health & Foodlatest news

سانحہ پمز: سیکریٹری صحت معطل، محمد محمود کو وزارتِ صحت کا اضافی چارج مل گیا

اسلام آباد: پمز میں 14 نومولود بچوں کی ہلاکت کے سانحے کے بعد وفاقی حکومت نے سیکریٹری صحت محمد اسلم غوری کو معطل کرکے سیکریٹری ہاؤسنگ اینڈ ورکس کیپٹن (ر) محمد محمود کو سیکریٹری نیشنل ہیلتھ سروسز کا اضافی چارج دے دیا۔

گریڈ 21 کے افسر کیپٹن (ر) محمد محمود یہ ذمہ داری تین ماہ یا مستقل سیکریٹری کی تعیناتی تک انجام دیں گے۔ وہ اس وقت سیکریٹری ہاؤسنگ اینڈ ورکس ڈویژن کے عہدے پر فائز ہیں۔

پمز سانحے کے بعد محمد محمود کو وزارت صحت کی اضافی ذمہ داری ایسے وقت میں سونپی گئی ہے جب اسپتال کے فائر سیفٹی انتظامات، انتظامی امور اور مبینہ غفلت سمیت مختلف پہلوؤں پر تحقیقات جاری ہیں۔

کیپٹن (ر) محمد محمود اس سے قبل وفاقی اور صوبائی حکومتوں میں متعدد اہم عہدوں پر فرائض انجام دے چکے ہیں۔ 2013 میں انہیں نندی پور پاور منصوبے کا مینیجنگ ڈائریکٹر مقرر کیا گیا تھا۔

2021 میں راولپنڈی رنگ روڈ منصوبے کے تنازع میں بھی ان کا نام سامنے آیا، جب وہ راولپنڈی کے کمشنر اور منصوبے کے پروجیکٹ ڈائریکٹر تھے۔ پنجاب اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ نے مبینہ بے ضابطگیوں کے معاملے میں انہیں گرفتار بھی کیا تھا، تاہم بعد ازاں وہ مختلف اہم سرکاری ذمہ داریوں پر تعینات ہوتے رہے۔

محمد محمود وفاقی وزارت توانائی کے پٹرولیم ڈویژن میں ایڈیشنل سیکریٹری اور 2023 میں وفاقی سیکریٹری قومی غذائی تحفظ و تحقیق بھی رہ چکے ہیں۔ گندم درآمد کے معاملے کی تحقیقات کے دوران انہیں بھی طلب کیا گیا تھا۔

2024 میں انہیں وزارت اطلاعات و ٹیکنالوجی کا سیکریٹری مقرر کیا گیا، تاہم بعد ازاں انہیں او ایس ڈی بنا کر اسٹیبلشمنٹ ڈویژن رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی۔ اس عرصے میں ایل ڈی آئی کمپنیوں کے واجبات اور پالیسی معاملات سے متعلق الزامات سامنے آئے تھے، جن کی محمد محمود نے تردید کی تھی۔

حالیہ تعیناتی کے بعد محمد محمود کو وزارت صحت کا اضافی چارج ایسے وقت میں ملا ہے جب پمز سانحے کی تحقیقات جاری ہیں۔ وزیراعظم کی قائم کردہ تحقیقاتی کمیٹی نے بھی باقاعدہ کام شروع کردیا ہے۔

ذرائع کے مطابق تحقیقاتی کمیٹی کے ارکان نے فائر بریگیڈ ہیڈکوارٹر کا دورہ کرکے ریسکیو آپریشن میں شامل اہلکاروں کے بیانات قلم بند کیے۔ کمیٹی نے آگ لگنے سے ریسکیو ٹیموں کے پہنچنے تک کی ٹائم لائن، فائر بریگیڈ کے رسپانس اور کارروائی کے دوران پیش آنے والی رکاوٹوں کا بھی جائزہ لیا۔

واضح رہے کہ بدھ کو پمز کے زچہ و بچہ وارڈ کی نرسری میں خوفناک آتشزدگی کے نتیجے میں 14 نومولود بچے جاں بحق ہوگئے تھے۔ واقعے کے بعد آگ لگنے کی وجہ، فائر سیفٹی انتظامات اور امدادی کارروائی سے متعلق مختلف سوالات اٹھائے گئے ہیں، جن کی تحقیقات جاری ہیں۔

Related Articles

جواب دیں

Back to top button