اپوزیشن دہشت گردی کے خلاف وفاق کا ساتھ دے تو ایمرجنسی ختم ہوسکتی ہے، بلاول بھٹو

کراچی: پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار نہیں، تاہم پیپلز پارٹی دہشت گردوں کے خلاف لڑنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر اپوزیشن دہشت گردی کے خلاف وفاقی حکومت کا ساتھ دے تو خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی ختم ہوسکتی ہے۔
سانحہ کارساز کے 19 برس مکمل ہونے پر کراچی میں یادگارِ شہدا پر خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ سانحہ کارساز پاکستان کی تاریخ کا المناک واقعہ ہے، جس کی دلخراش یادیں آج بھی تازہ ہیں۔ انہوں نے سانحے کے شہدا کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ شہید بے نظیر بھٹو نے سنگین خطرات کے باوجود پاکستان واپسی کا فیصلہ کیا تھا، تاہم ان کے قافلے پر دہشت گردی کا بڑا حملہ کیا گیا۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے دہشت گردی کا بہادری سے مقابلہ کیا اور اس جنگ میں ہر طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد نے قربانیاں دیں۔ ان کے مطابق دہشت گردوں کو تاریخی شکست دی گئی اور وہ کامیابی حاصل کی گئی جو دنیا کی بڑی فوجیں بھی افغانستان میں حاصل نہیں کرسکیں۔
انہوں نے کہا کہ کچھ عناصر سوات میں پاکستان کا جھنڈا نہیں دیکھنا چاہتے تھے، تاہم بے نظیر بھٹو نے وعدہ کیا تھا کہ وہاں قومی پرچم لہرایا جائے گا۔ دہشت گردی کے خلاف آپریشن کے ذریعے ان کا یہ وعدہ پورا کیا گیا۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے الزام عائد کیا کہ دہشت گردوں کو دوبارہ پاکستان آکر آباد ہونے کی دعوت دی گئی اور جیلوں میں قید بعض دہشت گردوں کو رہا کیا گیا، جس کے نتائج آج ملک بھگت رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات سب سے زیادہ ہو رہے ہیں اور بعض قوتیں سوات سے پاکستان کا جھنڈا اتارنا چاہتی ہیں۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ان کے بقول وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے حلف لیتے وقت دہشت گردی کا مقابلہ نہ کرنے کا مؤقف اختیار کیا تھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پیپلز پارٹی دہشت گردی کے خاتمے کو اپنی ذمہ داری سمجھتی ہے اور پاک سرزمین سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک جدوجہد جاری رکھے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی کو ملک میں انتشار پھیلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور دہشت گردی کو سنجیدگی سے نہ لینے کی صورت میں ملک کو نقصان پہنچے گا۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے معاملے پر وفاقی حکومت کا ساتھ دیا ہے۔ ان کے مطابق صوبے میں گورنر راج اور ایمرجنسی آئینی اقدامات ہیں اور گورنر خیبرپختونخوا آئینی طور پر وفاقی حکومت کے نمائندے ہیں۔
انہوں نے اپوزیشن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی ختم کرانا چاہتی ہے تو اسے مذاکرات کے لیے آنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر اپوزیشن دہشت گردی کے خلاف وفاقی حکومت کا ساتھ دینے پر آمادہ ہے تو ایمرجنسی ختم ہوسکتی ہے اور تمام سیاسی قوتیں مل کر دہشت گردی کا مقابلہ کرسکتی ہیں۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف متحد ہوکر کارروائی کیے بغیر کامیابی حاصل نہیں کی جاسکتی۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ موجودہ حالات میں صورت حال بہتر ہونے کے بجائے مزید خراب ہوسکتی ہے۔ ان کے مطابق سیاست سمجھوتے کا نام ہے اور سیاسی معاملات میں مفاہمت کرنا پڑتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پیپلز پارٹی وفاقی حکومت کا حصہ نہیں ہے۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان اس وقت تاریخی معاشی بحران کا سامنا کر رہا ہے۔ انتخابی اصلاحات کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ وفاقی حکومت نے پارلیمنٹ میں کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اپوزیشن کو بھی اس میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی ہے۔ انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ انتخابی اصلاحات کے معاملے پر بات چیت میں حصہ لیں۔
نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے حوالے سے بلاول بھٹو نے کہا کہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نئے صوبوں سے متعلق پیپلز پارٹی کی پالیسی سے آگاہ ہیں۔ ان کے مطابق آئینی اور قانونی طریقہ کار کے تحت نئے صوبے قائم کیے جاسکتے ہیں اور اس کے لیے متعلقہ صوبے کی منظوری ضروری ہے۔
انہوں نے گلگت بلتستان کا حوالہ دیتے ہوئے سوال کیا کہ اگر وہاں اتفاق رائے موجود ہے تو نئے صوبے کے قیام کی جانب پیش رفت کیوں نہیں کی جارہی؟ بلاول بھٹو زرداری نے اپنے خطاب کے اختتام پر ایک بار پھر دہشت گردی کے خلاف قومی اتحاد کی ضرورت پر زور دیا۔



