
سرخ و سفید رنگت، سلیقے سے سنوارے گئے بال، کلین شیو، آنکھوں کے گرد حلقے جیسے سالوں سے بے خوابی کا شکار ہوں، اُداس اُداس آنکھوں پر موٹے شیشوں والی پرانی طرز کی عینک، درمیانہ قد، چھریرہ بدن، داخلی طور پر منظم و مطمئن، شخصیت میں انوکھی کشش اور سب سے بڑھ کر چہرے پہ مہاتما بدھ جیسی شانتی، ہمیشہ خوابوں اور خیالوں میں گم رہتا اور اکثر ُکرتا پاجامہ پہنے نظر آتا وہ بالعموم انارکلی کے آس پاس مال روڈ کے فٹ پاتھ پر پرانی کتابیں تلاش کرتا ِپھرتا، میں نے کئی بار اسے لاہور میوزیم کی طرف سے بغل میں کتاب دبائے آتے ہوئے دیکھا، کبھی کبھی وہ مجھے ٹولنٹن مارکیٹ کے کونے پر سگریٹ اور پانوں کی اس چھوٹی سی دکان سے سگریٹ خریدتا نظر آتا رات کے پچھلے پہر جہاں رُک کر ناصر کاظمی آخری پان منہ میں رکھتے، سگریٹ سلگا کر لمبا کش لیتے اور اپنے انتظار میں اونگھتے کوچوان کے تانگے کی اگلی سیٹ پر جا بیٹھتے۔ وہ بھی اسی دکان سے سگریٹ خریدتا اور اردگرد پر یوں حسرت کی نظر کرتا جیسے وقت کے آتش دان سے بجھے دنوں کی راکھ چننے کی کوشش کر رہا ہو وہ سگریٹ کا لمبا کش لیتا، سگریٹ کی ڈبیا کو پاجامے کی جیب میں احتیاط سے رکھتا اور فٹ پاتھ پر پرانی کتابوں کے بوسیدہ صفحات کو اپنے ہاتھوں کا لمس دان کرنے چل دیتا کئی بار میں نے اسے ٹولنٹن مارکیٹ کے کونے پر واقع کتابوں کی دُکان پر رسائل کو اُلٹتے پلٹتے پایا اور بارہا چائنیز لنچ ہوم کے پہلو میں واقع انگریزی کتابوں کی دکان پر کتابیں خریدتے دیکھا کتابوں کے بارے میں اس نے نہایت عمدہ ذوق پایا تھا، قریباً ہر روز وہ اپنے لیے ایک نئی کتاب کا انتخاب کرتا اور دھیرے دھیرے پاک ٹی ہائوس کی طرف روانہ ہو جاتا۔

میں اس زمانے میں ایم اے اردو کا طالب علم تھا اور اوریئنٹل کے عقب میں واقع وولنز ہوسٹل میں مقیم تھا یہ ہوسٹل پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور سنسکرت زبان کے پروفیسر ڈاکٹر الفریڈ وولنر سے منسوب تھا انارکلی، مال روڈ اور پاک ٹی ہائوس سے ارضی قربت کے باعث یہ علاقہ ہماری آوارگی کے لیے اولین جولان گاہ تھا یہ گرمیوں کی ایک خوش گوار صبح تھی لاہور کے بڑے بڑے نامور ادیب اور شاعر فٹ پاتھ پر پرانی کتابیں تلاش کرتے پھر رہے تھے اچانک میری نظر نظموں کے ایک مجموعے ’’تنہائی‘‘ پر پڑی میں کتاب اُٹھانے کے لیے آگے بڑھا مگر مجھ سے پہلے ہی کتاب کسی اور کی دسترس میں جا چکی تھی جیسے ہی کتاب اُٹھانے والے سے میری آنکھیں چار ہوئیں اسے اپنے سامنے دیکھ کر مجھے حیرت کے ساتھ ساتھ ایک طرح کی خوشی بھی ہوئی میں واپس مڑنے ہی والا تھا کہ وہ بولا ’’آپ کو یہ کتاب چاہیے؟‘‘ میں نے کہا ’’ہاں مگر اب تو یہ آپ کے ہاتھ میں ہے‘‘ وہ بولا ’’آپ رکھ لیں میں اپنے پبلشر سے لے لوں گا‘‘ میں نے کتاب کے پس ورق پر لگی شاعر کی تصویر کو حیرانی سے دیکھا پھر اس کے چہرے پر نظر کرتے ہوئے کہا ’’یہ تو آپ ہیں‘‘ وہ اپنی اندرونی خوشی کو چھپاتے ہوئے بولا ’’ہاں زاہد ڈار میں ہی ہوں‘‘ جدید نظم کے اتنے اہم شاعر کو اچانک اپنے سامنے پا کر میرا دل خوشی اور حیرانی سے بھر گیا جب میں نے انہیں بتایا کہ میں لٹریچر کا طالب علم ہوں اور شعر بھی کہتا ہوں تو ان کے چہرے کی اجنبیت اچانک اپنائیت میں بدل گئی انہوں نے مجھے ٹی ہائوس میں بیٹھ کر چائے پینے کی دعوت دی جسے میں نے اعزاز سمجھ کر قبول کر لیا۔ ٹی ہائوس میں اِکا دُکّا لوگ موجود تھے وہ چپ چاپ ایک ایسی میز پر جا بیٹھے جو قہوہ خانے کے وسط میں موجود تھی آنے والے دنوں میں معلوم ہوا کہ اس میز کو پورے ٹی ہائوس میں ایک خصوصی امتیاز حاصل ہے کہ ناصر کاظمی، مسعود اشعر، ڈاکٹر سہیل احمد خان، احمد مشتاق، اُستاد امانت علی خان، شاہد حمید، جاوید شاہین اور انتظار حسین سمیت بہت سے نامور لوگ اسی کے گرد بیٹھا کرتے تھے اس وقت میں ایک ایسے شاعر کے روبرو تھا جسے نئی نظم کی تحریک میں نمایاں مقام حاصل تھا اس نے ڈاکٹر تبسم کاشمیری، افتخار جالب، محمد سلیم الرحمن، انیس ناگی، جیلانی کامران اور دیگر ہم عصر شعراء کے ساتھ مل کر نئی نظم کو ایک نیا رنگ و آہنگ بخشا تھا یہ پوری نسل جدید ادبی رو ّیوں کی علمبردار تھی۔ ٹی ہائوس میں مکمل خاموشی تھی الٰہی بخش نے آواز پیدا کیے بغیر ہمیں چائے پیش کی اور نہایت خاموشی سے باورچی خانے کی طرف سرک گیا اس روز ہمارے درمیان ایک طویل اور یادگار نشست ہوئی اس ملاقات میں زاہد ڈار نے اپنی نجی و ادبی زندگی کے بارے میں بڑے بڑے رازوں سے پردہ ہٹایا ہمارے مابین ہونے والی یہ اتفاقیہ ملاقات آنے والے دنوں میں ایک طویل شناسائی کا پیش خیمہ بنی۔
