latest newsWorld

جاپان کا مریخ کے چاند سے نمونے زمین پر لانے کا مشن، نظامِ شمسی اور زندگی کی ابتدا کے راز کھلنے کی امید

ٹوکیو: جاپانی سائنس دان مریخ کے چاند فوبوس سے مٹی اور چٹانوں کے نمونے جمع کرکے زمین پر لانے کے لیے ایک اہم خلائی مشن کی تیاری کر رہے ہیں، جس سے نظامِ شمسی کی تشکیل اور زمین پر زندگی کی ابتدا سے متعلق راز جاننے میں مدد مل سکتی ہے۔

جاپان کی خلائی تحقیقاتی ایجنسی (جاکسا) کے مطابق بغیر پائلٹ کے مارشین مونز ایکسپلوریشن (ایم ایم ایکس) مشن کے تحت خلائی جہاز کو ایچ تھری راکٹ کے ذریعے تانیگاشیما خلائی مرکز سے روانہ کیا جائے گا۔ اس مشن میں امریکی اور یورپی خلائی اداروں سمیت متعدد جامعات اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کا تعاون بھی شامل ہے۔

مشن کا مقصد مریخ کے چاند فوبوس کی سطح سے کم از کم 10 گرام مواد جمع کرنا اور اسے زمین پر واپس لانا ہے۔ خلائی جہاز اگست 2027 کے لگ بھگ مریخ کے قریب پہنچنے کے بعد فوبوس کے گرد چکر لگائے گا اور وہاں تقریباً تین سال تک مختلف سرگرمیاں انجام دے گا۔

نمونے جمع کرنے سے پہلے فرانسیسی روور آئیڈی فکس فوبوس کی سطح کا جائزہ لے گا تاکہ خلائی جہاز کی محفوظ لینڈنگ کے لیے مناسب مقام کا تعین کیا جاسکے۔

ایم ایم ایکس کے پروجیکٹ مینیجر یاسوہیرو کاواکاتسو کے مطابق فوبوس سے نمونے حاصل کرنے کا یہ دنیا کا پہلا مشن ہوگا، جبکہ مریخ کے خطے تک جاکر وہاں سے زمین پر واپس آنے کی بھی یہ پہلی کوشش ہوگی۔

جاکسا کے سائنس دانوں کو امید ہے کہ اس مشن سے معلوم ہوسکے گا کہ مریخ کے دونوں چاند فوبوس اور ڈیموس کیسے وجود میں آئے۔ اس حوالے سے دو اہم نظریات موجود ہیں۔

پہلے نظریے کے مطابق کسی بڑے خلائی جسم کے مریخ سے ٹکرانے کے نتیجے میں خارج ہونے والے مادے سے یہ چاند وجود میں آئے۔ دوسرے نظریے کے مطابق یہ دراصل شہابیے تھے جنہیں مریخ کی کششِ ثقل نے اپنی گرفت میں لے لیا۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ ان نظریات میں سے درست نظریے کی شناخت سے یہ سمجھنے میں مدد ملے گی کہ زمین سمیت چٹانی سیاروں پر زندگی کے لیے موزوں ماحول کیسے پیدا ہوا۔

فرانسیسی ماہرِ فلکیات پیٹرک مشیل کے مطابق فوبوس اور ڈیموس سے حاصل ہونے والے نمونے یہ جاننے میں مدد دے سکتے ہیں کہ پانی، نامیاتی مرکبات اور دیگر اہم مادے نظامِ شمسی کے بیرونی حصوں سے اندرونی چٹانی سیاروں تک کیسے پہنچے۔ یہ عمل زمین اور دوسرے سیاروں پر زندگی کے لیے سازگار حالات پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔

جاکسا کے مطابق ایم ایم ایکس مشن کا ایک مقصد فوبوس کو مستقبل میں ایک قدرتی خلائی اسٹیشن کے طور پر استعمال کرنے کے امکانات کا جائزہ لینا بھی ہے۔ اس سے مریخ تک انسانی مشن بھیجنے اور وہاں سے واپس آنے کے لیے درکار تکنیکی ضروریات سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے۔

خلائی جہاز مریخ کے دوسرے چاند ڈیموس کا بھی مشاہدہ کرے گا، تاہم وہاں لینڈنگ نہیں کرے گا، اور بعدازاں زمین کی جانب واپسی کا سفر شروع کرے گا۔

مشن کی تیاری میں فوبوس پر خلائی جہاز کی لینڈنگ ٹانگوں کی تیاری ایک بڑا چیلنج رہی ہے، کیونکہ اس چاند کی کششِ ثقل انتہائی کم ہے۔ اس ماحول میں خلائی جہاز کو سطح پر محفوظ طریقے سے اتارنا اور نمونے جمع کرنے کے بعد دوبارہ روانہ کرنا خاصی تکنیکی مہارت کا تقاضا کرتا ہے۔

جاپان اس سے قبل بھی خلائی نمونے زمین پر لانے کا تجربہ کرچکا ہے۔ اس کے بغیر پائلٹ کے ہایابوسا ٹو مشن نے ایک شہابیے سے 5.4 گرام چٹانی مواد اور گرد جمع کرکے 2020 میں زمین پر واپس پہنچایا تھا۔ اسی طرح 2024 میں جاپان کا اسمارٹ لینڈر فار انویسٹی گیٹنگ مون، جسے مون اسنائپر بھی کہا جاتا ہے، چاند پر اترنے کے بعد ایک جانب جھک گیا تھا، تاہم اس نے ڈیٹا بھیجنا جاری رکھا۔

مریخ سے نمونے زمین پر لانے کے معاملے پر امریکا اور چین کے درمیان بھی خلائی تحقیق میں مقابلہ جاری ہے۔ امریکی خلائی ادارے ناسا کا پرسیورینس روور 2021 سے مریخ پر کام کررہا ہے اور وہاں سے نمونے جمع کرچکا ہے، تاہم زمین پر ان نمونوں کی واپسی کا امریکی منصوبہ جنوری میں امریکی کانگریس کی ووٹنگ کے بعد عملاً منسوخ ہوگیا تھا۔

چین نے اپنے تیان وین تھری خلائی مشن کو تقریباً 2028 میں روانہ کرنے کا اعلان کیا ہے، جبکہ اس کا ہدف 2031 تک مریخ کے نمونے زمین پر واپس لانا ہے۔ اس طرح چین جاپان کے ایم ایم ایکس مشن کی واپسی سے پہلے مریخ سے نمونے زمین پر لانے میں کامیاب ہوسکتا ہے۔

جاپانی سائنس دانوں کے مطابق فوبوس کی ریت اور چٹانیں مریخ کی سطح سے مختلف نوعیت کے نمونے فراہم کرسکتی ہیں۔ خصوصاً اگر یہ چاند کسی بڑے خلائی تصادم کے نتیجے میں وجود میں آیا تو اس کے نمونوں سے مریخ کی تاریخ اور نظامِ شمسی کی ابتدائی تشکیل کے بارے میں اہم معلومات حاصل ہونے کی توقع ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button