مقامی آٹو پارٹس کی صنعت کے تحفظ کے لیے 13 مزید اشیا پر 11 فیصد کسٹم ڈیوٹی عائد

اسلام آباد: حکومت نے مقامی آٹو پارٹس تیار کرنے والے اداروں کے تحفظ اور درآمدات کی حوصلہ شکنی کے لیے آٹو سیکٹر کی مزید 13 اشیا پر 11 فیصد کسٹم ڈیوٹی عائد کرنے کی منظوری دے دی۔
کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے حالیہ اجلاس میں اس تجویز کی منظوری دی۔ نئی ڈیوٹی کے دائرے میں بھاری کمرشل گاڑیوں کے ریڈیل سمیت دیگر ٹائر، نمبر پلیٹ، سائیڈ ریفلیکٹر، مختلف پلیٹس اور بریکٹس، فٹ ریسٹ، وہیل اسمبلی اور اس کے پرزے، ونڈ اسکرین اور اس کے اجزا، سیٹ بیس، ٹیل باکس، سینٹر کورز اور متعلقہ پرزے شامل ہیں۔
ریونیو ڈویژن اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے کسٹمز ونگ نے ای سی سی کو بریفنگ میں بتایا کہ یکم جولائی 2006 کو جاری کردہ ایس آر او 693(I)/2006 میں مقامی سطح پر تیار ہونے والے آٹو پارٹس اور اجزا کی فہرست شامل ہے۔ کسٹمز ایکٹ 1969 کی دفعہ 18 کی ذیلی شق 5 کے تحت انجینئرنگ ڈیولپمنٹ بورڈ اور وزارتِ صنعت و پیداوار کی سفارشات پر ایسے پرزوں کی درآمد کی حوصلہ شکنی کے لیے اضافی کسٹم ڈیوٹی عائد کی جاتی ہے، جو اب ملک میں تیار کیے جا رہے ہیں۔
بریفنگ کے مطابق اس وقت مذکورہ ایس آر او کے تحت آٹو پارٹس اور اجزا سے متعلق پاکستان کسٹمز ٹیرف (پی سی ٹی) کے 1,200 سے زائد کوڈز شامل ہیں، جن پر انجینئرنگ ڈیولپمنٹ بورڈ کی سفارشات کے مطابق مختلف شرحوں سے اضافی کسٹم ڈیوٹی وصول کی جاتی ہے۔ وزارتِ صنعت کی سفارشات پر اس فہرست میں وقتاً فوقتاً ترمیم کی جاتی ہے۔
ریونیو ڈویژن نے ای سی سی کو بتایا کہ وزارتِ صنعت نے 7 ستمبر 2026 کو ایک خط کے ذریعے مقامی طور پر تیار ہونے والے مزید پرزوں اور اجزا کی فہرست میں تبدیلی کی سفارشات ارسال کی تھیں، تاکہ ان اشیا پر اضافی کسٹم ڈیوٹی کی زیادہ شرح لاگو کی جا سکے۔
ان سفارشات کی روشنی میں ریونیو ڈویژن نے ایس آر او 693(I)/2006 میں ترمیم کی تجویز پیش کی۔ اس مقصد کے لیے تیار کردہ سمری وزارتِ خزانہ اور وزارتِ تجارت کو بھی ارسال کی گئی تھی۔
ای سی سی نے ’’مزید اشیا پر اضافی کسٹم ڈیوٹی کے نفاذ کے لیے ایس آر او 693 میں ترمیم‘‘ کے عنوان سے پیش کی گئی سمری کا جائزہ لینے کے بعد تجویز کی منظوری دے دی۔
حکومت کے مطابق آٹو پارٹس کی مقامی تیاری کو فروغ دینے سے طویل مدت میں زرمبادلہ کی بچت، روزگار کے مواقع میں اضافے اور برآمدات کے نئے امکانات پیدا ہونے کی توقع ہے۔



