
نیپال اور تبت میں تباہ کن سیلاب، ہلاکتیں 359 ہوگئیں، ایک ہزار سے زائد افراد لاپتا
کھٹمنڈو: نیپال اور چین کے سرحدی علاقے تبت میں برف، کیچڑ اور چٹانوں کے بڑے پیمانے پر دریا میں گرنے کے بعد آنے والے تباہ کن سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی۔ سیلاب کے نتیجے میں اب تک 359 افراد ہلاک جبکہ ایک ہزار سے زائد افراد لاپتا ہیں، جن میں سیکڑوں غیر ملکی شہری بھی شامل ہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد امدادی کارروائیاں تیز کردی گئی ہیں۔ ہیلی کاپٹروں کے ذریعے متاثرہ علاقوں میں زندہ بچ جانے والوں کی تلاش کے ساتھ ہنگامی امدادی سامان بھی پہنچایا جا رہا ہے، جبکہ کئی قصبوں اور وادیوں میں ہزاروں افراد محصور ہیں۔
نیپالی پولیس کے مطابق سیلاب میں ہلاکتوں کی تعداد 359 ہوگئی ہے، جبکہ ایک ہزار سے زائد افراد تاحال لاپتا ہیں۔ درجنوں لاشیں دریاؤں کے بہاؤ کے ساتھ میدانی علاقوں تک پہنچ گئی ہیں جہاں سے انہیں نکالا جا رہا ہے۔
نیپال کی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے دریائے بھوٹیکوشی کے ساتھ ایک اور ممکنہ سیلاب کے خطرے سے بھی خبردار کیا ہے۔ ابتدائی تجزیے کے مطابق ملبے کے باعث دریا کا بہاؤ رکنے سے ایک جھیل بن گئی ہے جس میں پانی کی سطح مسلسل بلند ہو رہی ہے۔ حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ جھیل کا بند ٹوٹنے کی صورت میں زیریں علاقوں میں مزید تباہی ہوسکتی ہے۔
نیپال کے وزیر داخلہ سدھن گرونگ کے مطابق ریسکیو ٹیموں کی اولین ترجیح لاپتا افراد کی تلاش ہے۔ حکام نے بدترین متاثرہ علاقے تریشولی کے اطراف 100 لاپتا بھارتی شہریوں اور 25 چینی کارکنوں کا سراغ لگا لیا ہے، تاہم تقریباً 550 غیر ملکی تاحال لاپتا ہیں۔
ریڈ کراس کے مطابق کئی دیہات مکمل طور پر تباہ ہوگئے جبکہ سڑکوں اور پلوں کو نقصان پہنچنے کے باعث متعدد آبادیوں کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ تباہی کی مکمل شدت کا ابھی اندازہ نہیں لگایا جاسکا۔
چین کے سرکاری نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی کے مطابق تبت کی گیئرونگ کاؤنٹی میں 558 افراد لاپتا ہیں، جن میں 260 غیر ملکی شہری شامل ہیں، جبکہ چین میں اب تک 3 ہلاکتوں کی اطلاع ہے۔
نیپال میں لاپتا غیر ملکیوں کا تعلق دو درجن سے زائد ممالک سے بتایا گیا ہے، جن میں بھارت کے 288، امریکا کے 63، ملائیشیا کے 51، آسٹریلیا کے 34، برطانیہ کے 33 اور کینیڈا کے 25 شہری شامل ہیں۔
چینی حکام کے مطابق متاثرہ علاقے میں تقریباً 100 چینی شہری موجود تھے اور چین لاپتا افراد کی تلاش اور ریسکیو کارروائیوں کے لیے نیپال کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے۔ چینی وزیراعظم لی چیانگ نے بھی گیئرونگ کے متاثرہ علاقے کا دورہ کرکے صورتحال کا جائزہ لیا۔
گیئرونگ بارڈر پورٹ چین کے بیلٹ اینڈ روڈ نیٹ ورک میں اہم حیثیت رکھتا ہے اور چین کو جنوبی ایشیا سے ملاتا ہے۔ سیلاب کے تیز بہاؤ اور ملبے نے سرحدی گزرگاہ سمیت متعدد تنصیبات، سڑکوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچایا۔
چینی ماہرین کے مطابق برفانی تودے اور ملبے کا سیلاب انتہائی تیز رفتاری سے آگے بڑھا، جس سے لوگوں کو ردعمل کا بہت کم وقت ملا۔ ماہرین کے مطابق بلند پہاڑی علاقے میں گلیشیئر کا ملبہ برفانی تودے کے ساتھ شامل ہو کر بڑے کیچڑ اور ملبے کے ریلے میں تبدیل ہوا، جس نے چین اور نیپال کی سرحد کے دونوں جانب آبادیوں کو متاثر کیا۔
چتوان ضلع میں دریائی نظام سے 103 لاشیں نکالی جاچکی ہیں۔ مقامی اسپتالوں میں لاشیں رکھنے کی گنجائش کم ہونے کے باعث انتظامیہ نے خیموں میں لاشیں رکھنے اور انہیں لواحقین کے حوالے کرنے کے انتظامات کیے ہیں۔
نیپال کے وزیراعظم بالیندر شاہ نے بھی بدترین متاثرہ اضلاع میں شامل نواکوٹ کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے متاثرہ علاقے کا رخ کیا ہے۔
ابتدائی اطلاعات میں خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ علاقے میں آنے والے زلزلے کے باعث گلیشیئر کا نچلا حصہ منہدم ہوا، تاہم امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق محسوس ہونے والی لرزش زلزلہ نہیں بلکہ برفانی چٹان اور گلیشیئر کے گرنے سے پیدا ہونے والی توانائی تھی۔
چینی حکام نے متاثرہ علاقے میں ملبے سے بننے والی ایک جھیل کو بھی خطرناک قرار دیا ہے۔ چینی سرکاری میڈیا کے مطابق جھیل میں پانی کا حجم تقریباً 20 لاکھ مکعب میٹر ہوچکا ہے جبکہ آئندہ تین روز میں مزید 30 لاکھ مکعب میٹر پانی داخل ہونے کا امکان ہے۔ پانی کی سطح میں اضافے کے باعث جھیل کا بند ٹوٹنے کا خدشہ ہے، جس سے ریسکیو کارروائیاں مزید مشکل ہوسکتی ہیں۔
سیلاب سے متاثرہ افراد میں بڑی تعداد ان یاتریوں کی بھی ہے جو تبت میں واقع کیلاش مانسروور کی مذہبی یاترا پر جارہے تھے۔ متاثرہ علاقے کا ہیلی کاپٹر کے ذریعے جائزہ لینے والے سیاحتی ادارے کے ایک عہدیدار کے مطابق متعدد علاقوں میں انسانی آبادی اور تعمیرات کے آثار تقریباً ختم ہوچکے ہیں۔
دوسری جانب لاپتا افراد کے اہل خانہ اپنے پیاروں کی سلامتی کے لیے پریشان ہیں۔ ملائیشیا سے تعلق رکھنے والے ایک ہندو یاتری گروپ کی رکن وینلا کی بہن وسانتھی منیاندی نے بتایا کہ انہوں نے اپنی بہن سے آخری مرتبہ نیپال سے تبت میں داخل ہونے کے وقت بات کی تھی اور اب وہ ان کی واپسی کی منتظر ہیں۔



