latest newsPakistan

لاہور ہائیکورٹ میں مقدمات کی سماعت اور فیصلے

رپورٹ: مبشرحسن

لاہور ہائیکورٹ نے محکمہ صحت، محکمہ تعلیم اور میونسپل کمیٹی چنیوٹ کے ملازمین کو مستقل نہ کرنے سے متعلق درخواستوں پر سیکرٹری سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا۔ جسٹس خالد اسحاق نے درخواستوں پر سماعت کی۔ درخواست گزاروں کی جانب سے ایڈووکیٹ ثمرہ ملک نے دلائل دیتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ ان کے موکل مختلف سرکاری محکموں میں درجہ چہارم کے ملازمین ہیں اور گزشتہ پندرہ سے بیس سال سے فرائض انجام دے رہے ہیں، تاہم متعلقہ محکمے انہیں مستقل نہیں کر رہے۔ درخواست گزاروں کے مطابق ملازمین کو مستقل کرنے کے لیے 2021 کی حکومتی پالیسی پر عمل درآمد نہیں کیا جا رہا، حالانکہ پالیسی کے تحت نو ماہ کی ملازمت مکمل ہونے پر ملازمین کو مستقل کیا جانا چاہیے۔ درخواست گزاروں نے استدعا کی کہ متعلقہ محکموں کو حکومتی پالیسی کے مطابق ملازمین کو مستقل کرنے کا حکم دیا جائے۔

لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب کے میڈیکل کالجز سے افغان طلبہ و طالبات کو نکالنے سے روکنے کے حکم امتناعی میں توسیع کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت ملتوی کر دی۔ جسٹس خالد اسحاق نے تیس سے زائد افغان طلبہ و طالبات کی درخواستوں پر سماعت کی۔ دوران سماعت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کے وکیل نے تیاری کے لیے سماعت ملتوی کرنے کی استدعا کی، جسے عدالت نے منظور کر لیا۔ درخواست گزاروں نے موقف اختیار کیا کہ انہوں نے افغان مہاجرین کے کوٹے پر میرٹ کے مطابق میڈیکل کالجز میں داخلے حاصل کیے تھے، تاہم پی ایم ڈی سی نے انہیں کالجز سے نکالنے کے لیے یکم ستمبر کو حتمی نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔ درخواست گزاروں نے اس اقدام کے خلاف عدالت سے رجوع کر رکھا ہے۔

لاہور ہائیکورٹ نے پتھر پیسنے والی فیکٹریوں میں کام کرنے والے مزدوروں کو پھیپھڑوں کی لاعلاج بیماری کے باعث ہلاکتوں پر معاوضہ ادا نہ کرنے کے خلاف درخواستوں پر محکمہ لیبر سے اب تک ہلاک ہونے والے مزدوروں کے لواحقین کو کی گئی ادائیگیوں کی تفصیلات طلب کر لیں۔ عدالت نے پیشہ ورانہ صحت و تحفظ کی کونسل قائم نہ کرنے پر بھی محکمہ لیبر سے جواب طلب کر لیا۔ جسٹس خالد اسحاق نے پبلک لائرز فرنٹ سمیت بارہ درخواست گزاروں کی درخواستوں پر سماعت کی، جن کی جانب سے ایڈووکیٹ اسامہ خاور گھمن نے دلائل دئیے۔ درخواست گزاروں نے موقف اختیار کیا کہ مزدوروں کی ہلاکتوں پر معاوضے کی عدم ادائیگی کے خلاف 2014 میں درخواستیں دائر کی گئی تھیں، تاہم تاحال معاملہ حل نہیں ہو سکا۔ درخواست گزاروں کے مطابق اب تک چار درخواست گزار خالد ہنجرا، ریاض ہنجرا، محمد عبداللہ اور محمد الیاس وفات پا چکے ہیں۔ درخواست گزاروں نے موقف اختیار کیا کہ پتھر پیسنے والی فیکٹریوں میں کام کرنے والے مزدوروں کو پھیپھڑوں کی لاعلاج بیماری لاحق ہو رہی ہے اور اس مرض کے باعث اب تک 184 مزدور ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ فیکٹریوں میں مزدوروں کے تحفظ کے لیے مناسب احتیاطی تدابیر موجود نہیں ہیں۔ درخواست گزاروں کے مطابق حکومت نے مزدوروں کی فلاح و بہبود کے لیے 2019 میں پیشہ ورانہ صحت و تحفظ کی کونسل قائم کرنے کا قانون بنایا تھا، تاہم تقریباً سات سال گزرنے کے باوجود محکمہ لیبر نے کونسل قائم نہیں کی۔ درخواست گزاروں نے استدعا کی کہ بیماری کے باعث ہلاک ہونے والے مزدوروں کے لواحقین کو قانون کے مطابق پانچ لاکھ روپے معاوضہ ادا کرنے اور مزدوروں کو موذی بیماری سے بچانے کے لیے حفاظتی اقدامات یقینی بنانے کا حکم دیا جائے۔

