column and articlelatest news

درد کی اپنی عمر ہوتی ہے

ڈاکٹر خالد مفتی

پشاور کی اس شام کو میں ایک ہسپتال کی ایمرجنسی میں بیٹھے بوڑھے کی آنکھ سے دیکھتا ہوں ۔ اسکی  قمیص کی آستین پر خون کا ایک دھبہ ہے، جو اب خشک ہونے لگا ہے۔ سامنے ایک دروازہ بار بار کھلتا اور بند ہوتا ہے۔ ہر بار اس کی گردن اٹھتی ہے، پھر آہستہ سے جھک جاتی ہے۔ اس نے ابھی تک کسی سے کچھ نہیں پوچھا۔ شاید اسے ڈر ہے کہ جواب مل گیا تو انتظار کی آخری پناہ بھی چھن جائے گی۔

اس کے قریب ایک عورت بچے کا جوتا پکڑے بیٹھی ہے۔ وہ کبھی اس کے تسمے درست کرتی ہے، کبھی تلے پر لگی مٹی صاف کرتی ہے۔ ایسے جیسے ابھی بچہ باہر آئے گا، جوتا پہنے گا اور کہے گا: ’’امی، گھر چلیں’’۔

ایمرجنسی کی دیوار پر گھڑی چل رہی ہے۔ مگر عورت کے لیے وقت اس لمحے پر رک گیا ہے جب ایک ہاتھ اس کے ہاتھ سے چھوٹا تھا۔

ہم سمجھتے ہیں کہ وقت گزرنے سے دکھ بھی گزر جاتا ہے۔ مگر کچھ دکھ اپنے گزرنے کی خبر نہیں دیتے۔ وہ اندر کہیں بیٹھ جاتے ہیں۔ روزمرہ کی باتوں، مانوس آوازوں اور معمولی چیزوں میں اپنی جگہ بنا لیتے ہیں۔ برسوں بعد کسی ایمبولینس کی آواز، کسی دروازے کی زور دار دستک، یا ایک بچے کا بےخیال سوال انہیں پھر جگا دیتا ہے۔

یادداشت صرف وہ نہیں جو ہم زبان سے بیان کر سکیں۔ کبھی جسم بھی یاد رکھتا ہے: اچانک تیز ہوتی دھڑکن، نیند میں چونک کر اٹھنا، کسی عزیز کے دیر سے گھر آنے پر بےسبب خوف۔ آدمی کہتا ہے، ’’میں اب ٹھیک ہوں،‘‘ مگر اس کا ہاتھ اب بھی فون کی ہر گھنٹی پر کانپ جاتا ہے۔

درد کا اپنا لمحہ ہوتا ہے۔ وہ گھڑی کا پابند نہیں۔

بوڑھے کے پاس بیٹھا نوجوان بار بار موبائل کی سکرین دیکھتا ہے۔ کسی نے لکھا ہے کہ حالات قابو میں ہیں۔ وہ یہ جملہ پڑھ کر سامنے بند دروازے کو دیکھتا ہے۔ پھر موبائل جیب میں رکھ لیتا ہے۔ اسے معلوم نہیں کہ حالات کس جگہ قابو میں ہیں۔ یہاں تو ایک ماں اپنے آنسو بھی قابو میں نہیں رکھ پا رہی۔

شہر کے دوسرے کنارے پر شاید چائے کی میزیں سجی ہوں گی۔ لفظ تولے جا رہے ہوں گے، بیان درست کیے جا رہے ہوں گے۔ کسی کو فکر ہوگی کہ کون سا جملہ زیادہ مناسب ہے اور کون سا سوال ابھی نہیں پوچھنا چاہیے۔ ایمرجنسی میں، البتہ، سوال بہت سادہ ہیں: وہ زندہ ہے؟ اسے ہوش آیا؟ ہم اسے گھر کب لے جا سکیں گے؟

کبھی ایک پورا شہر انہی سوالوں تک محدود کر دیا جاتا ہے۔

پشاور نے اپنے بہت سے دکھ چائے خانوں میں سنائے ہیں۔ قصہ خوانی کی روایت میں محض وقت گزارنے کا ہنر نہیں؛ ایک دوسرے کا بوجھ اٹھانے کا قرینہ بھی ہے۔ کوئی شخص اپنی بات شروع کرتا ہے، درمیان میں خاموش ہو جاتا ہے، اور سننے والا اسے جلدی نہیں دلاتا۔ وہ پیالی سامنے سرکا دیتا ہے۔ کبھی اتنا سا عمل آدمی کو باقی بات کہنے کی قوت دے دیتا ہے۔

