column and articlelatest news

کچھ ایسا تھا لاہور ۔۔۔۔۔۔۔۔ واجد امیر

رختاب تراشے

ہم نے جو لاہور دیکھا تھا وہ آج کے پُرہجوم اور شوروشرابے سے بھرے لاہور سے مختلف تھا۔ مال روڈ ہی کی بات کریں تو ناصر باغ جو پہلے گول باغ تھا، سب طرف سے کھلاتھا۔

ٹاون ہال، یونیورسٹی اور عجائب گھر ایسے ہی تھے البتہ عجائب گھر کے باہر بدھا کا فاقہ زدہ مجسمہ ہوتا تھا اس کی جگہ ابھی تک موجود ہے، مجسمہ اٹھا لیا گیا۔ ٹولنٹن مارکیٹ کمال جگہ تھی برآمدے میں دو ریستوران تھے، کیپری اور کبانہ کسی ایک رستوران میں گیلری بھی تھی مگر یہ ہماری پہنچ سے باہر تھے اندر گروسری سٹور تھے۔

یہاں الفتح سٹور تھا ایک اور سٹور شاید الحمرہ تھا یہاں ملنے والے چیزیں لاہور میں کہیں دستیاب نہیں تھیں ان میں سے اکثر امپورٹڈ تھیں۔ چائنز لنچ ہوم اور پاک ٹی ہاؤس میں تیار ہونے والے بیکری اور کچن کی بہت سی آئٹم انگلش ریسیپز سے تیار ہوتی تھیں، وہ سب کی سب یہیں سے دستیاب تھیں۔

یہاں اور بھی گروسری سٹور تھے یہ مارکیٹ بنی ہی انگریز حکمرانوں اور اعلیٰ سوسائٹی کے لیے تھی اس کے عقب میں مرغی اور پرندوں کی مارکیٹ تھی برائلر تب نہیں ہوتا تھا دیسی چکن تھا جو بہت مہنگا تھا مگر چکن روسٹ اسی سے بنتا تھا۔ اس کے پیچے مٹن اور بیف کی مارکیٹ تھی بہت بچپن میں ایک مرتبہ ابا جی کے ساتھ اس مارکیٹ میں گئے تو یہاں کی چکاچوند دیکھ کے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے، گوشت کی مارکیٹ رات گئے تک جگمگ کررہی تھی جبکہ باقی لاہور میں تمام اشیائے ضرورتِ کی دکانیں سرِ شام بند ہو جاتی تھیں۔

ساٹھ کی دہائی میں نجانے کس کام سے ابا جی کے ساتھ سائیکل پر سوار اس مارکیٹ میں آئے تھے تب یہیں عجائب گھر کی دیوار کے پاس کھڑے ہو کے وہ غلافِ کعبہ دیکھا تھا جو پہلی مرتبہ پاکستان سے بن کے گیا تھا یہ ایک بیل گاڑی پہ رکھا تھا اور بیل گاڑی مال روڈ سے گزررہی تھی ۔
پرانی انارکلی کے نکڑ پہ شراب کی دکان تھی یہ دکان موجود ہے شراب ندارد ایسی کئی دکانیں لاہور میں تھیں جی ہاں نئی انارکلی میں ٹھیکہ افیون ہم نے اپنی ان پارسا آنکھوں سے دیکھا تھا اور افیمچی حضرات کو لائین میں لگے افیم خریدتے بھی دیکھا تھا یہ دکان بمبے کلاتھ ہاؤس کے قریب تھی ۔
کمرشل بلڈنگ میں جیورلز اور ساڑھی والے بہت سے تھے اب کم ہو گئے ہیں۔ سامنے دو ریستوران تھے چائنیز لنچ ہوم اور کافی ہاؤس دونوں ختم ہو گئے چائنیز لنچ ہوم کی بات پھر سہی جب ہم بھی یہاں کاونٹر پہ بیٹھے تھے۔
یہیں دلی ہاؤس ، لائٹ ہاؤس تھے انہی کے درمیاں شوکت فوٹو گرافر تھے جو ہمارے فیملی کی شادیوں میں تصویریں بناتے تھے۔ سامنے یہ سروس روڈ اس نالائق ٹاون پلانر نے برباد کی جس نے یہاں مٹی کے ٹیلے اور درختوں کے بے کار جھنڈ بنا دیے۔ پھر یہ خطہ کبھی آباد نہ ہوسکا بلکہ مال روڈ سے گزرنے والوں کی نظر سے اوجھل کر دیا ایک عارضی مسجد اور اس کی سیورج نے یہاں مسقل نکاس کا مسئلہ بنائے رکھا۔ سامنے پاک ٹی ہاؤس اور ایگل سائیکل کی دوکان تھی، بشیر سنز ایسا ہی تھا مگر اس کے سامنے بہت چوڑا فٹ پاتھ تھا جہاں پانچ سات افراد اکٹھے چل سکتے تھے۔
وائے ایم سی اے ریسیٹورنٹ بھی تھا اور وائے ایم سی اے کے اندر ہوسٹل تھا جہاں نوجوان رہتے بھی تھے اور یہیں رہنے والے پاک ٹی ہاؤس اور چائنیز لنچ ہوم کے مستقل گاہک بھی تھے۔ وائے ایم سی اے کے اندر پنچابی ادبی سنگت ، حلقہ تصنیفِ ادب، اور حلقہ اربابِ ذوق کا اجلاس بھی ہوتا تھا وائے ایم سی اے کے اوپر ایک ہال تھا جہاں کئی بار مذہبی جلسے بھی ہوتے تھے ہم  نے وہ بھی دیکھے ہیں۔ کبھی کبھار سٹیج ڈرامہ بھی ہوتا تھا چھوٹی سی جگہ پر یہ ڈرامے ہوتے تھے۔
ریستوران معراج سنز والے چلاتے تھے جو نوے کی دہائی تک فعال رہا۔ سامنے یو بی ایل تھا جہاں پہلی بار ہم نے بینک جوائن کیا تھا۔ یہیں پیجو ٹی سٹال تھا چھوٹی سی جگہ پر، یوں بھی مال روڈ پہ بہت سے ریستوران تھے شیزان دو تھے۔ ایک دیال سنگھ مینش دوسرا شاید صوبہ خان ٹیلر کےاوپر تھا، یہ کانٹینیل کہلاتا تھا۔ ایک مسجدِ شہدا کے سامنے تھا جہاں پینوراما ہے اس کے قریب تھا لارڈز ، سلاطین ، انڈس تھے ایک سیلوز تھا واپڈا ہاؤس کی بیسمنٹ میں اس میں بھی بہت سے لوگ بیٹھتے تھے ۔
جاری ھے

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button