اس ملاقات کے دوران جہاں بہت سی اہم باتوں کا پتہ چلا وہیں یہ حیرت انگیز اطلاع بھی سامنے آئی کہ زاہد ڈار نے عمر بھر شادی نہیں کی اور زندہ رہنے کے لیے کبھی نوکری (چار ماہ کے علاوہ) کا سہارا نہ لیا اس ملاقات کے بعد کئی روز تک ایک ایسے شخص کا تصور میرے دل و دماغ پر چھایا رہا جسے اپنی محبوبہ کے لیے تحائف نہ خریدنا پڑتے تھے، گھر جاتے ہوئے تاخیر کا خوف نہ تھا نہ ہی بیوی کے سامنے بہانے تراشنے پڑتے تھے، اسے بچوں کی سکول فیس کی فکر نہ تھی اور نہ ہی یوٹیلٹی بلز کی ادائی کے لیے کسی کے سامنے خالی جیب کی ندامت کا سامنا کرنا پڑتا تھا، اسے دفتر سے لیٹ ہو جانے کا خوف نہ تھا اور نہ ہی دفتری سیاست کی سازشوں نے اس کا جینا حرام کر رکھا تھا وہ شادی اور نوکری کے لیے پیدا ہی نہ ہوا تھا اسے اس زمین پر صرف کتاب خوانی کے لیے بھیجا گیا تھا اس نے نوعمری ہی کے دنوں میں معمول کی زندگی کو مسترد کر دیا تھا زاہد ڈار نے اپنے لیے ایک مختلف زندگی کا انتخاب کیا اور پھر ساری زندگی اس پر قائم بھی رہے اس سلسلے میں ان کا خان دان ہمارے خصوصی شکریے کا مستحق ہے جس کی مالی معاونت کے بغیر اس خواب کی تعبیر ممکن نہ تھی۔ زاہد ڈار نے میٹرک کے بعد گورنمنٹ کالج لاہور میں داخلہ تو لیا مگر جلد ہی ان کا دل رسمی تعلیم سے اوب گیا گھر والوں کے اصرار پر جونیئر کلرک بن کر مظفر گڑھ چلے تو گئے مگر تین مہینے بعد ہی واپس آ گئے انہیں محسوس ہوا کہ مطالعے کے بغیر ان کی زندگی ضائع ہو رہی ہے 1958ء میں ایک بار پھر میڈیسن کی کمپنی میں کام کرنے کراچی پہنچے لیکن ایک مہینے بعد لاہور واپس آ گئے ان چار مہینوں کے علاوہ انہوں نے زندگی بھر کوئی کام نہ کیا اس کے بعد انہوں نے خود کو کتابوں کے لیے وقف کر دیا بعض لوگ اسے عملی زندگی سے فرار کا نام دیتے ہیں جب کہ زاہد ڈار کے نزدیک یہ زندگی کو ایک مختلف انداز سے دیکھنے اور برتنے کا زاویہ تھا اگرچہ انہوں نے معمول کی زندگی کو معمول کے مطابق بسر کرنے سے انکار کیا لیکن ایک کام انہوں نے عمر بھر معمول کے مطابق انجام دیا اور وہ تھی پاک ٹی ہائوس کی روزانہ کی یاترا اور وہاں بیٹھ کر کتاب سے کیے گئے عہد کی پاس داری۔ محبت سے لے کر شاعری تک زاہد ڈار نے کسی بھی چیز کو ہمیشہ کے لیے گلے سے نہ لگایا انہوں نے قریباً تین دہائیوں تک شاعری کی دیوی کے ناز اُٹھائے پھر اس سے ہاتھ چھڑا کر کتابوں کی دنیا میں کھو گئے شاید اسی مناسبت سے ٹی ہائوس میں ان کے ٹیبل فیلو جاوید شاہین نے انہیں راں بو کی معنوی اولاد (جب کہ انتظار حسین نے فالتو آدمی) قرار دیا تھا راں بو ایک فرانسیسی شاعر تھا جس نے سترہ اٹھارہ برس تک شاعری کرنے کے بعد اسے ناکارہ شئے سمجھ کر ایک طرف پھینک دیا اور دولت کمانے افریقہ چلا گیا مگر اس کی تھوڑی سی شاعری نے یورپ میں دھوم مچا دی ناقدین اس کی شاعری پر دھڑا دھڑ کتابیں لکھ رہے تھے جب کہ وہ شاعری چھوڑ چکا تھا زاہد ڈار نے بھی راں بو کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے شاعری کو تین طلاقیں دے دیں اس نے شاعری کا آغاز ڈائری لکھنے سے کیا تھا اور آخر میں بھی شاعری سے تائب ہو کر خود کو ڈائری نویسی تک محدود کر لیا۔

ان کی روزانہ کی ڈائری کو شاعری کے طور پر دریافت کرنے والے صفدر میر تھے جو گورنمنٹ کالج لاہور میں زاہد ڈار کے بھائی حامد ڈار کے رفیقِ کار تھے سکول کے دنوں سے زاہد ڈار ان کی نظموں کے دل دادہ تھے اور ان کے پاس صفدر میر کی نظموں کی کولیکشن بھی موجود تھی وہ ایک نوجوان کے پاس اپنی نظموں کا ذخیرہ دیکھ کر خوش ہو گئے صفدر میر ان دنوں انارکلی کی بخشی مارکیٹ کے ایک ہوٹل میں مقیم تھے ان کا کمرہ ہر طرح کی کتابوں سے چھلک رہا تھا زاہد ڈار، میر صاحب سے کتابیں مستعار لے کر پڑھتے اور ازاں بعد دونوں کے مابین ان کتابوں کے موضوعات و اسالیب پر مکالمہ بھی ہوتا اسی لیے کہا جاتا ہے کہ زاہد ڈار کی ادبی ترتیب کے پسِ پردہ صفدر میر کے کردار کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ادھر زاہد ڈار انتظار حسین کے بھی فین تھے اس زمانے تک ان کے نام سے جو کچھ شائع ہو چکا تھا (چاند گہن، کنگری اور گلی کوچے) وہ زاہد ڈار پڑھ چکے تھے ایک روز صفدر میر اور وہ کافی ہائوس کے سامنے سے گزر رہے تھے کہ انہیں سائیکل پر سوار انتظار حسین آتے دکھائی دیے صفدر میر نے چلّا کر کہا ’’انتظار حسین! یہ لڑکا تمہاری ساری کتابیں خرید کر پڑھ چکا ہے‘‘ یہیں سے انتظار حسین اور زاہد ڈار کی دوستی کا آغاز ہوا جو مرتے دم تک قائم رہی اس حوالے سے انتظار صاحب نے اپنے کالم میں لکھا کہ صفدر میر نے اپنی بلا ان کے سر ڈال دی۔ دوستی کے انہی ایّام میں ایک روز صفدر میر نے زاہد ڈار سے پوچھا ’’تم لکھتے بھی ہو یا صرف پڑھنے کا شوق ہے؟