یمن: حوثیوں کا عدن میں صدارتی محل پر میزائل حملہ، 2 سیکیورٹی اہلکار ہلاک

عدن: یمن کے جنوبی شہر عدن میں حوثی باغیوں نے صدارتی محل المعاشیق کے احاطے پر پانچ میزائل داغ دیے، جس کے نتیجے میں دو سیکیورٹی اہلکار ہلاک ہوگئے۔ حملے کے وقت سعودی حمایت یافتہ حکومت کے وزیراعظم شایع الزندانی اور کابینہ کے ارکان بھی محل میں موجود تھے، تاہم وہ محفوظ رہے۔
یمن کے وزیر اطلاعات معمر الاریانی نے جمعرات کو سوشل میڈیا پر بیان میں حملے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ حوثیوں نے صدارتی محل کو پانچ میزائلوں سے نشانہ بنایا۔ ان کے مطابق حملے کے وقت بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کے سربراہ اور دیگر حکام محل میں موجود تھے، تاہم تمام حکومتی عہدیدار محفوظ رہے۔
حوثیوں کے زیرِ انتظام خبر رساں ادارے ’سبا‘ کے مطابق حملے کا ہدف صدارتی محل کے احاطے میں واقع سعودی افسران کے زیرِ انتظام فوجی آپریشنز کا ہیڈکوارٹر اور اسلحے کا گودام تھا۔
حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے کہا کہ عدن میں سعودی فوجی آپریشنز کے ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنانا اس پالیسی کا حصہ ہے جس کے تحت سعودی عرب کی حمایت یافتہ فوج کو ملک بھر میں جہاں بھی موجود ہوگی، نشانہ بنایا جائے گا۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق حملے سے قبل تین عینی شاہدین نے صدارتی محل کے اطراف زور دار دھماکوں کی آوازیں سننے کی تصدیق کی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق حملے میں دو سیکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے، جبکہ وزیراعظم اور کابینہ کے ارکان محفوظ رہے۔
واضح رہے کہ یمن کے دارالحکومت صنعاء سمیت ملک کے بیشتر شمال مغربی علاقے حوثیوں کے کنٹرول میں ہیں، جبکہ جنوبی اور مشرقی علاقوں میں صدارتی قیادت کونسل (پی ایل سی) کی حکومت قائم ہے، جسے بین الاقوامی سطح پر یمن کی تسلیم شدہ حکومت کی حیثیت حاصل ہے۔
صدارتی قیادت کونسل کو سعودی عرب کی حمایت حاصل ہے۔ صنعاء کا کنٹرول کھونے کے بعد حکومت نے عدن کو اپنا عارضی دارالحکومت مقرر کر رکھا ہے۔



