crimelatest newsWorld

انگلینڈ اور ویلز میں گاڑیوں کی چوری میں 50 فیصد اضافہ، عالمی مجرمانہ نیٹ ورکس ملوث ہونے کا انکشاف

انگلینڈ اور ویلز میں گزشتہ ایک دہائی کے دوران گاڑیوں کی چوری کی شرح میں تقریباً 50 فیصد اضافے کا انکشاف ہوا ہے، جبکہ چوری شدہ گاڑیوں کی بیرون ملک اسمگلنگ بھی پولیس کے لیے بڑا چیلنج بن گئی ہے۔

برطانوی ذرائع ابلاغ کے مطابق ہوم آفس کے حالیہ اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ حالیہ عرصے میں کمی کے باوجود گاڑیوں کی چوری کی شرح ایک دہائی پہلے کے مقابلے میں اب بھی نمایاں طور پر زیادہ ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ گاڑیوں کی چوری ایک منافع بخش عالمی مجرمانہ کاروبار بن چکی ہے۔ چور گاڑیاں چرانے کے بعد انہیں ملک کے مختلف حصوں میں منتقل کرتے ہیں، جہاں چند گھنٹوں کے اندر ان کے پرزے الگ کر دیے جاتے ہیں، جس سے گاڑیوں کی بازیابی اور ملزمان تک رسائی مشکل ہو جاتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق چوری شدہ گاڑیوں کی بڑی تعداد متحدہ عرب امارات، ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو اور جمیکا سمیت مختلف ممالک بھیجی جاتی ہے۔

متاثرہ کار مالکان نے صورتحال پر تشویش اور بے بسی کا اظہار کیا ہے۔ ایک خاتون کے مطابق چوروں نے ان کی مہنگی اور جدید گاڑی صرف 35 سیکنڈ میں چوری کر لی، جبکہ ایک دوسرے واقعے میں ملزمان گھر میں داخل ہو کر زبردستی گاڑی کی چابیاں لے گئے اور فرار ہو گئے۔

سیکیورٹی تھنک ٹینک رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹی ٹیوٹ کے مطابق 2021 کے بعد سے گاڑیوں کے بیمے کی قیمتوں میں 82 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

پولیس کے مطابق بعض علاقوں میں غیر قانونی گاڑی توڑنے کے مراکز بھی کام کر رہے ہیں، جہاں چوری شدہ گاڑیوں کو پرزوں میں تبدیل کرکے فروخت کر دیا جاتا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ جرائم پیشہ گروہ سرحدوں سے بالاتر ہو کر کام کرتے ہیں اور چوری شدہ گاڑیوں کو بیرون ملک فروخت کرنے کے علاوہ منشیات اور انسانی اسمگلنگ جیسے جرائم میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

پولیس نے گاڑی چوری کرنے والے گروہوں کے خلاف کارروائیوں میں اہم کامیابیاں حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے، تاہم بین الاقوامی مجرمانہ نیٹ ورکس کے خلاف مؤثر کارروائی اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button