چین کا سولر پینلز کی تیاری میں استعمال ہونے والی 12 ٹیکنالوجیز پر برآمدی پابندیاں لگانے کی تجویز

بیجنگ: چین نے قومی سلامتی کے خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے سولر پینلز اور دیگر شمسی آلات کی تیاری میں استعمال ہونے والی 12 ٹیکنالوجیز کو برآمدی کنٹرول کی فہرست میں شامل کرنے کی تجویز پیش کردی ہے۔ اس اقدام میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور بائیوٹیکنالوجی سے متعلق ٹیکنالوجیز بھی شامل ہیں۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق چین کی وزارتِ تجارت نے جمعہ کو جاری بیان میں کہا کہ شمسی توانائی کی ٹیکنالوجیز اب فضائی و خلائی صنعت اور قومی دفاع جیسے حساس شعبوں میں بھی استعمال ہورہی ہیں، اس لیے ان کی برآمدات کی نگرانی مزید سخت کرنے کی ضرورت ہے۔
چینی حکام نے رواں سال اپریل میں جدید سولر پینل مینوفیکچرنگ ٹیکنالوجیز کی برآمدات محدود کرنے کے امکان پر مقامی صنعت کاروں سے ابتدائی بات چیت کی تھی۔ رائٹرز کے مطابق ممکنہ پابندیاں امریکا میں سولر آلات کی پیداوار بڑھانے کے منصوبوں کو متاثر کرسکتی ہیں، جن میں ٹیسلا جیسی کمپنیوں کے منصوبے بھی شامل ہیں۔
رائٹرز نے یہ بھی رپورٹ کیا تھا کہ چین نے بھارت کو شمسی آلات کی تیاری سے متعلق ٹیکنالوجیز کی برآمدات محدود کی ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق بیجنگ کا مقصد عالمی سولر مینوفیکچرنگ مارکیٹ میں اپنی برتری برقرار رکھنا ہے، جبکہ بھارت مقامی پیداوار بڑھانے اور چینی ٹیکنالوجی پر انحصار کم کرنے کی کوشش کررہا ہے۔
چین کی وزارتِ تجارت کے مطابق برآمدی پابندیوں کا مقصد ٹیکنالوجیز کے بے قابو پھیلاؤ اور ان کے نامناسب استعمال کے خطرات کو روکنا ہے، جبکہ سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں معمول کے بین الاقوامی تبادلے اور تعاون کو برقرار رکھنا بھی پیش نظر ہے۔
مجوزہ فہرست پر عوامی مشاورت 15 نومبر تک جاری رہے گی۔ اس دوران برآمد کنندگان کو بعض بیرونِ ملک ٹیکنالوجی منتقلیوں کا اندراج کرانا ہوگا، جبکہ باضابطہ برآمدی کنٹرول فہرست میں ترمیم بعد میں کی جائے گی۔
مجوزہ اقدامات کے تحت بعض انتہائی باریک سلیکون ویفرز، پیرووسکائٹ اور ٹینڈم سولر سیلز کی تیاری میں استعمال ہونے والی ٹیکنالوجیز، نیز فلوئڈائزڈ بیڈ طریقے سے بڑے پیمانے پر پولی سلیکون تیار کرنے کی ٹیکنالوجی کی برآمد پر پابندی لگانے کی تجویز ہے۔
پیرووسکائٹ ایک ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی ہے جو شمسی توانائی کو بجلی میں تبدیل کرنے کی کارکردگی بڑھانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ٹینڈم سولر سیلز میں پیرووسکائٹ اور سلیکون کی تہیں استعمال کی جاتی ہیں، جو سورج کی روشنی کے زیادہ وسیع حصے سے توانائی حاصل کرسکتی ہیں۔
پولی سلیکون سولر پینلز کی تیاری کا بنیادی خام مال ہے۔ اسے تیار کرنے کے لیے استعمال ہونے والا فلوئڈائزڈ بیڈ طریقہ، روایتی سیمینز طریقے کے مقابلے میں کم لاگت اور زیادہ توانائی مؤثر سمجھا جاتا ہے۔
چین نے جدید سولر سیل مینوفیکچرنگ ٹیکنالوجیز، جن میں TOPCon، HJT اور XBC شامل ہیں، کی برآمدات پر مکمل پابندی کے بجائے اضافی پابندیاں اور کنٹرول متعارف کرانے کی تجویز بھی دی ہے۔



