جعلی سمز کے ذریعے بینک اکاؤنٹس سے کروڑوں روپے چوری، دو ارکان قومی اسمبلی بھی متاثر
کراچی کے تاجر کے اکاؤنٹ سے 85 لاکھ روپے نکال لیے گئے، بینک ملازمین کے مبینہ کردار اور بائیومیٹرک ڈیٹا کے غلط استعمال کا انکشاف
پاکستان میں جعلی ڈپلیکیٹ سمز کے ذریعے بینک اکاؤنٹس سے رقم چوری کرنے کے واقعات سامنے آئے ہیں، جن میں قومی اسمبلی کے دو ارکان اور کراچی کا ایک تاجر بھی متاثر ہوئے۔
روزنامہ دی نیوز میں شائع عمر چیمہ کی رپورٹ کے مطابق ایم کیو ایم کے رکن قومی اسمبلی فرحان چشتی کے اکاؤنٹ سے 15 لاکھ روپے، جبکہ رکن قومی اسمبلی شہریار مہر کے اکاؤنٹ سے 20 لاکھ روپے نکالے گئے۔ کراچی کے تاجر سنی کمار کے اکاؤنٹ سے بھی جعلی سم کے ذریعے 85 لاکھ روپے منتقل کر لیے گئے۔
رپورٹ کے مطابق ملزمان نے متاثرین کے نام پر ڈپلیکیٹ سمز جاری کروا کر آن لائن بینکنگ تک رسائی حاصل کی۔ تحقیقات میں بعض بینک ملازمین کے مبینہ کردار اور صارفین کے ذاتی و مالیاتی ڈیٹا تک غیر مجاز رسائی کا انکشاف بھی ہوا۔
تفتیش کاروں کے مطابق جرائم پیشہ عناصر چوری شدہ بائیومیٹرک معلومات اور انگلیوں کے نشانات کا ناجائز استعمال کرکے جعلی سمز اور بینک اکاؤنٹس کے ذریعے وارداتیں کرتے ہیں۔
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے سمز کے اجرا میں بے ضابطگیوں پر متعلقہ ٹیلی کام کمپنی کو 7 کروڑ 78 لاکھ روپے جرمانہ کیا، جبکہ بینکوں کو متاثرہ افراد کی رقم واپس کرنے کی ہدایت دی گئی۔ رپورٹ کے مطابق ملک کے مختلف علاقوں میں بھی اس نوعیت کے واقعات پیش آچکے ہیں۔



