلیک میلنگ کے مقصد سے درج کرائے گئے تھے۔
پولیس حکام کے مطابق ان واقعات کی مزید تحقیقات جاری ہیں تاکہ مبینہ طور پر جھوٹے مقدمات درج کرانے میں ملوث افراد کے خلاف قانونی کارروائی مکمل کی جاسکے۔



