PoliticsWorld

پاکستان کی سعودی عرب پر حوثی حملوں کی شدید مذمت، اسرائیلی آبادکاری روکنے کا مطالبہ

اقوام متحدہ: پاکستان نے سعودی عرب کے شہری اور اقتصادی بنیادی ڈھانچے پر حوثیوں کے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے مملکت کی سلامتی اور حقِ دفاع کی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔ پاکستان نے یمن میں پائیدار امن کے لیے مذاکرات بحال کرنے پر بھی زور دیا ہے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مشرق وسطیٰ سے متعلق مباحثے کے دوران پاکستان کے قائم مقام مستقل مندوب، سفیر عثمان جدون نے کہا کہ حوثیوں کے حملے فوری طور پر بند ہونے چاہئیں۔

انہوں نے یمن میں امن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی کی کوششوں کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ جامع اور دیرپا امن کے حصول کے لیے مذاکرات کا دوبارہ آغاز ضروری ہے۔

پاکستان نے مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں کے تشدد کو روکنے اور فلسطینی علاقوں کے الحاق کی کوششیں ترک کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔

عثمان جدون نے کہا کہ مقبوضہ مغربی کنارے، بشمول مشرقی بیت المقدس، میں اسرائیلی بستیوں کی توسیع، بالخصوص ای ون منصوبہ، فلسطینی علاقوں کے جغرافیائی تسلسل کو ختم کرنے کا خطرہ پیدا کررہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آبادکاروں کا تشدد، مکانات کی مسماری، زمینوں پر قبضے اور فلسطینیوں کی جبری بے دخلی الحاق کے عمل کو مستحکم اور امن کی بنیادوں کو کمزور کررہی ہے۔

پاکستانی مندوب نے مطالبہ کیا کہ اسرائیلی آبادکاری کی تمام سرگرمیاں بند کی جائیں، آبادکاروں کا تشدد روکا جائے اور ذمہ داروں کا احتساب یقینی بنایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ فلسطین کے دو ریاستی حل کے لیے عالمی حمایت کو ایسے ٹھوس اقدامات کے ساتھ جوڑنا ضروری ہے جو فلسطینی سرزمین کی یکجہتی اور ایک قابلِ عمل ریاست کے قیام کو یقینی بنائیں۔

عثمان جدون کے مطابق دو ریاستی حل بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ لائحہ عمل اور منصفانہ و پائیدار امن کی بنیادی شرط ہے۔ انہوں نے سلامتی کونسل کی قرارداد 2803، غزہ تنازع ختم کرنے کے جامع منصوبے اور نیویارک اعلامیے کو اس مقصد کے حصول کے لیے ایک دوسرے کی تکمیل کرنے والے فریم ورک قرار دیا اور ان پر نیک نیتی سے مکمل عمل درآمد کی حمایت کی۔

پاکستان نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی دراندازیوں کی بھی مذمت کرتے ہوئے مقدس مقامات کی تاریخی اور قانونی حیثیت برقرار رکھنے کا مطالبہ کیا۔

پاکستان نے غزہ میں جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزیوں، فلسطینیوں کی ہلاکتوں اور انسانی امداد کی فراہمی پر پابندیوں پر تشویش کا اظہار کیا۔

عثمان جدون نے خبردار کیا کہ موسم سرما کی آمد سے تباہ حال علاقوں میں مناسب پناہ گاہوں اور بنیادی سہولیات سے محروم خاندانوں کی مشکلات مزید بڑھ سکتی ہیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ غزہ میں جنگ بندی پر مکمل عمل درآمد یقینی بنایا جائے، انسانی امداد بلا رکاوٹ اور بڑے پیمانے پر پہنچائی جائے اور بحالی و تعمیر نو کا عمل تاخیر کے بغیر شروع کیا جائے۔

پاکستان نے فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے امدادی ادارے (یو این آر ڈبلیو اے) کے کام کی حمایت پر بھی زور دیا اور فلسطینی اتھارٹی کو اس کے فرائض کی انجام دہی کے قابل بنانے کے لیے روکے گئے فلسطینی محصولات جاری کرنے کا مطالبہ کیا

پاکستان نے فلسطینیوں کی جبری بے دخلی اور غزہ و مقبوضہ مغربی کنارے، بشمول مشرقی بیت المقدس، کو تقسیم کرنے کی کسی بھی کوشش کو مسترد کردیا۔ پاکستانی مندوب نے کہا کہ یہ تمام علاقے ایک ہی جغرافیائی وحدت ہیں۔

عثمان جدون نے اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور آزاد، خودمختار، متصل اور قابلِ عمل فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے ایک قابلِ اعتماد، وقت کی پابند اور ناقابلِ واپسی سیاسی عمل شروع کرنے پر زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ فلسطینی ریاست کا قیام 1967 سے پہلے کی سرحدوں کی بنیاد پر ہونا چاہیے اور القدس الشریف اس کا دارالحکومت ہونا چاہیے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button