
عظمیٰ خان کے انکشافات نے ملک کے سیاسی اور انسانی حقوق کے منظرنامے پر ایک ایسا سنگین سوال کھڑا کر دیا ہے جسے اب محض سیاسی بیان، پروپیگنڈا یا مخالفانہ الزام کہہ کر دبایا نہیں جا سکتا۔ اگر ایک سابق وزیراعظم، ملک کے سب سے مقبول سیاسی رہنماؤں میں سے ایک، جیل کے اندر یہ پیغام دے رہا ہے کہ “قوم کو بتاؤ، میرے ساتھ غیر انسانی سلوک ہو رہا ہے، مجھے شدید ٹارچر کیا جا رہا ہے، جیل میں میری کوئی آواز نہیں سنتا” تو پھر یہ صرف عمران خان کا مسئلہ نہیں، بلکہ پورے ملک کے ضمیر کا امتحان ہے۔
یہ سوال اب عمران خان اور ان کے مخالفین کے درمیان سیاسی جنگ سے بہت آگے نکل چکا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان میں جیلیں اصلاح کے مراکز ہیں یا سیاسی مخالفین کو توڑنے کے اڈے؟ کیا ریاست کی طاقت کا مطلب کسی انسان کی آواز، صحت اور وقار کو کچل دینا ہے؟اگر عمران خان کے ساتھ واقعی وہ کچھ ہو رہا ہے جس کا دعویٰ ان کے اہل خانہ کر رہے ہیں تو پھر یہ انتہائی شرمناک، افسوسناک اور قابلِ مذمت عمل ہے۔ ایک شخص کو عدالت سزا دے سکتی ہے، قانون آزادی سے محروم کر سکتا ہے، لیکن کسی کو یہ اختیار نہیں دے سکتا کہ وہ قیدی کو ذہنی یا جسمانی اذیت دے، اسے تنہائی میں رکھ کر توڑنے کی کوشش کرے یا اس کی بنیادی انسانی ضروریات کو سزا کا حصہ بنا دے۔
قیدی ہونا جرم نہیں، اور سزا کا مطلب تشدد کا لائسنس بھی نہیں۔ حکومت اور جیل انتظامیہ کو یہ سمجھنا ہوگا کہ عمران خان کوئی گمنام قیدی نہیں۔ وہ پاکستان کے سابق وزیراعظم ہیں، ایک بڑی سیاسی جماعت کے بانی ہیں اور کروڑوں پاکستانیوں کے سیاسی قائد ہیں۔ ان کے ساتھ جو بھی سلوک ہوگا، اس کی خبر جیل کی چار دیواری تک محدود نہیں رہے گی۔ پوری دنیا اس معاملے کو دیکھ رہی ہے۔لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں طاقت کے نشے میں اکثر یہ بھول جایا جاتا ہے کہ آج جس شخص کو جیل میں تنہا کر کے کمزور سمجھا جا رہا ہے، کل وہی تاریخ کے سامنے ایک سوال بن سکتا ہے۔
اگر عمران خان واقعی یہ کہہ رہے ہیں کہ “میری کوئی آواز نہیں سنتا” تو یہ ریاست کے لیے انتہائی خطرناک جملہ ہے۔ کیونکہ جب ایک سابق وزیراعظم یہ محسوس کرنے لگے کہ جیل کے اندر اس کی فریاد سننے والا کوئی نہیں تو عام قیدی کے ساتھ کیا ہوتا ہوگا؟کیا کسی نے یہ سوچنے کی زحمت کی کہ اگر عمران خان کی آواز بند دروازوں کے پیچھے دبائی جا رہی ہے تو پھر ان بے نام قیدیوں کی چیخیں کون سنتا ہوگا جن کے پاس نہ سیاسی جماعت ہے، نہ میڈیا تک رسائی اور نہ کروڑوں کارکن؟عمران خان کے معاملے میں سب سے افسوسناک بات یہ ہے کہ شفافیت کے بجائے خاموشی اختیار کی جا رہی ہے۔
اگر الزامات غلط ہیں تو پھر حقائق قوم کے سامنے کیوں نہیں رکھے جاتے؟ آزاد ڈاکٹروں کا معائنہ کیوں نہیں؟ غیر جانبدارانہ تحقیقات کیوں نہیں؟ اہل خانہ اور وکلا کو مکمل اعتماد میں کیوں نہیں لیا جاتا؟خاموشی ہمیشہ بے گناہی کا ثبوت نہیں ہوتی۔ بعض اوقات خاموشی خود سب سے بڑا سوال بن جاتی ہے۔عمران خان سیاسی مخالف ہیں تو سیاسی میدان میں مقابلہ کیا جائے۔ ان کی جماعت سے اختلاف ہے تو عوام کے سامنے اپنا بیانیہ پیش کیا جائے۔ ان کے نظریات سے مسئلہ ہے تو دلیل سے جواب دیا جائے۔
