
سانحہ پمز پر شوبز شخصیات کا اظہارِ غم، ذمہ داروں کے احتساب کا مطالبہ
اسلام آباد: پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں آتشزدگی کے افسوسناک واقعے پر شوبز شخصیات نے شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور احتساب کا مطالبہ کردیا۔
پمز میں آتشزدگی کے نتیجے میں نومولود بچوں کی اموات نے ملک بھر میں تشویش اور غم کی لہر دوڑا دی ہے۔ متعدد فنکاروں نے سوشل میڈیا پر واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے غفلت کے ذمہ دار افراد کو قانون کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کیا۔
اداکار محمد احمد نے ویڈیو پیغام میں کہا کہ بچوں سے متعلق افسوسناک واقعات کی خبریں مسلسل سامنے آتی رہتی ہیں اور خدشہ ہے کہ پمز میں جاں بحق ہونے والے بچوں کو بھی ماضی کے واقعات کی طرح بھلا دیا جائے گا۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ ماضی میں پیش آنے والے ایسے واقعات کے ذمہ داروں کو سزا کیوں نہیں دی گئی اور ان کے خلاف مؤثر کارروائی کیوں نہیں ہوئی۔ محمد احمد نے اپنے بچوں سے محروم ہونے والی ماؤں کے غم پر بھی افسوس کا اظہار کیا۔
اداکارہ عزیقہ ڈینیل نے مبینہ طور پر ’’نااہل نظام‘‘ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ملک میں انسانی جان کی قدر صرف ایک یا دو ہفتے کی مذمت تک محدود رہ جاتی ہے، اس کے بعد سب کچھ معمول پر آجاتا ہے اور اگلے سانحے یا بریکنگ نیوز کا انتظار شروع ہوجاتا ہے۔
اداکارہ زارا نور عباس نے ویڈیو پیغام میں کہا کہ مسلسل پیش آنے والے واقعات لوگوں کو قانون اپنے ہاتھ میں لینے پر مجبور کر رہے ہیں، کیونکہ متعدد واقعات کے باوجود کسی سے مؤثر جواب طلبی نہیں کی جاتی۔
زنیرہ انعام خان نے سوشل میڈیا پوسٹ میں پمز کا واقعہ محض حادثہ ماننے کے بجائے اسے ’’مجرمانہ غفلت اور بدانتظامی‘‘ کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔
اداکارہ سبینہ فاروق نے بھی پمز آتشزدگی کے بعد متاثرہ بچوں کی موجودہ صورتِ حال کے حوالے سے سوالات اٹھائے۔
اداکار احسن خان اور نادیہ افغان نے بھی ایک ویڈیو دوبارہ شیئر کی جس میں ایک ماں اپنے بچے کی باقیات حوالے کرنے کی اپیل کرتی دکھائی دیتی ہے۔