‘‘ زاہد ڈار بولے ’’میں اپنی روزانہ کی ڈائری شعری پیرائے میں لکھتا ہوں‘‘ صفدر میر نے یہ ڈائری دیکھی اور خوشی اور حیرانی سے بولے ’’ارے یہ تو شاعری ہے‘‘ زاہد ڈار یہ ڈائریاں شائع کرانے کے حق میں نہ تھے مگر صفدر میر نے انہیں بلا اجازت محمد حسن عسکری کے حوالے کر دیا جو ان دنوں کراچی سے لاہور آئے ہوئے تھے اور انہیں اپنے نئے رسالے ’’سات رنگ‘‘ کے لیے نئے نئے شاعروں اور ادیبوں کی تلاش تھی عسکری صاحب نے یہ نظمیں مادھو کے قلمی نام سے شائع کر دیں تو اہلِ لاہور مادھو کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے مجبوراً ناصر کاظمی کو اس راز سے پردہ ہٹانا پڑا۔ ادھر انتظار صاحب نے بھی ’’سات رنگ‘‘ کے آئندہ شمارے میں ایک مضمون (پوچھتے ہیں وہ کہ مادھو کون ہے) لکھ ڈالا یوں مادھو کی شہرت انڈو پاک کے ادبی حلقوں تک پھیل گئی، لوگ زاہد ڈار کو مادھو کے نام سے ُپکارنے لگے مگر انہیں یہ نام پسند نہ آیا تو جلد ہی وہ ’’سویرا‘‘ کے آئندہ شمارے میں اپنے اصلی نام کے ساتھ سامنے آ گئے۔ یہ پاک ٹی ہائوس کا سنہری دور تھا پورے ملک سے شاعر، ادیب اور ادب دوست حضرات لاہور آتے تو ادیبوں کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے پاک ٹی ہائوس کا پھیرا ضرور لگاتے اس زمانے میں دور دراز سے آنے والے لوگوں کی اکثریت زاہد ڈار کو دیکھنے کی تمنائی ہوتی تھی وہ پرانے ٹی ہائوس کے درمیان والی میز پر بیٹھے نظر آتے ان کی میز پر مخصوص ادیب ہی بیٹھ سکتے تھے ہر کسی کو یہاں بیٹھنے کی اجازت نہ تھی میں نے بارہا دیکھا کوئی ناپسندیدہ شاعر ان کی میز پر آن بیٹھتا تو وہ ناگواری سے اُٹھ کھڑے ہوتے اور ٹی ہائوس سے باہر ایک طرف کھڑے ہو کر کتاب پڑھنا شروع کر دیتے جب ناپسندیدہ شخص چلا جاتا تو واپس اپنی میز پر جا بیٹھتے۔ اسرار زیدی کے مرنے کے بعد وہ ٹی ہائوس میں مہمان نوازی کی روایت کے آخری امین تھے دور دراز کے شہروں سے آنے والے ادیب اس اُمید پر پاک ٹی ہائوس کا رُخ کرتے کہ کوئی ملے نہ ملے زاہد ڈار سے ملاقات تو یقینا ہوگی وہ اپنی تمام تر کم آمیزی اور تنہائی پسندی کے باوجود آنے والوں کو پاس بٹھا کر چائے پلاتے اور ان میں سے بعض کو شہر میں گھمایا بھی کرتے تھے۔

آپ دن کے کسی حصے میں بھی پاک ٹی ہائوس کا رُخ کریں آپ زاہد ڈار کو موجود پائیں گے کسی زمانے میں یہی حال ناصر کاظمی اور اے حمید کا تھا ٹی ہائوس کی بے رونقی میں واحد رونق زاہد ڈار ہوتے تھے لوگ انہیں اگلے وقتوں کی یادگار سمجھ کر دیکھنے آیا کرتے ویسے بھی ان دنوں ادیب اور شاعر روزانہ کی بنیاد پر ٹی ہائوس آیا کرتے تھے آج کل تو یہ قہوہ خانہ نئی نسل کا ڈیٹنگ پوائنٹ بن چکا ہے دن کے وقت جائیں تو وہاں سب سے زیادہ اجنبی شخص ادیب ہی ہوتا ہے۔
میرے خیال میں تاریخِ ادب ناصر کاظمی کے بعد زاہد ڈار کو ٹی ہائوس میں سب سے زیادہ بیٹھنے والے ادیب کے طور پر یاد رکھے گی وہ صبح ناشتے کے بعد ٹی ہائوس آتے اور ڈنر یہیں کر کے رات گئے صرف سونے کے لیے گھر لوٹتے وہ تمام وقت ٹی ہائوس میں بیٹھ کر کتابیں پڑھا کرتے، چائے کے ساتھ کتاب پڑھی جا رہی ہے، دوپہر کا کھانا کھاتے ہوئے کتاب سامنے دھری ہے، دوستوں کے درمیان بیٹھے کتاب کا وِرد جاری ہے، ہونٹوں میں سگریٹ مگر نظریں کتاب پر جمی ہیں، ٹی ہائوس کے باہر کھڑے ہیں مگر کتاب کا مطالعہ مسلسل جاری ہے کتاب کا ادبی ہونا ضروری نہ تھا کسی بھی موضوع سے متعلق کتاب مل جاتی اسے پڑھ ڈالتے، میں نے انہیں اردو، انگریزی اور پنجابی کتابیں پڑھتے دیکھا روسی، اطالوی، امریکی، فرانسیسی، جرمن، ہندی اور سپینش سمیت ہر قسم کا ادب پڑھتے تھے مطالعے کے دوران اگر کوئی ناپسندیدہ شخص آ جاتا تو کتاب سے چہرہ چھپا لیتے مگر مطالعے کا تسلسل جاری رہتا ایک ہی میز کے گرد بیٹھے دوستوں سے کتاب کے ذریعے لاتعلقی قائم کر لیتے، بات کرنے کی ضرورت محسوس کرتے تو کتاب چہرے سے ہٹا لیتے، کبھی کبھی یوں لگتا کہ وہ عادتاً پڑھتے ہیں کسی کام کی عدم موجودگی میں وہ کتابیں پڑھنے پر مجبور ہیں۔ ایک بار میں نے کتاب خوانی کے آغاز کے حوالے سے سوال کیا تو بولے ’’ایک بار میں چوتھی کلاس میں بیمار ہوا بستر پر لیٹا تھا کہ میرے بڑے بھائی نے وقت گزاری کے لیے مجھے ایک کتاب تھما دی مجھے کتاب نے ایسی لذت بخشی کہ باقی زندگی اسی کی رفاقت میں بسر کر دی، کتاب شروع میں میرا شوق تھا جو آخر آخر میں میری مجبوری بن گیا‘‘ زاہد ڈار ہر روز گھر سے ایک کتاب سمیت برآمد ہوتے، گھر میں نئی کتاب دستیاب نہ ہوتی ٹی ہائوس جانے سے پہلے رستے میں کسی بک سٹال سے نئی کتاب خریدتے، کبھی کبھار قریبی دوستوں سے کتاب مستعار بھی لے لیتے تھے ہر روز نئی کتاب پڑھنا ان کا مسئلہ تھا اکثر اوقات نئی کتاب پڑھنے کے بعد کسی کو دے دیتے یا پھر گھر جاتے ہوئے میز ہی پر چھوڑ جاتے اکثر لوگ کہتے ہیں کہ زاہد ڈار کام وام تو کرتے نہیں ایسے میں کتابوں پہ خرچ کرنے کے لیے اتنا سرمایہ کہاں سے آتا ہے؟ سو یار لوگوں نے مشہور کر دیا کہ زاہد ڈار سیکرٹ سروس کا ایجنٹ ہے اور ایجنسی نے اسے ادیبوں کی جاسوسی کے لیے پاک ٹی ہائوس میں لائونچ کیا ہے بدلے میں ملنے والی تنخواہ سے وہ شاہانہ زندگی بسر کرتا ہے یہ بات اُڑتی اُڑتی میرے کانوں تک پہنچی تو میں نے ایک روز ان سے پوچھ ہی لیا ’’لگتا ہے آپ کے والد نے مرتے وقت آپ کے لیے ایک بڑی جائیداد چھوڑی ہے؟‘‘ اداسی سے مسکرائے اور بولے ’’میرے والد کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے متحرک رکن تھے ان کی ساری زندگی ریل میں گزری یا پھر جیل میں، ان کا نام یٰمین ڈار تھا اور وہ اپنے زمانے کے مشہور انقلابی تھے عبداللہ ملک اور شورش کاشمیری جیسے اہلِ قلم نے اپنی تحریروں میں ان کا تذکرہ کیا ہے، 1945ء میں وہ لاہور کی جیل میں چل بسے انہوں نے ہم چھ بہن بھائیوں کے لیے جائیداد کی بجائے مسائل چھوڑے‘‘ ’’تو پھر یہ کارخانۂ زندگی کیسے چلتا ہے؟‘‘ وہ کچھ دیر خلا میں دیکھتے رہے پھر بولے ’’میری تین بہنیں پروفیسرز ہیں ایک بڑے بھائی حامد ڈار بھی گورنمنٹ کالج لاہور میں معاشیات کے اُستاد ہیں، میرے پانچوں بہن بھائی صبح اُٹھ کر دفتر جانے سے پہلے ایک ایک سو روپیہ میرے کمرے میں پڑی میز پر رکھ دیتے ہیں یوں ہر صبح میری جیب میں پانچ سو روپیہ ہوتا ہے جو میری ایک دن کی ضروریات کے لیے کافی ہوتا ہے سچ تو یہ ہے کہ اگر میرے بہن بھائی ساتھ نہ دیتے تو میں کب کا مر کھپ چکا ہوتا‘‘۔
زاہد ڈار کا خاندان لدھیانہ سے آیا تھا وہ تقسیم ہندوستان کے نتیجے میں بیوہ والدہ اور چھ بہن بھائیوں سمیت گیارہ برس کی عمر میں پاکستان پہنچے اور کرشن نگر میں آباد ہو گئے 1952ء میں اسلامیہ ہائی سکول سے میٹرک کیا (ان کی تاریخ پیدائش 1936ء ہے) اور گورنمنٹ کالج لاہور پہنچے یہیں ان کی ملاقات صفدر میر اور انیس ناگی سے ہوئی جلد ہی ان کی ملاقات انتظار حسین اور ناصر کاظمی (جنہیں وہ آوارہ گردوں کا ٹولہ کہا کرتے تھے) سے ہو گئی اس کے بعد یہ تینوں تھے اور لاہور کی گلیاں۔ صبح کو پاک ٹی ہائوس میں پائے جاتے تو دوپہر کو کافی ہائوس میں اور شام ان کی مال روڈ پر گزرتی وہ انتظار حسین سے دس سال چھوٹے تھے تو ناصر کاظمی ان سے بیس برس بڑے تھے مگر دونوں نے کبھی انہیں چھوٹا ہونے کا احساس نہ دلایا وہ سارا دن ریڈیو پاکستان، ادبی رسالوں کے دفاتر اور قہوہ خانوں کے چکر لگایا کرتے جدھر جاتے لاہور کے چائے خانے ادیبوں کی رونق سے چھلکتے نظر آتے اس زمانے کے ادیب سگریٹ، پان اور چائے کے رسیا تھے جب مال روڈ اور انارکلی میں واقع چھوٹے چھوٹے ہوٹل بند ہونے لگتے تو ناصر کاظمی کو چائے کی فکر ستانے لگتی ایسے میں زاہد ڈار کے بقول یہ لوگ بسوں کے اڈوں کا رُخ کیا کرتے ان میں سے کوئی اگر واپسی کی بات کرتا تو ناصر کاظمی ناراض ہونے لگتے اور بگڑ کر کہتے ’’بیٹھو! ابھی تو میری آنکھیں کھلنا شروع ہوئی ہیں‘‘ رات چائے خانوں میںکٹ جاتی رات کے آخری پہر کے ساتھ ہی واپسی کے سفر کا آغاز ہو جاتا پیدل چلتے چلتے ٹولنٹن مارکیٹ پہنچتے زاہد ڈار کا کہنا تھا کہ مارکیٹ کی نکڑ پر ایک تانگے والا ناصر کاظمی کے انتظار میں بیٹھا اُونگھ رہا ہوتا ہمیں دیکھتے ہی وہ سنبھل کر بیٹھ جاتا اور یہاں سے کرشن نگر کا سفر شروع ہوتا، ناصر کاظمی اور زاہد ڈار کو کرشن نگر اُتار کر انتظار حسین اسی تانگے پر اپنے گھر روانہ ہو جاتے۔ جس روز ناصر کاظمی زاہد ڈار کو جُل دینے میں کامیاب ہو جاتے ان کی یہ رات فلمیں دیکھتے ہوئے میکلوڈ روڈ کے سینمائوں میں گزرتی، ان کے بقول اس زمانے میں لاہور میں محض تین چار سینما ہال ہوتے تھے اور ٹکٹ بارہ آنے سے زیادہ نہ ہوتا تھا۔ زاہد ڈار نحیف و نزار شخصیت کے مالک تھے وہ بہت ہی کم کھاتے ہمیشہ پیٹ کی خرابی کا گلہ کرتے انتظار حسین اسے خود ساختہ روگ کہا کرتے تھے یار لوگوں کا کہنا تھا پیٹ تو ان کازندگی میں صرف ایک بار خراب ہوا البتہ وہ دوا آخری سانس تک کھاتے رہے 1990ء کے آس پاس کے دنوں میں کبھی کبھار ٹی ہائوس سے واپسی پر مجھے کرشن نگر تک ڈراپ کرنے کے لیے کہتے میں انہیں گھر چھوڑنے میں دلی خوشی محسوس کرتا۔
میری شادی کی اطلاع ملنے پر ایک روز میری بیگم سے ملنے ریواز گارڈن آئے کھانے پینے کے حوالے سے حد سے زیادہ محتاط تھے اس لیے میری بیگم نے ان کی فرمائش پر لوبیا پکایا تھا کھانا کھا کر بے حد خوش ہوئے پھر جیب سے دو سو روپیہ نکال کر اسے دیتے ہوئے بولے ’’بیٹی! میری اپنی معیشت کا دار و مدار دوسروں پر ہے پھر بھی یہ معمولی سا تحفہ قبول کرو‘‘ میں نے موقعہ غنیمت جان کر کہا ’’میں نے تو کر لی ہے اب آپ بھی شادی کر لیں‘‘ میری بات سن کر اُداسی سے مسکرائے اور بولے ’’ہمارے خان دان میں شادی کا رواج نہیں ہے ہم چھ بہن بھائیوں میں سے ایک بہن اور ایک بھائی نے شادی کی باقی سب کنوارے ہیں‘‘ میں نے حیرانی سے پوچھا ’’پڑھے لکھے اور ملازم پیشہ ہونے کے باوجود شادیاں نہ کرنے کا سبب کیا ہے؟‘‘ میرا سوال سن کر وہ ایک لمحے کے لیے رُکے بغیر بولے ’’اس کا سبب ہماری والدہ تھیں‘‘ انہوں نے بچپن سے جنس کے بارے میں ہمیں اتنا ڈرایا کہ ہم سارے بہن بھائی انسانی جسم ہی سے خوف زدہ ہو گئے ان کی جنسی تعلیمات ہماری شادیوں کے رستے کی سب سے بڑی رکاوٹ بن گئیں‘‘ شروع شروع میں وہ عورت سے خوف زدہ رہتے تھے پھر ایک دن ایسا ہوا کہ انہیں ایک عورت سے محبت ہو گئی۔
