
آج کی جدید اور ترقی یافتہ دنیا میں خوراک کی کمی نہیں بلکہ اس کی غیر مساوی تقسیم، جنگیں، معاشی نااہلی اور بے پناہ ضیاع سب سے بڑے مسائل ہیں۔ عالمی سطح پر سالانہ اربوں ٹن کھانا ضائع ہوتا ہے، جبکہ دوسری طرف کروڑوں معصوم بچے اور خاندان بھوکے پیٹ سونے پر مجبور ہیں۔ ”عالمی یومِ خوراک“محض تقاریب یا تقاریر کا دن نہیں، بلکہ یہ انفرادی اور قومی سطح پر ایک ایسے عملی عہد کا تقاضا کرتا ہے جہاں رزق کی قدر کی جائے، خوراک کا ضیاع روکا جائے اور ہر شہری تک متوازن و سستی غذا کی رسائی کو یقینی بنایا جائے۔
خوراک زندہ رہنے کا ذریعہ نہیں بلکہ یہ ہر انسان کا آئینی اور اخلاقی حق ہے،آج کی جدید دنیا میں جہاں ٹیکنالوجی نے بے پناہ ترقی کی ہے وہیں خوراک کا بحران ایک سنگین مسئلہ بنا ہوا ہے۔خوراک صرف ایک ضرورت نہیں ہر انسان کا بنیادی حق ہے۔جب تک دنیا سے بھوک کا خاتمہ نہیں ہوتا تب تک حقیقی انسانی ترقی کا خواب ادھورا ہے،دنیا بھرمیں سائنسی ترقی کے باوجود آج بھی انسانیت کا ایک بڑا حصہ دو وقت کی روٹی کو ترس رہا ہے۔اکیسویں صدی میں جہاں انسان نے سائنس اور جدید ٹیکنالوجی کی بدولت بے شمار کامیابی حاصل کی ہیں، وہاں خوراک کا بحران انسانی پیشرفت پر ایک سوالیہ نشان ہے۔تنازعات اور معاشی بحرانوں کی وجہ سے غریب ممالک میں خوراک کی قیمتیں عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو چکی ہیں۔
دنیا بھر میں ہر سال 16 اکتوبر کو ”عالمی یومِ خوراک” منایا جاتا ہے اس دن کی تاریخ 1979ء سے ملتی ہے جب اقوامِ متحدہ کے ادارے ”فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن” کے قیام کی یاد میں اسے ایک بین الاقوامی دن کے طور پر منانے کی منظوری دی گئی۔ اس دن کو منانے کا مقصد دنیا بھر سے بھوک، فاقہ کشی اور غذائی قلت کے خاتمے کیلئے عالمی سطح پر آرا استوار کرنا اور ہر انسان تک متوازن و معیاری خوراک کی رسائی کو یقینی بنانا ہے۔اس دن کا بنیادی مقصد عالمی سطح پر بھوک، افلاس اور غذائی عدم تحفظ جیسے سنگین مسائل کی طرف دنیا کی توجہ مبذول کروانا ہے۔
اقوامِ متحدہ کی رپورٹس کے مطابق عالمی سطح پر اتنی خوراک پیدا ہوتی ہے جو تمام انسانوں کی ضرورت کیلئے کافی ہے لیکن اس کے باوجود کروڑوں انسان روزانہ رات کو بھوکے پیٹ سونے پر مجبور ہیں۔اقوامِ متحدہ کی جانب سے جاری کردہ حالیہ رپورٹ کے مطابق سائنسی و صنعتی ترقی کے باوجود اس وقت دنیا بھر میں 64 کروڑ 50 لاکھ سے زائد افراد شدید بھوک اور غذائی قلت کا شکار ہیں جبکہ 2 ارب 69 کروڑ افراد ایسے ہیں جنہیں صحت بخش اور متوازن غذا تک رسائی حاصل نہیں ہے۔ رپورٹ میں یہ انکشاف بھی کیا گیا ہے کہ دنیا کے 70 فیصد سے زائد بھوکے افراد جنگ زدہ اور سیاسی و معاشی عدم استحکام کا شکار خطوں میں زندگی گزار رہے ہیں۔کروڑوں بچے غذائی قلت کے باعث ذہنی و جسمانی پسماندگی کا سامنا کر رہے ہیں۔
ایک ایسے دور میں جہاں خوراک کی پیداوار بڑھانے کے دعوے کئے جاتے ہیں وہیں معاشی ناہمواری، علاقائی جنگیں اور تنازعات غریب عوام سے ان کا یہ بنیادی حق چھین رہے ہیں۔ جب تک ریاستیں اور معاشرے بھوک کے خاتمے کو اپنی اولین ترجیح نہیں بنائیں گے، امن اور ترقی کا ہر خواب ادھورا رہے گا۔خوراک محض ایک بنیادی انسانی ضرورت نہیں بلکہ ہر فرد کا بنیادی حق ہے۔ جب تک کرہ ارض پر ایک بھی انسان بھوک کی وجہ سے بستر پر سسک رہا ہے اس وقت تک ترقی کے تمام دعوے ادھورے ہیں۔عالمی سطح پر سالانہ اربوں ٹن تیار کھانا شادی ہالوں، ہوٹلوں اور گھروں میں ضائع کر دیا جاتا ہے۔بدلتے ہوئے عالمی حالات میں روایتی طریقوں کو بدل کر ہی انسانیت کو بھوک سے بچایا جا سکتا ہے۔بھوک کے خاتمے اور سستی و معیاری غذا کی ہر شہری تک رسائی کو یقینی بنانے کیلئے مشترکہ کوششیں تیز کرناہونگی۔
