وزارتِ مواصلات میں 222 ارب روپے سے زائد کی مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف

اسلام آباد: وزارتِ مواصلات کے مالی معاملات میں 222 ارب روپے سے زائد کی مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔ آڈٹ رپورٹ کے مطابق یہ بے قاعدگیاں مالی سال 2022-23 کے دوران سامنے آئیں۔
رپورٹ میں دھوکہ دہی، چوری اور ڈکیتی کے 40 کیسز میں 4 کروڑ 88 لاکھ روپے جبکہ بھرتیوں سے متعلق چار کیسز میں 2 ارب 73 کروڑ روپے کی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔
آڈٹ رپورٹ کے مطابق پاکستان پوسٹل سروسز میں خالی آسامیوں پر بھرتیوں کی اجازت دی گئی۔ نگران دور میں گریڈ ایک سے 15 تک 4 ہزار 252 افراد بھرتی کیے گئے، جبکہ 314 افراد کو قواعد کے برعکس سیاسی بنیادوں پر ملازمتیں دینے کی نشاندہی بھی کی گئی۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ خریداری سے متعلق پانچ کیسز میں قومی خزانے کو 3 ارب 26 کروڑ روپے سے زائد کا نقصان پہنچا، جبکہ ایک کمرشل بینک کے ذریعے غیر مجاز انتظامی معاملات میں 20 ارب 85 کروڑ روپے کے نقصان کی نشاندہی ہوئی۔
آڈٹ رپورٹ کے مطابق پاکستان پوسٹ نے مقررہ تعداد سے زیادہ اکاؤنٹس کھولے، جن کے ذریعے 20 ارب روپے کی مالی لین دین کی گئی۔
رپورٹ میں ایک اور کیس میں قومی خزانے کو 49 کروڑ 25 لاکھ روپے کے نقصان کی نشاندہی کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ 11 مختلف کیسز میں 3 ارب 74 کروڑ روپے سے زائد کی وصولیوں جبکہ 15 دیگر کیسز میں 194 ارب 54 کروڑ روپے سے زائد کی مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف کیا گیا ہے۔