آوارگی، شاعری اور کتاب سے جی بھر گیا تو جاوید شاہین، اُستاد امانت علی خان اور سلیم شاہد جیسے دوستوں کی صحبت میں ممنوعہ پانیوں کے چشموں کے کنارے پڑائو ڈال دیے، کتاب سے تعلق کمزور پڑ گیا وہ آبِ تلخ پی کر کبھی ٹی ہائوس تو کبھی نیلا گنبد کے فٹ پاتھ پر بے ہوش پائے جاتے؛ اس زمانے میں انہوں نے گھر جانا بھی چھوڑ دیا تھا جہاں جگہ ملتی سو جاتے میرے پوچھنے پر ان کا کہنا تھا کہ دراصل وہ کثرت شراب نوشی کے نتیجے میں ایک رومانوی موت کے تمنائی تھے انہی دنوں ان کی ملاقات ’’بُری عورت‘‘ سے ہو گئی وہ ایک شادی شدہ شاعرہ تھی اس کا شوہر بھی اپنے زمانے کا مشہور شاعر تھا دونوں مل کر نظم کے اس خوب صورت شاعر کو بچانا چاہتے تھے زاہد ڈار ممنوعہ چشموں کے پانی میں دُھت ٹی ہائوس کے باہر پڑے انہیں مل جاتے، شاعرہ کو نوجوان نظم گو سے ہمدردی تھی جب کہ شاعر کو اس شادی شدہ عورت سے محبت ہونے لگی وہ عورت زاہد ڈار کو اُٹھا کر لے جاتی، اسے کھلاتی پلاتی، اس کی معمول کی زندگی کو بحال کرنے کی کوشش کرتی اس کی توجہ نے زاہد ڈار کے دل پر لگے ناکامی، اُداسی اور ملال کے زخموں کو نہ صرف بھر دیا بل کہ ان کے دل میں نئی اُمیدیں بھی جگا دیں، ’’بُری عورت‘‘ کے اصرار پر انہوں نے شراب نوشی ترک کر کے صحت مند زندگی کا راستہ اختیار کیا اور کتاب سے ٹوٹے ہوئے رشتے کو پھر سے بحال کیا۔ اب زاہد ڈار ’’بُری عورت‘‘ کے گھر پر منعقد ہونے والی تقاریب میں نظر آنے لگے تھے وہ جب چاہتے اس کے گھر جا نکلتے وہ گھریلو کاموں میں مصروف رہتی جب کہ زاہد ڈار اس کے بچوں کے ساتھ کھیتے رہتے اس خاموش عشق کی آنچ اس کے شوہر تک بھی پہنچنے لگی تھی مگر اُس روشن خیال انسان کو اس بے ضرر عشق سے کوئی خطرہ نہ تھا رفتہ رفتہ زاہد ڈار ’’بُری عورت‘‘ کے دفتر بھی جانے لگے وہ بڑے آرام سے بیٹھی دفتری فائلیں نمٹاتی رہتی اور یہ چپ چاپ کونے میں بیٹھے سگریٹ پھونکتے رہتے۔ اب وہ عورت زاہد ڈار کی نظموں میں بھی سر اُٹھانے لگی تھی اپنی ایک نظم میں انہوں نے اس عورت کو دنیا کی ظالم ترین عورت قرار دیا جو ایک لمحے میں اپنے عاشق کو دُھتکار دیتی ہے تو اگلے ہی لمحے اسے پھر سے پچکارنے لگتی ہے، زاہد ڈار کی نظموں میں یہ شاعرہ ایک جسم بن جاتی ہے اور شاعر نے اس جسم کو اپنی نظم کا محور بنا لیا ان کا پہلا نظمیہ مجموعہ شائع ہوا تو اس میں اُس عورت کے لیے پوری چالیس نظمیں شامل تھیں اردو زبان میں شاید ہی کسی دوسرے شاعر نے ایک عورت کے لیے اتنی بڑی مقدار میں نظمیں کہی ہوں گی انہیں اس ذہین عورت کی ذہانت اور شاعری کبھی دکھائی نہ دی بل کہ وہ ان کے لیے محض ایک جسم تھی جسے وہ جنسی آسودگی کا استعارہ سمجھتے مگر یہ آسودگی عمر بھر ان کے حصے میں نہ آئی۔ مسعود اشعر کی روایت کے مطابق جب زاہد ڈار کی نظموں کا مجموعہ پریس میں جا چکا تو لوگوں نے ایک نظم کے حوالے سے پبلشر کو اس قدر ڈرایا کہ جب کتاب شائع ہو کر منظر عام پر آئی تو مذکورہ نظم سمیت اس میں سے کئی صفحات نکال دیے گئے تھے وہ عورت کے جسم کو چھونے اور محبت کرنے کے ہمیشہ آرزو مند رہے مسجد کے گنبدوں میں انہیں عورت کے اعضاء نظر آتے، درختوں کی سرسبز اور لچکتی شاخیں عورت کے بازو بن جاتیں اور بازاروں میں لٹکتے بینرز ان کے لیے آنچل بن جاتے، عورت کا ننگا بدن ان کے لیے خدا تھا مگر یہ خدا انہیں میسر نہ آیا۔
زاہد ڈار کو عورتیں بہت پسند تھیں وہ کہاکرتے تھے کہ ’’اگر لڑکیاں نہ ہوتیں تو میں مر جانا پسند کرتا‘‘ ان کا کہنا تھا کہ وہ جوانی میں بے حد رومانوی مزاج رکھتے تھے زندگی میں بعض عورتوں نے ان کی طرف پیش قدمی بھی کی مگر ہر بار عورتوں کی تان روزگار کے مسئلے پر آ کر ٹوٹ جاتی جب کہ زاہد ڈار نے تو اس بارے میں ساری عمر نہ سوچا تھا ان کا کہنا تھا محبت اپنا صلہ آپ ہوتی ہے۔ ایک دفعہ انہوں نے مجھے بتایا کہ ایک بار ان کی ایک لڑکی سے دوستی ہو گئی لڑکی انہیں سگریٹ نوشی سے منع کرتی تھی اس حوالے سے جب لڑکی کا اصرار بڑھا تو ایک روز زاہد ڈار بولے وہ اس صورت میں سگریٹ نوشی چھوڑ دیں گے اگر لڑکی آگے بڑھ کر ان کا ہاتھ تھام لے، لڑکی نے آگے بڑھ کر ہاتھ تھام لیا تو انہوں نے بھی سگریٹ بجھا دیا لیکن چند لمحوں بعد لڑکی نے ان کا ہاتھ چھوڑا تو انہوں نے بھی فوراً سگریٹ سلگا لیا۔ زاہد ڈار کے اندر عورت کے لیے شدید پیاس موجود تھی وہ اس سے باتیں کرنا چاہتے تھے، اس سے محبت کرنے کے تمنائی تھے وہ اس کے لمس سے حظ اُٹھانا چاہتے تھے ان کاکہنا تھا کہ ’’اگر کوئی لڑکی مجھے چھو لے تو میری موت واقع ہو سکتی ہے‘‘ ایک بار انہوں نے اپنے سامنے بیٹھی ایک ملنے والی شادی شدہ دوست کو چھونے کی خواہش کر دی وہ عورت پہلے تو اس عجیب و غریب فرمائش پر گھبرا گئی پھر اُس نے ڈار صاحب کو چھونے کی اجازت دے دی وہ عورت ایک مرد کی طرف سے متوقع پیش رفت کے لیے خود کو پوری طرح تیار بھی نہ کر پائی تھی کہ زاہد صاحب نے اپنے دائیں ہاتھ کی انگشتِ شہادت سے اُس کے ہاتھ کی پشت کو چھوا اور پیچھے ہٹ کر کرسی سے ٹیک لگا لی۔ وہ عورت زاہد ڈار کی نفسی شرافت کو دیکھ کر حیران رہ گئی کہ ہمارے مرد، عورت کو چھونے سے پہلے اجازت کا تکلف کہاں کرتے ہیں؟ انیس سو نوے کے آس پاس کے دنوں میں زاہد ڈار کی میز کے گرد بیٹھنے والوں میں ایک سانولی سلونی لڑکی کا اضافہ دیکھنے میں آیا یہ لڑکی شاعرہ تھی اور اس کا تعلق بابا بلھے شاہ کے شہر سے تھا وہ گاہے گاہے زاہد ڈار سے ملنے آیا کرتی اور اس کے آنے سے ٹی ہائوس کی اس مرکزی میز کی شاہین تک سبھی خوش نظر آتے اس صورت حال کو دیکھ کر ایک ستم ظریف نے اس میز کے گرد بیٹھنے والوں کو ’’یک محبوبی گروپ‘‘ کا نام دے رکھا تھا۔
زندگی کے آخری دنوں میں جب وہ انگریزی کتابوں کے مشہور شو روم ریڈنگز میں بیٹھا کرتے تھے شہر کی چند ماڈرن لڑکیاں ان کی محبت کا دم بھرتی تھیں مگر زاہد ڈار ملنے والوں سے ان لڑکیوں کے نام پوچھا کرتے تھے وہ نہ صرف خوب صورت تھے بل کہ اعلیٰ پائے کے شاعر بھی تھے مگر ہر لڑکی ان میں ایک بزنس مین یا ملازم پیشہ شخص تلاش کرتی رہی ان کے زمانے میں موجود لاکھوں عورتوں میں سے ایک بھی ایسی عورت نہ مل سکی جو ان کے غیرمعمولی نظریات اور معمول سے ہٹ کر اپنائے گئے طرزِ زندگی سمیت انہیں قبول کر لیتی۔ معروف نقاد شمیم حنفی نے زاہد ڈار کے اس تصورِ زندگی کو گنچروف کے ناول ’’اوبلو موف‘‘ کے ہیرو کے مماثل قرار دیا تھا جو اپنی عزلت گزینی، تنہائی پسندی اور نکمّے پن کے باوجود بہت مصروف اور باوقار دکھائی دیتا ہے زاہد ڈار کا طرزِ زندگی اس بات کا ثبوت تھا کہ دنیا کو دنیا میں مبتلا ہوئے بغیر بھی جانا جا سکتا ہے یہ ایک ایسا تجربہ تھا جسے بہت ہی کم لوگوں نے برتنے کی کوشش کی، ہمارے سامنے بہت سے لوگ شادی سے دور رہے مگر بڑے بڑے عہدوں پر فائز رہے بعض ایسے بھی تھے کہ کنوارے ہونے کے باوجود ان کے عورتوں سے تعلقات کے قصے زبان زدِ عام رہے مگر زاہد ڈار نے ساری زندگی معمول کی زندگی کی طرف پیٹھ کیے رکھی۔ زندگی کے بارے میں یہ تصورات یورپ سے آئے تھے اسی لیے زاہد ڈار کے اس تصورِ زندگی میں ژاں پال سارتر اور اس کی ساتھی سیمن ڈی بوائر کی زندگی کی جھلک صاف طور پر دیکھی جا سکتی ہے جنہوں نے شادی کی اور نہ ہی گھر بنایا بل کہ ساری زندگی ہوٹل کے ایک کمرے میں گزار دی، زاہد ڈار نے بھی ساری زندگی پاک ٹی ہائوس میں بیٹھے بیٹھے بسر کر دی گھر، عورت، اولاد اور نوکری والی زندگی کا لطف اُٹھائے بغیر۔ ٹی ہائوس کی کرسی پر بیٹھے بیٹھے انہوں نے دائیں اور بائیں کی تحریکوں کو موت کے گھاٹ اُترتے دیکھا، بڑے بڑے ناموروں کی شہرت ان کے سامنے خاک میں مل گئی، حلقہ اربابِ ذوق کے ٹکڑے ہوتے دیکھے اور ٹی ہائوس کو ٹائروں کی دکان میں تبدیل ہوتے دیکھا مگر وہ خاموش رہے اور اپنی میز نہ چھوڑی۔
منیر نیازی، زاہد ڈار سے بے حد محبت کرتے تھے ایک بار ڈار صاحب کو کسی کام کے سلسلے میں ٹی ہائوس سے باہر جانا پڑا واپس آئے تو کچھ لوگ ان کی میز پر بیٹھے کھانا کھا رہے تھے وہ صبر و تحمل سے ایک طرف کھڑے یہ تماشا دیکھتے رہے جب یہ لوگ اٹھ کر چلے گئے تو زاہد ڈار اپنی میز پر آ بیٹھے مگر کھانے کے برتن ابھی تک میز پر پڑے تھے اتنے میں منیر نیازی ٹی ہائوس میں داخل ہوئے ڈار صاحب کے سامنے ڈھیر سارے برتن پڑے دیکھ کر بولے ’’زاہد ڈار! یہ سارا تاخت و تاراج تم نے کیا ہے؟‘‘ سنگ میل نے جب ڈار صاحب کی کتابیں شائع کیں تو انہیں اچھی خاصی رائلٹی بھی دی منیر نیازی کو پتہ چلا تو بولے ’’زاہد ڈار! مجھے پتہ چلا ہے کہ تم افراطِ زر کا شکار ہو گئے ہو؟‘‘ پھر بولے ’’لاہور میں سب سے بڑا شاعر میں ہوں اور میرے بعد زاہد ڈار کا نمبر آتا ہے میرا جی چاہتا ہے کہ اگر میرے پاس ایک کینال زمین ہو تو میں اس میں سے چار مرلے کا گھر زاہد ڈار کو بنا کر دوں اور باقی زمین پر ڈار کے لیے سرخ رنگ کے گلاب کاشت کروں تاکہ وہ ان گلابوں کے درمیان بیٹھ کر کتابیں پڑھا کرے‘‘ وہ لوگ جنہوں نے منٹو کو دیکھ رکھا تھا وہ اکثر کہتے تھے کہ زاہد ڈار کی شکل و صورت اور لباس میں منٹو کی مشابہت نظر آتی ہے یہ بات بڑی حد تک درست تھی مگر منٹو کے علاوہ میرا جی کے ساتھ بھی ان کی کئی مماثلتیں موجود تھیں جن میں پہلی مماثلت تو یہی تھی کہ دونوں ڈار (یاد رہے کہ میرا جی کا نام ثنا اللہ ڈار تھا) تھے، دونوں نظم نگار تھے، دونوں کا تعلق لاہور سے تھا اور دونوں ممنوعہ چشموں کے پانیوں کے رسیا تھے البتہ جن لوگوں نے میرا جی کا ظاہری حلیہ دیکھ رکھا تھا وہ جانتے تھے کہ ان کے مقابلے میں زاہد ڈار ایک خوش پوش انسان تھے زاہد ڈار کی طرح میرا جی کے ہاں بھی عورت کی پیاس بہت شدید ہے مگر دونوں ہی عمر بھر عورت کی رفاقت کے لیے ترستے رہے۔ عورت کے لیے زاہد ڈار کا ترسائو اپنی والدہ کی جنسی تربیت کی وجہ سے تھا اور میرا جی کے اکیلے پن کا سبب کسی حد تک ان کا ظاہری حلیہ تھا کیوں کہ ان کے عہد کی عورت مرد کے بارے میں اتنی بھی بدذوق نہ تھی۔ معمول کی زندگی ایک زندان ہے جب کہ زاہد ڈار نے آزاد رہنے کا فیصلہ کیا تھا ان کے خیال میں گھریلو زندگی انسان کی آزادی اور صلاحیتوں کو ختم کر دیتی ہے اسی لیے انہوں نے عمر بھر تنہا رہنے کا فیصلہ کیا۔ جاوید شاہین نے اپنی خود نوشت ’’میرے مہ و سال‘‘ میں ان دنوں کو یاد کیا ہے جب معروف مصور شاکر علی لاہور سکول آف آرٹس (موجودہ نام این سی اے) کے پرنسپل تھے اور ایم اے او کالج کے عقب میں واقع این سی اے کے ہوسٹل میں رہائش پذیر تھے اس زمانے میں زاہد ڈار، جاوید شاہین اور ڈاکٹر سہیل احمد خان ان سے اکثر ملنے آیا کرتے تھے شاکر علی ابھی تک کنوارے تھے اور حیرانی سے زاہد ڈار سے پوچھا کرتے تھے کہ ’’تم تنہا رہ کر اتنے مطمئن کیسے ہو؟‘‘ ایک بار کراچی سے واپس آئے تو ان کے ساتھ یورپین بیگم تھی دونوں بہت خوش تھے پھر اچانک دونوں کے درمیان تنازعات نے سر اُٹھانا شروع کیا ان کی بیگم نے علیحدہ ہو کر لاہور کے ایک صحافی سے شادی کر لی شاکر علی ایک بار پھر تنہا رہ گئے اب ان کی شامیں ایک بار پھر زاہد ڈار کے ساتھ بسر ہونے لگیں شاکر علی بیشتر وقت اداس، آب دیدہ اور خاموش رہتے وہ زاہد ڈار کی گود میں سر رکھ کر ہمیشہ ایک ہی سوال کرتے ’’بتائو تم عورت کے بغیر کیسے جی رہے ہو؟‘‘ زاہد ڈار ان کے آنسو پونچھتے ہوئے کہتے ’’میں اس لیے زندہ ہوں کہ میں نہیں جانتا کہ عورت کی رفاقت کا لطف کیا ہے‘‘ پھر دونوں ممنوعہ چشموں کے پانیوں میں غوطے لگانے لگتے۔

جس زمانے میں زاہد ڈار سے میری ملاقات ہوئی ان کی زندگی میں آنے والے بڑے بڑے طوفان گزر چکے تھے پہاڑوں سے نکلنے والا جوانی کا خودسر دریا اب میدانی علاقوں میں داخل ہو کر پرسکون انداز میں بہہ رہا تھا مگر میں جانتا تھا کہ ایگل بار کے تلخ پانیوں نے انہیں کیا کیا دن دکھائے تھے ایک رات وہ اور سلیم شاہد ممنوعہ چشموں کے پانیوں سے سیراب ہونے کے بعد لکشمی کے مشہور دال چاول کھانے نکلے تو راستے میں پولیس کے ہتھے چڑھ گئے نتیجتاً رات انہیں حوالات میں بسر کرنا پڑی اگلے روز دونوں کو ایک ایسے مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا گیا جو آگے چل کر وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے مقدمے میں مرکزی کردار (یہ احمد رضا قصوری کا والد تھا) بنا اور انہیں تختۂ دار تک لے گیا بالآخر اس مقدمے میں دونوں شاعروں کو ایک تیسرے شاعر اسلم گورداسپوری کی سفارش پر رہائی ملی۔ ایک بار ٹی ہائوس سے سیراب ہو کر نکلے، رات کا وقت تھا کسی شریر لڑکے سے گھر کا راستہ پوچھا تو اُس نے جان بوجھ کر غلط راستے پر ڈال دیا وہ ساری رات چلتے رہے صبح دیکھا تو شرق پور پہنچ چکے تھے، ایک شام ُٹن ہو کر پیدل چلتے چلتے امرتسر پہنچ گئے یہاں کی سیر سے جی بھر گیا تو اپنے آبائی شہر لدھیانہ جا نکلے ایک پاکستانی کو بغیر پاسپورٹ اور ویزے کے ہندوستان کی یاترا کرتے دیکھ کر پولیس حرکت میں آ گئی تو بولے ’’ایلیٹ کہتا ہے کہ ادب پڑھنے والا بغیر ویزہ لیے کسی بھی سرزمین میں داخل ہو سکتا ہے‘‘ پولیس والا بھی شاید ادب فہم تھا کہنے لگا ’’حضور! یہ سہولت صرف پرندوں کو حاصل ہے‘‘ چناں چہ لدھیانہ سے گرفتار کر کے لاہور لائے گئے اور دوستوں نے بڑی مشکل سے ضمانت پر رہائی دلائی۔ اسی طرح ایک بار ریلوے ٹریک پر چلتے چلتے شیخوپورہ جا پہنچے ریلوے لائن بھی اپنے اندر عجیب کشش رکھتی ہے ثروت حسین اور شکیب جلالی جیسے لوگ اس کشش کے سامنے ڈھیر ہو جاتے ہیں جب کہ زاہد ڈار اور موسیقار ماسٹر عنایت حسین جیسے فن کار ریلوے ٹریک پر چلتے چلتے نظمیں کہتے ہیں اور نئی دُھنیں تخلیق کرتے ہیں ماسٹر عنایت حسین ہارمونیم پر طرزیں بنانے کی بجائے چلتے پھرتے تخلیقی کام انجام دیا کرتے تھے ایک دن صبح کی سیر کے لیے نکلے تو ان کے ذہن کے آنگن میں اچانک سُروں کی بارش ہونے لگی جب ہوش آیا تو چیچو کی ملیاں (شیخوپورہ سے چند کلو میٹر دور) پہنچ چکے تھے گھڑی دیکھی تو دوپہرہو چکی تھی چناں چہ واپسی کا سفر شروع ہوا شام ہوتے ہوتے لاہور پہنچے تو فلم ’’عذرا‘‘ کا سارا میوزک تیار ہو چکا تھا۔