لاہور ہائیکورٹ نے پسند کی شادی کرنے والے شہری نوید احمد کے خلاف درج مقدمہ خارج کرنے کی درخواست پر تفتیشی افسر کی رپورٹ میں لڑکی کی عمر سے متعلق تضاد پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ڈی پی او شیخوپورہ کو 19 اکتوبر کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا۔ جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ دوران سماعت عدالت نے استفسار کیا کہ لڑکی کے والد نے اپنے بیان میں اس کی عمر اٹھارہ سال بتائی ہے تو تفتیشی افسر نے رپورٹ میں پندرہ سال کیوں درج کی؟ کیا تفتیشی افسران اسی طرح رپورٹس مرتب کرتے ہیں؟ عدالت نے ڈی پی او شیخوپورہ کو پیش ہو کر وضاحت دینے کی ہدایت کی۔ درخواست گزار نوید احمد نے موقف اختیار کیا کہ انہوں نے ماریہ بی بی سے پسند کی شادی کی، جس پر ان کی اہلیہ کے والد محمد شان نے ذاتی رنجش کی بنیاد پر مقدمہ درج کرا دیا۔ درخواست گزار کے مطابق ماریہ بی بی نے عدالت میں پسند کی شادی کا بیان دیا، جس کے بعد ان کی ضمانت منظور ہوئی۔ درخواست گزار نے استدعا کی کہ بے بنیاد الزامات کے تحت درج مقدمہ خارج کرنے کا حکم دیا جائے۔

لاہور ہائیکورٹ نے بسنت 2027 کے دس روزہ انعقاد کے خلاف درخواست غیر ضروری قرار دیتے ہوئے مسترد کر دی اور درخواست گزار کو متعلقہ نوٹیفکیشن کے ساتھ دوبارہ درخواست دائر کرنے کی ہدایت کر دی۔ جسٹس شہرام سرور چوہدری نے شہری شاہد اسلام کی درخواست پر سماعت کی۔ دوران سماعت عدالت نے درخواست گزار کے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا ان کے پاس دس روزہ بسنت کے انعقاد کا کوئی نوٹیفکیشن موجود ہے؟ عدالت نے ریمارکس دیے کہ بغیر نوٹیفکیشن کے درخواست کیسے قابل سماعت ہو سکتی ہے اور محض ویب سائٹ پر موجود دستاویزات کی بنیاد پر کوئی حکم جاری نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے مزید ریمارکس دیے کہ نوٹیفکیشن پیش کیا جائے تاکہ حکومت سے پوچھا جا سکے کہ آیا بسنت کا انعقاد بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے یا نہیں۔ عدالت نے رجسٹرار آفس کی جانب سے اعتراض عائد نہ کیے جانے پر بھی حیرت کا اظہار کیا اور درخواست گزار کے وکیل سے استفسار کیا کہ کیوں نہ انہیں جرمانہ کر دیا جائے۔ درخواست گزار نے موقف اختیار کیا تھا کہ حکومت نے بسنت 2027 منانے کا نوٹیفکیشن جاری کیا ہے، تاہم اس حوالے سے ایس او پیز نہیں بنائے گئے۔ درخواست میں دعویٰ کیا گیا کہ 2026 میں بسنت کے دوران درجنوں افراد ہلاک ہوئے، لہٰذا بسنت 2027 کے انعقاد کا اعلان کالعدم قرار دے کر اس کا دورانیہ دس روز سے کم کرکے ایک روز کیا جائے۔ عدالت نے قرار دیا کہ متعلقہ نوٹیفکیشن کے بغیر اس معاملے پر حکم جاری نہیں کیا جا سکتا۔

