برازیلی عدالت کا میٹا کو انتخابی جانبداری پر 24 گھنٹے میں جواب دینے کا حکم

لولا ڈا سلوا کی انتخابی مہم نے الزام عائد کیا ہے کہ میٹا کے الگورتھم مخالف امیدوار کے حق میں مواد کو فروغ دے رہے ہیں، کمپنی نے جانبداری کے الزامات مسترد کر دیے
برازیلیا: برازیل کی ایک عدالت نے امریکی ٹیکنالوجی کمپنی میٹا کو 24 گھنٹے میں ثابت کرنے کا حکم دیا ہے کہ اس کے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے نظام آئندہ اتوار کو ہونے والے صدارتی انتخاب کے دوسرے مرحلے سے قبل کسی بھی امیدوار کے حق میں جانبداری نہیں برت رہے۔
مقامی میڈیا کے مطابق، سپیریئر الیکٹورل کورٹ کے مجسٹریٹ مارکو اوریلیو بیلیز اولیویرا کے دستخط سے جاری حکم نامے کا اطلاق میٹا کے ان الگورتھمک نظاموں پر ہوتا ہے جو انسٹاگرام، فیس بک اور واٹس ایپ کو چلاتے ہیں۔
عدالت نے کمپنی سے وضاحت طلب کی ہے کہ آیا وہ سیاسی مواد کی رسائی محدود کر رہی ہے یا نہیں۔ صدر لوئیز اناسیو لولا ڈا سلوا کی انتخابی مہم نے الزام لگایا تھا کہ ان کے حق میں مواد کی تشہیر محدود کی گئی، جبکہ ان کے خلاف مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ پوسٹس پھیلنے دی گئیں۔
لولا کی انتخابی مہم کے وکیل میشل برٹونی نے کہا کہ اعداد و شمار میں سامنے آنے والے تضادات کی وضاحت اور فوری اصلاح ضروری ہے۔
برٹونی کے مطابق، جب کوئی بڑی ڈیجیٹل پلیٹ فارم سیاسی مواد کی رسائی میں غیر مساوی پابندیاں عائد کرتا ہے تو اس سے انتخابی عمل کی شفافیت اور باقاعدگی متاثر ہوتی ہے اور قومی خودمختاری میں مداخلت کا خدشہ پیدا ہوتا ہے۔
یہ عدالتی حکم برازیلی اخبار فولہا ڈی ساؤ پاؤلو کی ایک رپورٹ کے بعد سامنے آیا ہے۔ اخبار نے اندرونی مراسلت کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا تھا کہ میٹا کے ملازمین نے صدر لولا کے اکاؤنٹس پر پابندیوں کا اعتراف کیا، جبکہ پلیٹ فارم کے الگورتھم ان کے حریف امیدوار فلیویو بولسونارو کے پروفائل اور واٹس ایپ چینل کی سفارش کر رہے تھے۔
دوسری جانب میٹا نے 25 اکتوبر کو ہونے والے صدارتی انتخاب کے دوسرے مرحلے سے قبل کسی امیدوار کو ترجیح دینے کے الزام کی تردید کی ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس کے قواعد تمام سیاسی شخصیات پر یکساں طور پر لاگو ہوتے ہیں۔
میٹا کے مطابق، کمپنی کے اندر ہونے والی بات چیت کا تعلق عوامی سطح پر سامنے آنے والے تکنیکی مسائل کی سنگینی سے تھا، نہ کہ کسی امیدوار کے حق میں سیاسی جانبداری سے۔