زاہد ڈار نے شاعری کے علاوہ تراجم کے حوالے سے بھی خوب نام کمایا ہر من ہیسے، پابلو نرودا، اوکتاویو پاز، ڈیلن ٹامس، تھیوڈوریڈ کے، فروغ فرخ زاد، نیلا پدمنا بھان اور الزبتھ سارجنٹ کی شاعری کے تراجم نے انہیں مزید سُرخ روئی عطا کی درد کا شہر (1965ء) محبت اور مایوسی کی نظمیں (1972ء) اور تنہائی (کلیات 1988ء) کی اشاعت کے بعد وہ تخلیقی عمل سے الگ ہو گئے مگر ان کی شاعری، کہ آزادی اور خود مختاری جس کا نمایاں وصف تھا، شعری منظرنامے کو اب تک تابناک بنائے ہوئے تھی ایک بار میں نے تخلیقی عمل سے الگ ہو جانے کے حوالے سے ان سے استفسار کیا تو کہنے لگے ’’میں نے جو کچھ لکھا تھا جب وہ منظرعام پر آ گیا تو میں نے لکھنا چھوڑ دیا، ویسے بھی میرے تجربات محدود تھے سو زیادہ دور تک ساتھ نہ دے سکتے تھے‘‘ تخلیقی عمل سے الگ ہو جانے کے بعد وہ صرف ڈائری لکھا کرتے تھے اب تک دریافت ہونے والی ڈائریوں کی تعداد 32 ہے ان میں سے چند ڈائریاں پرانی کتابوں کے ایک تاجر کی دکان سے ہمارے دوست باقر علی شاہ کے ہاتھ لگی ہیں وہ ان ڈائریوں کو شائع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں سنا ہے اس خبر کے بعد شہر میں بہت سے ادیب گھبرائے ہوئے پھرتے ہیں۔ سنا ہے اس خبر کے بعد شہر میں بہت سے ادیب گھبرائے گھبرائے پھرتے ہیں۔
زاہد ڈار نے زندگی بسر کرنے کا سب سے الگ راستہ اختیار کیا مگر آئیڈیل زندگی کا یہ خواب اس وقت ریزہ ریزہ ہونے لگا جب پاک ٹی ہائوس جیسا تاریخی و ثقافتی مرکز ٹائروں کی دکان میں بدل دیا گیا اس المیے نے انہیں گھر اور ٹی ہائوس کو ایک ساتھ چھوڑنے پر مجبور کر دیا انہیں زندہ رکھنے کے لیے کئی غم گسار گوشاں رہے ان کے اپنے خان دان کے لوگ بوڑھے ہو رہے تھے بعض دنیا سے رُخصت ہو گئے جو زندہ تھے ان کے ذرائع آمدنی محدود ہو گئے تھے سو ان کی اگلی جائے امکاں انتظار حسین کا گھر تھا وہ انتظار حسین ہی کا ایک کردار تھے لہٰذا وہ انتظار صاحب کے افسانے سے الگ کیسے رہ سکتا تھا؟ انتظار صاحب بھی اس کردار کو اپنے کالموں میں سو سو طرح سے پیش کیا کرتے تھے دونوں نے زندگی کی قریباً سات دہائیاں ایک ساتھ بسر کی تھیں دوست انتظار صاحب سے ملنے جاتے تو زاہد ڈار ان کی لائبریری کے ریکس کے درمیان رینگتے نظر آتے اسی زمانے میں انہیں انتظار صاحب کے گھر کے قریب ہی ایک گھر جیسا ہوسٹل مل گیا وہ سارا دن انتظار صاحب کے ہاں گزارتے اور رات کو سونے کے لیے ہوسٹل چلے جاتے مگر یہ سلسلہ بھی انتظار حسین کی موت تک جاری رہ سکا اس کے بعد جو ہوا وہ بیان سے باہر ہے۔ مردم بیزاری اپنی جگہ مگر لوگوں سے ملنے اور ان کے درمیان بیٹھنے کی خواہش اپنی جگہ یہی خواہش انہیں ریڈنگز تک لے آئی یہاں انہیںایسے چاہنے والے میسر آئے جو ان کے کھانے پینے کی ذمہ داری بخوشی قبول کرنے کو تیار تھے اس زمانے میں وہ کن لوگوں کے ساتھ، کہاں رہ رہے تھے یہ ایک راز ہی رہا وہ خود بھی بتانے کے لیے تیار نہ تھے وہ جس المیے سے دو چار تھے یہ طرزِ زندگی ان کی اپنی چوائس تھی انہوں نے اپنے لیے جس زندگی کا انتخاب کیا تھا اس کا انجام یہی ہونا تھا یہ ایک بے سرو ساماں شخص کا انجام تھا جن کے پاس گھر تھا نہ عورت، بچے تھے نہ ملازمت، سواری تھی نہ بنک بیلنس، اس کے پاس صرف کتاب تھی جسے اب وہ پڑھنے سے قاصر تھا کتاب سے عشق نے اسے کہیں کا نہ چھوڑا تھا اس کے اردگرد ایوارڈز بٹتے رہے، ادیبوں کے جشن منائے جاتے رہے، اہل قلم کے وفود دنیا کی سیر و سیاحت کے لیے روانہ ہوتے رہے، کتابوں کی رونمائیاں ہوتی رہیں اور ادیب بڑے بڑے مناصب کے حصول کی خاطر اہلِ اقتدار کے دروازوں کے سامنے حرفِ التماس لیے کھڑے رہے مگر وہ ہر شے سے لاتعلق ہو کر ساری زندگی کتاب پڑھنے میں مصروف رہا۔
زاہد ڈار زندگی کے ایک ایسے موڑ پر آ پہنچے تھے جہاں ان کے اندر جینے کی تمنا تھی اور نہ ہی زندہ رہنے کی سکت باقی تھی انہیں اُس وقت موت آئی جب ان کے پڑھنے والے انہیں پہلے ہی فراموش کر چکے تھے جن لوگوں سے انہیں نوحہ خوانی کی اُمید تھی وہ ان سے بھی پہلے موت کی آواز پر لبیک کہہ چکے تھے انہیں اُمید تھی کہ ان کے ہمدمِ دیرینہ انتظار حسین ان کی موت پر آخری کالم ضرور لکھیں گے لیکن انتظار حسین ان سے بھی پہلے تیغِ اجل کا شکار ہو گئے یوں زاہد ڈار کے حصے میں ان کا تعزیتی کالم نہ آ سکا۔ وہ عمر بھر عورت کی محبت کو ترستے رہے مگر انہیں ایک عورت میسر نہ آ سکی ادھر منیر نیازی ان کے لیے سرخ پھولوں کا باغ لگانا چاہتے تھے مگر انہیں ایک کینال زمیں دستیاب نہ ہو سکی چناں چہ دونوں محرومیوں کی تلافی کے لیے ان دنوں اپنی محرومیوں کی تلافی کے لیے زاہد ڈار نے اپنی موت کے لیے ویلنٹائن ڈے (یومِ محبت) کا انتخاب کیا کہ اس روز شہر میں محبت بھی وافر ہوتی ہے اور سرخ گلاب بھی…



