حق نواز روڈ پر غیر قانونی تعمیرات کا فالو اَپ، مسمار دکانیں دوبارہ تعمیر، دوسری منزل بھی بننے لگی
تین ماہ قبل آپریشن کے باوجود مبینہ خلاف ورزیاں برقرار، متعلقہ افسران کی کارکردگی اور نگرانی پر سوالات اٹھنے لگے

لاہور (محمد کامران) حق نواز روڈ باغبانپورہ میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی کے باوجود مبینہ طور پر خلاف ورزیوں کا سلسلہ نہ رک سکا۔ تقریباً تین ماہ قبل مسمار کی جانے والی 50 دکانیں دوبارہ تعمیر ہو گئیں جبکہ ان کی دوسری منزل کی تعمیر بھی جاری ہے، جس نے میٹروپولیٹن کارپوریشن لاہور کے متعلقہ شعبوں کی نگرانی اور انسدادِ تجاوزات و غیر قانونی تعمیرات کی مہم کی افادیت پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

ذرائع کے مطابق مذکورہ دکانیں مبینہ طور پر منظور شدہ نقشوں اور کمرشلائزیشن کی منظوری کے بغیر تعمیر کی گئی تھیں، جنہیں ضلعی انتظامیہ کی ہدایت پر آپریشن کے دوران مسمار کیا گیا تھا۔ تاہم دوبارہ تعمیرات شروع ہونے اور مبینہ طور پر مکمل ہونے کے باوجود مؤثر کارروائی نہ ہونے پر شہری حلقوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔
اس معاملے میں سابق بلڈنگ انسپکٹر سلیم، موجودہ بلڈنگ انسپکٹر عمران ارشاد، زونل آفیسر قرۃ العین اور میٹروپولیٹن آفیسر پلاننگ ڈاکٹر رائے امتیاز حسین کے کردار اور نگرانی سے متعلق سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ تاہم ان افسران کے خلاف عائد الزامات کی آزادانہ تصدیق اور ان کا مؤقف سامنے آنا ضروری ہے۔
شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر کسی مقام پر غیر قانونی تعمیرات مسمار کرنے کے بعد دوبارہ کھڑی ہو جائیں تو متعلقہ حکام کی ذمہ داری کا تعین ہونا چاہیے۔ حکام کو یہ بھی واضح کرنا ہوگا کہ دوبارہ تعمیرات کس کی اجازت سے ہوئیں، کیا ان کے خلاف کوئی نوٹس یا کارروائی کی گئی اور کمرشلائزیشن فیس سمیت سرکاری واجبات کی وصولی کے لیے کیا اقدامات کیے گئے۔
معاملے کا ایک اہم پہلو قومی خزانے کو ممکنہ نقصان بھی ہے۔ اگر دکانیں متعلقہ منظوریوں اور واجبات کی ادائیگی کے بغیر تعمیر کی گئی ہیں تو اس کی باقاعدہ جانچ ضروری ہے تاکہ سرکاری محصولات کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔
شہریوں نے وزیراعلیٰ پنجاب، سیکرٹری لوکل گورنمنٹ، کمشنر لاہور اور ڈپٹی کمشنر لاہور سے مطالبہ کیا ہے کہ حق نواز روڈ پر دوبارہ تعمیر ہونے والی دکانوں کے نقشوں، کمرشلائزیشن ریکارڈ، سابقہ آپریشن کی رپورٹ اور ذمہ دار افسران کی کارکردگی کا جائزہ لے کر غیر جانب دارانہ انکوائری کرائی جائے۔ اگر کسی اہلکار کی غفلت، اختیارات کے ناجائز استعمال یا ملی بھگت کے شواہد سامنے آئیں تو اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔
اب اہم سوال یہ ہے کہ تین ماہ قبل ہونے والے آپریشن کے بعد دوبارہ تعمیرات کیسے ہوئیں، اور متعلقہ حکام نے انہیں روکنے کے لیے کیا اقدامات کیے؟