لاہور ہائیکورٹ نے محکمہ صحت، محکمہ تعلیم اور میونسپل کمیٹی چنیوٹ کے ملازمین کو مستقل نہ کرنے سے متعلق درخواستوں پر سیکرٹری سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا۔ جسٹس خالد اسحاق نے درخواستوں پر سماعت کی۔ درخواست گزاروں کی جانب سے ایڈووکیٹ ثمرہ ملک نے دلائل دیتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ ان کے موکل مختلف سرکاری محکموں میں درجہ چہارم کے ملازمین ہیں اور گزشتہ پندرہ سے بیس سال سے فرائض انجام دے رہے ہیں، تاہم متعلقہ محکمے انہیں مستقل نہیں کر رہے۔ درخواست گزاروں کے مطابق ملازمین کو مستقل کرنے کے لیے 2021 کی حکومتی پالیسی پر عمل درآمد نہیں کیا جا رہا، حالانکہ پالیسی کے تحت نو ماہ کی ملازمت مکمل ہونے پر ملازمین کو مستقل کیا جانا چاہیے۔ درخواست گزاروں نے استدعا کی کہ متعلقہ محکموں کو حکومتی پالیسی کے مطابق ملازمین کو مستقل کرنے کا حکم دیا جائے۔

لاہور ہائیکورٹ کےجسٹس منور اقبال دوگل نے9 مئی جلائو گھیرائو کیس کے ملزم محمد اسلم کی پاسپورٹ کنٹرول لسٹ اور پی این آئی ایل سے نام نکالنے کی درخواست خارج کر دی، عدالت نے قرار دیا کہ درخواست گزار بیرونِ ملک سفر کی اجازت کے لیے انسدادِ دہشت گردی عدالت سے رجوع کرے، عدالت نے ریمارکس دیئے کہ حج کی خواہش قابلِ غور ہے، مگر ہمدردانہ حالات قانونی تقاضوں سے بالاتر نہیں ہو سکتے، اور یہ جواز متعلقہ فورم کے سامنے پیش کیا جا سکتا ہے،عدالت نے قرار دیا کہ درخواست گزار نہ تو قانونی چارہ جوئی کو ناکافی ثابت کر سکا اور نہ کوئی غیر معمولی حالات بتا سکا لہٰذا درخواست خارج کی جاتی ہے۔

لاہور ہائیکورٹ کےجسٹس محمد ساجد محمود سیٹھی نے جائیداد تقسیم کیس کے فیصلے میں قرار دیا ہے کہ صرف رجسٹری ہونے سے ہر بات ثابت نہیں ہو جاتی، جبکہ انتقالِ اراضی صرف مالی ریکارڈ ہے اور اس سے ملکیت قائم نہیں ہوتی،عدالت نے قرار دیا کہ اپیلیٹ کورٹ نے اپنے فیصلے میں دستاویزات کا صرف ذکر کیا، تاہم ان کی بنیاد پر کوئی ٹھوس وجوہات بیان نہیں کیں، رجسٹری: صرف رجسٹری ہونے سے ہر بات ثابت نہیں ہو جاتی،انتقالِ اراضی یہ صرف مالی ریکارڈ ہے، اس سے ملکیت نہیں بنتی،30 سال پرانی دستاویزات پر قانونی قیاس لاگو ہو سکتا ہے اگر شناخت واضح نہ ہو تو لوکل کمیشن بھیجا جا سکتا ہے،اگر کوئی ضروری فریق شامل نہ ہو تو مقدمہ خارج کرنے سے پہلے اسے شامل کرنے کا موقع دیا جائے، دعویٰ کرنے والے کو اپنا حق خود ثابت کرنا ہوگا،عدالت نے فریقین کو 26 اکتوبر کو اپیلیٹ کورٹ میں پیش ہونے کا حکم دیدیا ، ہائیکورٹ نے اپیلیٹ کورٹ کو ہدایت کی ہے کہ وہ کیس کا فیصلہ تین ماہ میں کرنے کی کوشش کرے۔

مسلم لیگ (ن) لائرز ونگ پنجاب کے صدر رانا ظفر اقبال نے چوہدری امتیاز الٰہی کو عہدے سے ہٹا کر سینئر ایڈووکیٹ اقبال دھینگل کو مسلم لیگ (ن) لائرز ونگ لاہور کا صدر مقرر کر دیا، نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button