لیکن اگر سیاسی مخالفت کا جواب جیل، تنہائی، مبینہ تشدد، ملاقاتوں میں رکاوٹ اور ذہنی دباؤ سے دیا جا رہا ہے تو پھر یہ جمہوریت نہیں، طاقت کے بل پر اختلاف کو کچلنے کی سوچ ہے۔یہ ملک کسی ایک شخص کی جاگیر نہیں۔ ریاستی ادارے کسی حکومت یا کسی سیاسی جماعت کی ذاتی ملکیت نہیں ہوتے۔ جیلیں کسی حکمران کے انتقام کی جگہ نہیں بن سکتیں۔ قانون اگر صرف کمزور کے لیے ہے اور طاقتور کے لیے کچھ اور، تو پھر ایسے نظام کو انصاف نہیں کہا جا سکتا۔
آج سوال یہ نہیں کہ آپ عمران خان سے محبت کرتے ہیں یا نفرت سوال یہ ہے کہ کیا آپ کسی بھی پاکستانی شہری کے ساتھ غیر انسانی سلوک کو قبول کر سکتے ہیں؟اگر آج آپ اس لیے خاموش ہیں کہ جیل میں عمران خان ہے تو یاد رکھیے کل وہاں کوئی اور بھی ہو سکتا ہے۔ اگر آج آپ کو کسی مخالف کی تکلیف پر خوشی ہے تو کل آپ کے اپنے حقوق بھی کسی طاقتور کے نشانے پر ہو سکتے ہیں۔تاریخ بار بار بتاتی ہے کہ ظلم کا آغاز ہمیشہ کسی ایک سے ہوتا ہے، لیکن اگر معاشرہ خاموش رہے تو اس کی زد میں سب آتے ہیں۔حکومت اور متعلقہ اداروں کو فوری طور پر عمران خان کی صحت اور ان کے ساتھ مبینہ سلوک کے بارے میں قوم کو سچ بتانا ہوگا۔ ان کا آزاد اور غیر جانبدارانہ طبی معائنہ ہونا چاہیے۔
اہل خانہ اور وکلا کو قانون کے مطابق ملاقات کی سہولت ملنی چاہیے۔ جیل کے اندر ہونے والے مبینہ غیر انسانی سلوک کے الزامات کی تحقیقات ہونی چاہیے۔کیونکہ یہ معاملہ اب دبانے سے نہیں دبے گا۔ایک انسان کی آواز کو جیل کی دیواروں میں قید کیا جا سکتا ہے، لیکن قوم کے ذہن میں اٹھنے والے سوالوں کو ہتھکڑیاں نہیں لگائی جا سکتیں۔آج عمران خان کی بہن قوم سے کہہ رہی ہے کہ ان کے بھائی کی حالت ٹھیک نہیں۔ عمران خان کی طرف سے پیغام دیا جا رہا ہے کہ ان کے ساتھ غیر انسانی سلوک ہو رہا ہے۔ اب قوم کو صرف جذباتی تقریروں کی ضرورت نہیں، بلکہ سچ جاننے کا حق ہے۔حکمرانوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ اقتدار ہمیشہ نہیں رہتا، جیلیں ہمیشہ نہیں رہتیں، کرسی ہمیشہ نہیں رہتی، لیکن تاریخ سب کچھ لکھتی ہے۔
آج جو لوگ طاقت کے ایوانوں میں بیٹھ کر سمجھ رہے ہیں کہ جیل کی دیواریں سب کچھ چھپا لیں گی، انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ دیواریں آواز کو کچھ دیر روک سکتی ہیں مگر سچ کو ہمیشہ کے لیے دفن نہیں کر سکتیں۔اگر عمران خان کے ساتھ واقعی غیر انسانی سلوک ہو رہا ہے تو یہ صرف ایک سیاسی رہنما پر ظلم نہیں بلکہ پاکستان کے آئین، قانون، انسانی وقار اور جمہوری اصولوں پر سوالیہ نشان ہے اور اگر ایسا نہیں ہو رہا تو پھر ریاست پر لازم ہے کہ وہ ثبوت کے ساتھ قوم کے سامنے آئے۔اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان میں یہ فیصلہ ہو کہ کیا جیلیں قانون کے تحت چلیں گی یا طاقت کے حکم پر؟کیا سیاسی اختلاف کا جواب ووٹ سے دیا جائے گا یا قید اور مبینہ تشدد سے؟
کیا مخالفین کو شکست دی جائے گی یا انہیں خاموش کرنے کی کوشش کی جائے گی؟عمران خان کی آواز اگر واقعی جیل کے اندر دبائی جا رہی ہے تو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ خاموشی زیادہ دیر نہیں رہتی۔ جب ایک قوم سوال کرنا شروع کر دے تو پھر بلند دیواریں، بند دروازے اور طاقت کے حصار بھی جواب دینے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔عمران خان کا مطالبہ صرف اتنا ہے کہ قوم کو سچ بتایا جائے اور قوم کا سوال صرف اتنا ہےآخر جیل کے اندر عمران خان کے ساتھ کیا ہو رہا ہے؟اور اگر سب کچھ قانون کے مطابق ہے تو پھر شفاف تحقیقات سے خوف کیوں؟
(روہیل اکبر 03004821200)