شاید اسی لیے کہانیاں دکھ کا مداوا بن سکتی ہیں۔ وہ کھوئے ہوئے کو واپس نہیں لاتیں، مگر اس کے نام کو گم ہونے سے بچا لیتی ہیں۔ کسی بچے کو صرف ایک عدد بن جانے سے روکتی ہیں۔ بتاتی ہیں کہ اسے سردیوں کی دھوپ پسند تھی، کہ وہ نئے جوتے پہن کر گھر میں دوڑتا تھا، کہ اس کی ماں اسے بلاتی تو وہ پہلی آواز پر نہیں آتا تھا۔

جب کوئی ایسی بات سناتا ہے تو مرنے والے کی زندگی، اس کی موت کے سائے سے کچھ دیر کے لیے باہر آ جاتی ہے۔

مگر ہر خاموشی ایک جیسی نہیں ہوتی۔ ایمرجنسی میں بیٹھے بوڑھے کی خاموشی صدمہ ہے۔ ماں کی خاموشی بےیقینی ہے۔ کسی گواہ کی خاموشی خوف بھی ہو سکتی ہے۔ ان خاموشیوں کو الزام دینا ایک اور زیادتی ہوگی۔

ایک خاموشی ان لوگوں کی بھی ہوتی ہے جن کے پاس بولنے کی قوت، فیصلہ کرنے کا اختیار اور دوسروں کو محفوظ رکھنے کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ وہ سب کچھ سن کر بھی موضوع بدل دیتے ہیں۔ ان کی میز تک خبر پہنچتی ہے، مگر کسی گھر کی چیخ نہیں پہنچنے دی جاتی۔ ایسے میں بوڑھے کے اندر ایک ان کہی پکار اٹھتی ہے: اے ظالمو، یاد رکھو، ہر وہ خاموشی جو تم نے ظلم پر پردہ ڈالنے کے لیے اختیار کی، کسی کے دکھ میں شریکِ جرم بن گئی۔

وہ یہ بات زبان سے نہیں کہتا۔ بس اپنی آستین پر خشک ہوتے دھبے کو دیکھتا ہے۔ اسے لگتا ہے کہ جن سوالوں کو آج ٹال دیا گیا ہے، وہ کل کسی اور زبان میں واپس آئیں گے۔ ماں کا ہر آنسو گواہی دے گا کہ یہاں ایک زندگی تھی، ایک محبت تھی، ایک منتظر گھر تھا۔ اور بہے ہوئے خون کا ہر قطرہ سوال بنے گا: اس زندگی کی حفاظت کس کی ذمہ داری تھی، اور اس شام وہ ذمہ داری کہاں تھی؟

ظلم کی داستان دب بھی جائے تو ختم نہیں ہوتی۔ وہ سلگتی چنگاری کی طرح کسی یاد، کسی خط، کسی ادھوری گفتگو میں باقی رہتی ہے۔ پھر ایک دن کوئی پوچھ لیتا ہے: ’’اس شام کیا ہوا تھا؟‘‘ اور وہ بات، جسے بند سمجھ لیا گیا تھا، دوبارہ کھل جاتی ہے۔

رات گہری ہو گئی ہے۔ ایمرجنسی کا دروازہ پھر کھلتا ہے۔ بوڑھا اس بار کھڑا ہو جاتا ہے۔ عورت جوتے کو دونوں ہاتھوں میں مضبوطی سے تھام لیتی ہے۔ باہر شہر میں کہیں صبح کی روٹی کے لیے آٹا گوندھا جا رہا ہوگا۔ زندگی اپنے چھوٹے چھوٹے کام جاری رکھتی ہے، حتیٰ کہ ان گھروں میں بھی جہاں اب ہر کام کے ساتھ کسی کی کمی محسوس ہوگی۔

کل لوگ اس شام کو ’’گزشتہ روز‘‘ کہیں گے۔ کچھ عرصے بعد اسے ’’پرانا واقعہ‘‘ کہا جانے لگے گا۔

مگر وہ عورت جوتا سنبھال کر رکھے گی۔

اور جب کبھی شہر کو اس کی اپنی داستان بھولنے لگے گی، کوئی اس جوتے کی کہانی سنا دے گا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button