Businesslatest news

مصنوعی ذہانت عالمی معیشت کی ترقی کا اہم محرک، سرمایہ کاری میں کمی کے خطرات بھی بڑھ گئے

بینکاک: مصنوعی ذہانت (اے آئی) میں تیزی سے بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری عالمی اقتصادی ترقی کا اہم محرک بن گئی ہے، تاہم ماہرینِ معیشت اور پالیسی سازوں نے خبردار کیا ہے کہ اس شعبے میں سرمایہ کاری کی رفتار کم ہونے سے عالمی معیشت کو بڑے خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔

بینکاک میں آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے سالانہ اجلاسوں کے دوران ماہرین نے کہا کہ ڈیٹا سینٹرز اور مائیکروچپس پر بڑھتے ہوئے اخراجات نے عالمی معیشت کو سہارا دیا ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے مطابق مصنوعی ذہانت سے متعلق سرمایہ کاری نے مشرق وسطیٰ میں جنگ کے باعث عالمی توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے اقتصادی اثرات کم کرنے میں مدد دی ہے۔

آئی ایم ایف کی چیف اکانومسٹ سلوانا ٹینریرو نے بتایا کہ 2023 سے 2025 کے دوران عالمی تجارت میں 8.3 فیصد اضافہ ہوا، تاہم ان کے مطابق مصنوعی ذہانت سے متعلق مصنوعات کو نکال دیا جائے تو یہ شرح تقریباً 4.6 فیصد رہ جاتی۔

بینک آف کینیڈا کے گورنر ٹف میکلم نے جمعہ کو کہا کہ مصنوعی ذہانت عالمی معیشت کے ہر شعبے میں نمایاں ہوچکی ہے، جس کے اثرات مجموعی قومی پیداوار، اسٹاک مارکیٹ اور بانڈ مارکیٹ میں بھی دیکھے جاسکتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ تبدیلی ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے۔

تاہم بینکاک اجلاس میں شریک بعض اعلیٰ عہدیداروں نے خبردار کیا کہ عالمی معیشت کا انحصار مصنوعی ذہانت میں سرمایہ کاری پر حد سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے۔

امریکی فیڈرل ریزرو کے چیئرمین کیون وارش نے مصنوعی ذہانت کو اپنی زندگی میں عالمی معیشت کی سب سے اہم تبدیلی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے بڑے فوائد حاصل ہوسکتے ہیں، لیکن اس ٹیکنالوجی کی ترقی کا سفر مشکلات سے خالی نہیں ہوگا۔ ان کے مطابق اس بارے میں ابھی غیر یقینی صورت حال موجود ہے کہ نئی ٹیکنالوجیز کی مارکیٹ کس شکل میں سامنے آئے گی اور ان کے معاشی اثرات کیا ہوں گے۔

آئی ایم ایف کی سربراہ کرسٹالینا جارجیوا نے بھی مصنوعی ذہانت میں سرمایہ کاری کو عالمی ترقی کے لیے اہم قرار دیا، تاہم خبر رساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو میں خبردار کیا کہ اس شعبے کی رفتار سست ہونے کے اثرات پوری دنیا میں محسوس کیے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ اگر مصنوعی ذہانت پر سرمایہ کاروں کا اعتماد ختم ہوگیا اور سرمایہ اس شعبے سے نکلنے لگا تو اس سے مالیاتی استحکام کو خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔

آئی ایم ایف کی رواں ہفتے جاری ہونے والی رپورٹ میں اندازہ لگایا گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت میں سرمایہ کاری میں کمی کے نتیجے میں 2028 تک عالمی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں 0.4 فیصد تک کمی ہوسکتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق سرمایہ کاری اور منافع میں کمی یا ان کی پائیداری سے متعلق خدشات مالیاتی منڈیوں میں بڑی تبدیلی کا سبب بن سکتے ہیں۔

موڈیز اینالیٹکس کے ماہرینِ معیشت نے خبردار کیا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع طویل ہوگیا تو مصنوعی ذہانت میں سرمایہ کاری کی تیزی متاثر ہوسکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق توانائی کی بلند قیمتیں اور مالیاتی حالات میں سختی کاروباری اخراجات اور شرح سود میں اضافہ کرسکتی ہے، جس سے مصنوعی ذہانت کے کاروباری ماڈلز کی طویل مدتی منافع بخش حیثیت اور پائیداری پر سوالات اٹھ سکتے ہیں۔

موڈیز اینالیٹکس کے مطابق طویل جنگ مصنوعی ذہانت میں سرمایہ کاری کے معاشی جواز پر شدید دباؤ ڈال سکتی ہے۔

دوسری جانب اس ٹیکنالوجی کے ضابطوں اور حکومتی نگرانی سے متعلق غیر یقینی صورت حال بھی اس کے مستقبل پر اثرانداز ہورہی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سمیت بعض رہنما حکومتی ضابطوں کو محدود رکھنے کے حامی ہیں، جبکہ ٹیکنالوجی کی صنعت سے وابستہ بعض افراد خطرات کم کرنے کے لیے قانون سازی کا مطالبہ کررہے ہیں۔

کرسٹالینا جارجیوا نے جمعہ کو بینکاک میں کہا کہ اگر مصنوعی ذہانت کے شعبے میں مناسب حفاظتی اقدامات نہ کیے گئے تو اس کے خطرات ممکنہ فوائد سے بڑھ سکتے ہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button