ہماراملک پاکستان بھی زرعی ہونے کے باوجود ایک بڑی آبادی غذائی عدم تحفظ کا سامنا کر رہی ہے۔ سرکاری و غیر سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں تقریباً 40 فیصد بچے مناسب خوراک نہ ملنے کی وجہ سے جسمانی اور ذہنی نشوونما میں کمی کا شکار ہیں جو کہ ایک گہرے انسانی بحران کی نشاندہی کرتا ہے اگر خوراک کے ضیاع کو نہ روکا گیا اور زراعت کی طرف فوری توجہ نہ دی گئی توآنے والے دنوں میں غذائی بحران مزید شدید شکل اختیار کر سکتا ہے۔ہمیں ایسی غذائی پالیسیاں بنانا ہونگی جن سے غریب ترین طبقے تک بھی سستی اور معیاری خوراک پہنچ سکے۔ حکومت، ادارے اور عام شہری مل کر ایک ایسا نظام تشکیل دیں جہاں کوئی شخص بھوکا نہ سوئے اور رزق کی نعمت کا ضیاع نہ ہو۔بھوک کے خاتمے اور سستی و معیاری غذا کی ہر شہری تک رسائی کو یقینی بنانے کیلئے مشترکہ کوششیں تیز کی جائیں۔پاکستان جو کہ بنیادی طور پر ایک زرعی ملک ہے، حالیہ برسوں میں موسمیاتی تبدیلیوں کی بدترین زد میں آیا ہے اس صورتحال کو بدلنے کیلئے حکومت اور عوام دونوں کو ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرنا ہوں گے۔پاکستان ایک زرعی ملک ہونے کے ناطے اپنے زرخیز میدانوں اور دریاؤں کی بدولت پہچانا جاتا ہے لیکن اس کے باوجود ملک کی ایک بڑی آبادی غذائی عدم تحفظ کا شکار ہے۔
عالمی یومِ خوراک کا تقاضا ہے کہ بنیادی خوراک کی اشیاء عام آدمی کی پہنچ میں لانے کیلئے فوری معاشی اقدامات کئے جائیں۔خوراک کا عالمی دن ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ ہم اپنے حصے کی شمع جلائیں، رزق کا احترام کریں اور ایک ایسے پرامن معاشرے کی بنیاد رکھیں جہاں کوئی بھی انسان بھوکا نہ سوئے۔عالمی یومِ خوراک صرف تقاریب یا تقاریر کا نام نہیں بلکہ یہ ایک عملی اقدام کا تقاضا کرتا ہے۔حکومت کو چاہیے کہ کسانوں کو جدید ٹیکنالوجی، کم پانی سے پکنے والے بیج، اور موسمیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت فراہم کرنے سمیت سستے بیج اور کھاد فراہم کریں اس کے ساتھ ساتھ پانی کے ذخائر کوبھی بہتر بنایاجائے۔کسانوں کو مصنوعی ذہانت (AI)، جدید ڈیٹا اور کلائمٹ اسمارٹ ٹیکنالوجی تک رسائی دی جائے تاکہ کم پانی اور کم لاگت میں زیادہ پیداوار ممکن ہو۔
آئیے اس عالمی یومِ خوراک پر یہ عہد کریں کہ ہم نہ خود کھانا ضائع کریں گے اور نہ اپنے ارد گرد کسی کو بھوکا رہنے دیں گے۔ بحیثیت قوم یہ عہد بھی کریں کہ ہم رزق کی قدر کریں گے، کھانے کے ضیاع کی روک تھام کریں گے۔تعلیمی اداروں اور میڈیا کے ذریعے عام شہریوں کو متوازن اور مغذی غذا کی اہمیت کے بارے میں آگاہ کیا جائے۔شہری علاقوں میں گھریلو کاشتکاری کو فروغ دیا جائے تاکہ خاندان اپنی سبزیوں کی ضرورت خود پوری کر سکیں۔ انفرادی سطح پر ہمیں ”زیرو ویسٹ“ کی پالیسی اپنانی ہوگی۔
عالمی یومِ خوراک پر بحیثیت قوم ہمیں یہ عہد بھی کرناہوگا کہ ہم رزق کی قدر کریں گے اور کھانے کے ضیاع کی روک تھام کریں گے۔
حاصل کلام یہ ہے کہ بھوک اور غذائی عدم تحفظ کا خاتمہ صرف حکومتوں یا عالمی اداروں کی ذمہ داری نہیں، بلکہ یہ ایک اجتماعی انسانی مسئلہ ہے جس کا حل مشترکہ جدوجہد میں ہی مضمر ہے۔ پاکستان جیسے زرعی ملک کے لیے وقت کا تقاضا ہے کہ ہم ہنگامی بنیادوں پر زرعی اصلاحات کریں، کسانوں کو جدید ٹیکنالوجی فراہم کریں اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نپٹنے کیلئے عملی اقدامات کریں۔ عالمی یومِ خوراک ہمیں یہ آفاقی پیغام دیتا ہے کہ رزق صرف ایک نعمت نہیں بلکہ ایک امانت بھی ہے۔ آج بحیثیت قوم یہ پختہ عہد کرنا ناگزیر ہے کہ ہم رزق کی قدر کریں گے، کھانے کے ضیاع کا بائیکاٹ کریں گے اور اپنے حصے کی شمع جلا کر ایک ایسے پرامن اور باوقار معاشرے کی بنیاد رکھیں گے جہاں کوئی بھی انسان بھوکا نہ سوئے۔



