Businesslatest newsWorld

اسپیس ایکس اور ٹیسلا کے مالی نتائج رواں ہفتے جاری ہوں گے، انضمام کی قیاس آرائیاں تیز

اہم اعداد و شمار: اسپیس ایکس کی متوقع آمدن 12.74 ارب ڈالر، ٹیسلا کی 27.88 ارب ڈالر؛ اے آئی اخراجات اور روبوٹیکسی سرمایہ کاروں کی توجہ کا مرکز

ایلون مسک کی کمپنیاں اسپیس ایکس اور ٹیسلا رواں ہفتے مسلسل دو روز اپنی تیسری سہ ماہی کے مالی نتائج جاری کریں گی۔ ان نتائج سے سرمایہ کاروں کو دونوں کمپنیوں کی کارکردگی اور ممکنہ انضمام کے امکانات کا جائزہ لینے کا موقع ملے گا۔

بارکلیز نے امکان ظاہر کیا ہے کہ ٹیسلا کے سالانہ اجلاس سے قبل دونوں کمپنیوں کے انضمام کا اعلان ہو سکتا ہے، تاہم تاحال کسی کمپنی یا ایلون مسک نے اس کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔

اسپیس ایکس

  • 12.74 ارب ڈالر: تیسری سہ ماہی کی متوقع آمدن۔
  • 14 سینٹ: فی حصص متوقع منافع۔
  • 7.8 ارب ڈالر: دوسری سہ ماہی کی آمدن۔
  • 541 ملین ڈالر: دوسری سہ ماہی کا خالص خسارہ۔
  • 15.8 ارب ڈالر: دوسری سہ ماہی میں اے آئی پر سرمایہ جاتی اخراجات۔
  • 104 ارب ڈالر: 2026 کے اختتام تک سالانہ آمدن کی متوقع رفتار۔
  • 151 ارب ڈالر: 2027 کے لیے متوقع سرمایہ جاتی اخراجات۔
  • 4.3 ارب ڈالر: دوسری سہ ماہی میں اسٹارلنک سمیت رابطے کی خدمات کی آمدن، جس میں سالانہ بنیاد پر 66 فیصد اضافہ ہوا۔
  • 8 ارب ڈالر: اسپیکٹرم خریدنے کا مجوزہ معاہدہ۔
  • 146.03 ڈالر: جمعے کو حصص کی اختتامی قیمت۔

ٹیسلا

  • 27.88 ارب ڈالر: تیسری سہ ماہی کی متوقع آمدن۔
  • 43 سینٹ: فی حصص متوقع ایڈجسٹڈ منافع، جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں یہ 50 سینٹ تھا۔
  • 486,532 گاڑیاں: تیسری سہ ماہی میں فراہم کی گئیں، جو تجزیہ کاروں کی توقعات سے زیادہ تھیں۔
  • 25 ارب ڈالر سے زائد: رواں سال کے متوقع سرمایہ جاتی اخراجات۔
  • 1.1 ارب ڈالر: دوسری سہ ماہی میں منفی فری کیش فلو۔
  • 4.92 ارب ڈالر: تیسری سہ ماہی کے لیے متوقع منفی فری کیش فلو۔
  • 17 فیصد: 2026 کے دوران حصص کی قیمت میں کمی۔
  • 3 دسمبر: ٹیسلا کے سالانہ اجلاس کی تاریخ۔

اسپیس ایکس منگل اور ٹیسلا بدھ کو امریکی اسٹاک مارکیٹ بند ہونے کے بعد مالی نتائج جاری کریں گی۔ اسپیس ایکس کی آمدن میں راکٹ لانچز، اسٹارلنک اور اے آئی کمپیوٹنگ کا اہم کردار ہے، جبکہ ٹیسلا کی آمدن کا بڑا حصہ گاڑیوں اور توانائی ذخیرہ کرنے کے نظام سے حاصل ہوتا ہے۔

ٹیسلا نے حال ہی میں نئی روڈسٹر اسپورٹس کار متعارف کرائی ہے، جس کی پیداوار 2028 میں شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ دوسری جانب کمپنی روبوٹیکسی اور انسان نما روبوٹ آپٹیمس کو مستقبل کی ترقی کے اہم ذرائع قرار دے رہی ہے۔

بارکلیز کے تخمینے کے مطابق، اگر اسپیس ایکس اور ٹیسلا کے درمیان تمام حصص کے عوض انضمام ہوتا ہے تو ایلون مسک کے پاس مشترکہ کمپنی کے تقریباً 37 فیصد حصص اور 56 فیصد ووٹنگ حقوق ہوں گے۔ تاہم انضمام سے متعلق کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button