health & Foodlatest news

روزانہ 5 گھنٹے سے کم نیند لینے کے جسم پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں؟

نیند جسمانی اور ذہنی صحت کے لیے انتہائی ضروری ہے، تاہم موجودہ دور میں اسمارٹ فونز اور دیگر ڈیجیٹل آلات کے بڑھتے ہوئے استعمال کے باعث بہت سے افراد رات گئے تک جاگنے کے عادی ہوچکے ہیں۔

ماہرین کے مطابق روزانہ 5 گھنٹے سے کم نیند لینے کی عادت جسم کو مختلف بیماریوں اور صحت کے مسائل سے دوچار کرسکتی ہے۔ ناکافی نیند کے باعث مدافعتی نظام، دل، دماغ، یادداشت اور جسمانی وزن سمیت صحت کے کئی پہلو متاثر ہوسکتے ہیں۔

جسم پر کم نیند کے نمایاں اثرات درج ذیل ہیں:

1۔ بیماریوں سے لڑنے کی صلاحیت متاثر

نیند کی کمی جسم کے مدافعتی نظام کو متاثر کرسکتی ہے، جس کے باعث انسان نزلہ، زکام اور دیگر عام بیماریوں کا زیادہ آسانی سے شکار ہوسکتا ہے۔ مناسب نیند جسم کو بیماریوں سے لڑنے اور صحت بحال رکھنے میں مدد دیتی ہے۔

2۔ دل کی بیماریوں اور فالج کا خطرہ

مسلسل کم نیند لینا دل کی صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔ اسی طرح معمول سے بہت زیادہ نیند، خصوصاً روزانہ 9 گھنٹے یا اس سے زیادہ سونا، بھی بعض طبی مسائل سے منسلک پایا گیا ہے۔ ناکافی نیند کا تعلق دل کی بیماریوں اور فالج کے بڑھتے ہوئے خطرے سے بھی جوڑا جاتا ہے۔

3۔ بعض اقسام کے کینسر سے تعلق

طبی تحقیقات میں نیند کے معمولات اور بعض اقسام کے کینسر کے درمیان ممکنہ تعلق کا جائزہ لیا گیا ہے۔ تاہم اس حوالے سے خطرے کی نوعیت اور وجوہات کو سمجھنے کے لیے مزید تحقیق ضروری ہے۔ روزانہ 7 سے 9 گھنٹے کی مناسب نیند مجموعی صحت کے لیے مفید ہے۔

4۔ دماغی کارکردگی میں کمی

صرف ایک رات کی خراب نیند بھی دماغی کارکردگی کو متاثر کرسکتی ہے۔ نیند پوری نہ ہونے سے توجہ مرکوز کرنے، منطقی انداز میں سوچنے، فیصلے کرنے اور مسائل حل کرنے کی صلاحیت کم ہوسکتی ہے۔

5۔ یادداشت کمزور ہونا

نیند دماغ میں نئی معلومات کو محفوظ کرنے اور یادداشت کو منظم کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ناکافی نیند کے باعث نئی چیزیں سیکھنا اور معلومات کو یاد رکھنا مشکل ہوسکتا ہے، جبکہ بھولنے کی شکایت بھی بڑھ سکتی ہے۔

6۔ جسمانی وزن میں اضافہ

کم نیند لینے کی عادت جسمانی وزن بڑھنے کے خطرے سے منسلک ہے۔ ایک تحقیق میں 21 ہزار سے زائد افراد کا جائزہ لیا گیا، جس کے نتائج میں روزانہ تقریباً 5 گھنٹے سونے والے افراد کے وزن میں تین سال کے دوران اضافے کا تعلق سامنے آیا۔

نیند کی کمی بھوک اور جسمانی توانائی کے استعمال سے متعلق نظام کو متاثر کرسکتی ہے، جس سے وزن کو صحت مند سطح پر برقرار رکھنا مشکل ہوجاتا ہے۔

7۔ ٹائپ ٹو ذیابیطس کا خطرہ

روزانہ 6 گھنٹے سے کم نیند لینے کا تعلق انسولین کی مزاحمت میں اضافے سے بھی پایا گیا ہے۔ انسولین کی مزاحمت کی صورت میں جسم کے لیے خون میں شکر کی سطح کو قابو میں رکھنا مشکل ہوسکتا ہے، جس سے ٹائپ ٹو ذیابیطس کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

8۔ ٹریفک حادثات کا خدشہ

نیند کی کمی توجہ اور ردعمل کی رفتار کو متاثر کرتی ہے، جس سے ڈرائیونگ کے دوران حادثے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ کم نیند لینے والے افراد کو گاڑی چلانے کے دوران غنودگی اور تھکن کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔ اگر نیند پوری نہ ہوئی ہو تو ڈرائیونگ سے گریز کرنا زیادہ محفوظ ہے۔

9۔ جلد پر بڑھتی عمر کے آثار

نیند کی کمی کے اثرات جلد پر بھی ظاہر ہوسکتے ہیں۔ بعض تحقیقات کے مطابق ناکافی نیند کا تعلق چہرے پر جھریوں، جلد کی رنگت ماند پڑنے اور جلد کی تازگی میں کمی سے ہوسکتا ہے۔ مناسب نیند جسم کی بحالی اور جلد کی صحت کے لیے اہم ہے۔

کتنے گھنٹے سونا ضروری ہے؟

بالغ افراد کے لیے عموماً روزانہ 7 سے 9 گھنٹے کی نیند تجویز کی جاتی ہے۔ بہتر نیند کے لیے سونے اور جاگنے کا وقت مقرر رکھنا، رات کو اسمارٹ فونز کا استعمال کم کرنا اور پرسکون ماحول میں سونا مفید ثابت ہوسکتا ہے۔

اگر نیند کا مسئلہ مسلسل برقرار رہے یا دن کے وقت شدید غنودگی محسوس ہو تو معالج سے مشورہ کرنا چاہیے۔

نوٹ: یہ مضمون طبی تحقیقات میں بیان کردہ معلومات پر مبنی ہے۔ صحت سے متعلق کسی مسئلے یا نیند کی مسلسل کمی کی صورت میں اپنے معالج سے ضرور مشورہ کریں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button