health & Foodlatest news

تمباکو کے استعمال میں کمی کیلئے ٹیکسوں میں اضافے اور سگریٹ پیکٹس پر تصویری انتباہات مؤثر بنانے کا مطالبہ

لاہور(عمران اسلم)عورت فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام لاہور میں ہونے والی مشاورتی نشست میں حکومتی نمائندوں، ارکان پارلیمنٹ، ماہرین تعلیم، قانون نافذ کرنے والے اداروں، میڈیا اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے تمباکو کے استعمال میں کمی اور عوامی صحت کے تحفظ کے لیے تمباکو مصنوعات پر ٹیکس بڑھانے اور سگریٹ کے پیکٹس پر تصویری انتباہات کو مزید مؤثر بنانے پر زور دیا ہے۔

فور پوائنٹس بائی شیراٹن ہوٹل لاہور میں منعقدہ مشاورتی نشست کا عنوان ’’تصویری انتباہات کے استحکام اور تمباکو پر ٹیکس میں اضافے سے متعلق آگاہی‘‘ تھا۔ شرکا نے تمباکو کے استعمال کی روک تھام، عوامی آگاہی میں اضافے اور متعلقہ سرکاری اداروں کے درمیان رابطہ کاری کو مضبوط بنانے کے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا۔

عورت فاؤنڈیشن کی نبیلہ شاہین نے استقبالیہ کلمات میں تنظیم کا تعارف کراتے ہوئے تمباکو پر قابو پانے کے لیے متعلقہ حلقوں کی شمولیت کی اہمیت اجاگر کی۔ ٹیم لیڈر سید صفدر رضا نے منصوبے کے اغراض و مقاصد بیان کرتے ہوئے پاکستان میں تمباکو کی روک تھام کے لیے مشترکہ کوششوں اور مؤثر اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔

مشاورتی نشست سے خطاب کرتے ہوئے کنسلٹنٹ سید ذوالفقار حسین شاہ نے تمباکو کے استعمال میں کمی کے لیے ٹیکسوں میں اضافے اور سگریٹ کے پیکٹس پر نمایاں تصویری انتباہات کی اہمیت واضح کی۔ انہوں نے اس امر پر توجہ دلائی کہ تمباکو مصنوعات کو مہنگا کرنے اور ان کے صحت پر مضر اثرات سے متعلق آگاہی بڑھانے سے ان کے استعمال کی حوصلہ شکنی کی جا سکتی ہے۔

پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے ایڈیشنل ڈائریکٹر ابوذر معظم نے تمباکو کی روک تھام میں تعلیمی اداروں کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ طلبہ اور نوجوانوں کو تمباکو کے نقصانات سے آگاہ کرنے کے لیے تعلیمی شعبے کی کوششیں اہمیت رکھتی ہیں۔

پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ جینڈر اسٹڈیز کی ڈاکٹر رعنا ملک نے تمباکو کنٹرول کے حوالے سے صنفی تناظر کی اہمیت بیان کی۔ انہوں نے آگاہی مہمات اور پالیسیوں کی تشکیل میں معاشرے کے مختلف طبقات کی ضروریات اور صنفی عوامل کو مدنظر رکھنے پر زور دیا۔

محکمہ سوشل ویلفیئر کے میڈیکل سوشل آفیسر سمرایز حفیظ نے انسدادِ منشیات کمیٹیوں کے کردار پر گفتگو کرتے ہوئے ادارہ جاتی رابطہ کاری اور کمیونٹی کی شمولیت کو تمباکو سمیت دیگر مضر اشیا کے استعمال کی روک تھام کے لیے اہم قرار دیا۔

علی زین نے میڈیا اور سول سوسائٹی کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ تمباکو کے مضر اثرات سے متعلق آگاہی پیدا کرنے، تصویری انتباہات کو مؤثر انداز میں اجاگر کرنے اور تمباکو کنٹرول کی پالیسیوں کی حمایت بڑھانے میں میڈیا اور سماجی تنظیمیں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔

پنجاب کاؤنٹر نارکوٹکس فورس کے لیفٹیننٹ کرنل مہر فیصل نے انسدادِ منشیات اور تمباکو کنٹرول کے حوالے سے متعلقہ اداروں کی مشترکہ کوششوں اور احتیاطی اقدامات کی اہمیت اجاگر کی۔

نشست میں پارلیمانی وابستگیوں سے متعلق سیشن کے دوران ارکان پارلیمنٹ نے تمباکو کنٹرول کے لیے مؤثر قانون سازی، سیاسی عزم اور منتخب نمائندوں کے کردار پر تبادلہ خیال کیا۔ شرکا نے اس امر پر زور دیا کہ پارلیمنٹیرینز مؤثر پالیسیوں کی حمایت، عوامی آگاہی اور تمباکو کے استعمال میں کمی کے اقدامات کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

خواتین کی ترقی کے محکمے کی پارلیمانی سیکریٹری سلمیٰ سعدیہ تیمور کو تقریب میں بطور مہمانِ خصوصی اختتامی خطاب کرنا تھا۔

مشاورتی نشست میں اس بات پر اتفاقِ رائے کو اجاگر کیا گیا کہ تمباکو کے استعمال کی روک تھام کے لیے حکومت، تعلیمی اداروں، قانون نافذ کرنے والے محکموں، پارلیمنٹ، جامعات، میڈیا اور سول سوسائٹی کو مشترکہ حکمت عملی کے تحت کام کرنا ہوگا۔ اس مقصد کے لیے تصویری صحت انتباہات کو مؤثر بنانا، تمباکو پر ٹیکسوں میں اضافے کی حمایت اور عوامی آگاہی کو فروغ دینا ضروری ہے۔

تقریب کا اختتام گروپ فوٹو اور ہائی ٹی کے ساتھ ہوا، جس کے دوران شرکا کو باہمی تبادلہ خیال کا موقع بھی ملا۔

عورت فاؤنڈیشن نے تمباکو کنٹرول کی مؤثر پالیسیوں کے فروغ، عوامی آگاہی میں اضافے اور صحت مند، تمباکو سے پاک پاکستان کے قیام کے لیے ارکان پارلیمنٹ، سرکاری اداروں، سول سوسائٹی اور دیگر متعلقہ فریقوں کے ساتھ تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button