health & Foodlatest news

وزیراعظم کا عالمی یومِ خوراک پر جدید زرعی ٹیکنالوجی اپنانے اور غذائی تحفظ یقینی بنانے پر زور

اسلام آباد(ہم شہری) وزیراعظم محمد شہباز شریف نے عالمی یومِ خوراک کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ پاکستان غذائی تحفظ کے مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے عالمی برادری کے ساتھ تعاون کے عزم کا اعادہ کرتا ہے۔ زرعی شعبے میں جدت، جدید ٹیکنالوجی اور موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کی صلاحیت پائیدار ترقی اور مستقبل میں غذائی تحفظ کی ضمانت ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ اس سال عالمی یومِ خوراک ’’آج جدت اپنائیں، کل کو غذائیت سے بھرپور بنائیں‘‘ کے عنوان کے تحت منایا جا رہا ہے، جو زرعی شعبے میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی اہمیت اجاگر کرتا ہے۔ موسمیاتی تبدیلی، پانی کی قلت، زمین کی زرخیزی میں فرق، پیداواری لاگت میں اضافہ اور غذائی رسد میں رکاوٹوں جیسے مسائل کا حل جدید سائنسی تحقیق اور ٹیکنالوجی کے ذریعے ممکن ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت زرعی اور غذائی شعبوں کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ سائنسی تحقیق اور جدید ٹیکنالوجی کو مقامی کاشتکاروں کے علم اور عملی تجربات کے ساتھ یکجا کرکے زرعی پیداوار میں نمایاں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔

وزیراعظم کے مطابق زرعی ترقی کا تعلق قومی غذائی تحفظ، معیشت، دیہی روزگار اور مویشی پالنے کے شعبے کی ترقی سے بھی ہے۔ محنتی کسان، مویشی پال اور زرعی شعبے سے وابستہ افراد قومی غذائی ضروریات پوری کرنے میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ وفاقی حکومت نے قومی زرعی و غذائی تحفظ کونسل (NAFSC) قائم کی ہے تاکہ زرعی ترقی کے لیے مربوط اور مؤثر اقدامات کیے جا سکیں۔ وفاقی و صوبائی حکومتیں اور متعلقہ ادارے بہتر بیجوں کی تیاری، پیداواری ٹیکنالوجی میں تحقیق، زرعی مشینری کے فروغ، ڈیجیٹل نظام کے نفاذ، پانی کے مؤثر استعمال اور کسانوں و منڈیوں کے درمیان روابط مضبوط بنانے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔

شہباز شریف نے کہا کہ چھوٹے کاشتکاروں کی مالی مشکلات دور کرنے اور انہیں آسان شرائط پر قرضوں کی فراہمی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ اس مقصد کے لیے نجی بینکوں کو بھی زرعی قرضوں کی فراہمی کے اقدامات میں شامل کیا گیا ہے تاکہ ملک بھر کے کسانوں کو مالی سہولتیں میسر آسکیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ غذائی تحفظ کے لیے خوراک کی وافر پیداوار کے ساتھ اس کا معیار اور غذائیت بھی اہم ہیں۔ ہر شہری کو غذائیت سے بھرپور خوراک کی دستیابی یقینی بنانا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ زرعی اجناس کو عالمی معیار کے مطابق ذخیرہ کرنے، ان کی پراسیسنگ کے ذریعے مالی قدر اور غذائیت بڑھانے اور زرعی مصنوعات کی عالمی منڈیوں تک رسائی کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ان کوششوں سے زرعی اجناس، حلال گوشت اور ماہی گیری کی مصنوعات کی برآمدات میں اضافے کی راہ ہموار ہوگی۔

وزیراعظم کے مطابق زرعی اجناس کی پیداوار میں خودکفالت سے درآمدات پر خرچ ہونے والے قیمتی زرمبادلہ کی بچت بھی ممکن ہے، جبکہ ممکنہ پیداواری کمی سے نمٹنے کے لیے پیشگی اقدامات قومی وسائل کے بہتر استعمال میں مدد دیتے ہیں۔

اپنے پیغام کے اختتام پر وزیراعظم نے صوبائی حکومتوں، کسانوں، محققین، زرعی ماہرین، نجی شعبے، ترقیاتی شراکت داروں اور سول سوسائٹی پر زور دیا کہ وہ کسانوں کو بااختیار بنانے اور ملک کو غذائی تحفظ سے ہمکنار کرنے کے لیے اپنا مثبت کردار ادا کریں۔ انہوں نے ایک مضبوط، جامع اور پائیدار غذائی نظام کی تشکیل کے لیے قومی سطح پر مشترکہ کوششیں جاری رکھنے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button