وزیراعظم شہباز شریف کا سفید چھڑی کے تحفظ کے عالمی دن پر پیغام

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے سفید چھڑی کے تحفظ کے عالمی دن کے موقع پر بصارت سے محروم افراد کی ہمت، حوصلے، عزم اور زندگی کے لیے جذبے کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت خصوصی افراد کے حقوق کے تحفظ اور انہیں مساوی مواقع فراہم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔
15 اکتوبر کو سفید چھڑی کے تحفظ کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں وزیراعظم نے کہا کہ بصارت سے محروم افراد کو بااختیار بنانے اور معاشرے میں ان کی شمولیت یقینی بنانے کے لیے ان کے اہلِ خانہ، معاشرتی معاونت کے نظام اور متعلقہ اداروں کی خدمات قابلِ ستائش ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سفید چھڑی کا عالمی دن دنیا بھر میں بصارت سے محروم لاکھوں افراد کی خودمختاری، نقل و حرکت کی آزادی، خوداعتمادی اور وقار کو اجاگر کرنے کا اہم موقع ہے۔ سفید چھڑی ایک معاون ذریعہ ہے جو بصارت سے محروم افراد کو روزمرہ زندگی میں خودمختاری کے ساتھ حصہ لینے اور مختلف شعبوں میں کامیابیاں حاصل کرنے کے قابل بناتی ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ زندگی کے ہر شعبے میں بصارت سے محروم افراد کی شرکت اور کامیابیاں بھرپور تحسین کی مستحق ہیں۔ پاکستان کو ان باصلاحیت افراد کی کامیابیوں اور نمایاں سنگِ میل پر فخر ہے، بالخصوص پاکستانی سفارت کار محترمہ صائمہ سلیم کی خدمات قابلِ فخر ہیں، جو اقوام متحدہ کے اعلیٰ عالمی سفارتی فورم پر پاکستان کی نمائندگی کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ دن انفرادی اور اجتماعی سطح پر احساسِ ذمہ داری کو فروغ دینے، انسانیت کی خدمت کے جذبے کی حوصلہ افزائی کرنے اور بصارت سے محروم افراد کے حقوق اور ضروریات کے حوالے سے آگاہی بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ حکومت پاکستان قومی عزم اور شمولیت، مساوات اور وقار کے عالمی اصولوں کے تحت خصوصی افراد کے حقوق کے تحفظ اور انہیں مساوی مواقع فراہم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ وفاقی حکومت، صوبائی حکومتوں اور متعلقہ اداروں کے تعاون سے جامع اور قابلِ رسائی تعلیمی اداروں، رکاوٹوں سے پاک کام کی جگہوں، محفوظ سڑکوں، قابلِ رسائی عوامی عمارتوں اور ذرائع آمدورفت کی فراہمی کے لیے کام کر رہی ہے، تاکہ خصوصی افراد کی معاشرے میں مساوی شرکت یقینی بنائی جا سکے۔
وزیراعظم نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اجتماعی کوششوں کے ذریعے ان تمام جسمانی، سماجی اور ادارہ جاتی رکاوٹوں کو دور کرنا معاشرتی ذمہ داری ہے جو خصوصی افراد کو اپنی صلاحیتوں کا بھرپور اظہار کرنے اور اپنی استعداد کے مطابق آگے بڑھنے سے روکتی ہیں۔
انہوں نے خصوصی افراد کے حقوق، تحفظ، خودمختاری اور معاشرتی شمولیت کے فروغ کے لیے کام کرنے والی تمام تنظیموں، اداروں اور افراد، بالخصوص پاکستان ایسوسی ایشن آف دی بلائنڈ کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے انہیں خراجِ تحسین پیش کیا۔



