Businesslatest news

بڑھتا ہوا تجارتی خسارہ ملکی معیشت کیلئے زہر قاتل ہے، چودھری سرور

ایک ماہ میں 4 ارب ڈالر سے زائد کا خسارہ فکر مندی والی بات ہے

لاہور (17اکتوبر2026ء) سابق گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے بڑھتے ہوئے تجارتی خسارے اور بیلنس آف پے منٹ میں عدم توازن پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے، ماہ ستمبر کے دوران 4 ارب 39 کروڑ ڈالر کا خسارہ معاشی محاذ پر ناکامی اور لمحہ فکریہ ہے۔

اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ ایکسپورٹ بڑھانے اور امپورٹ کم کرنے سے زرمبادلہ پر دباؤ کم ہوگا فنانشل مینجمنٹ بہتر کرنے اور فوری اقدامات بروئے کار لانے کی فوری ضرورت ہے ورنہ بے روزگاری اور مہنگائی کا نیا سونامی آئے گا۔ جولائی تا ستمبر اشیا کی تجارتی خسارہ 21.1 فیصد بڑھ کر 9 ارب 33 کروڑ ڈالر تک رپورٹ ہو رہا ہے جو خطرناک ہے۔

درآمدات کے مقابلے میں برآمدات میں ہوشربا کمی بیڈ گورننس اور فنانشل مس مینجمنٹ ہے۔چوہدری سرورکایہ بھی کہناتھا کہ پیداواری شعبے کی مشکلات دور کرنے اور پاکستانی مصنوعات کی عالمی منڈیوں تک رسائی بڑھائے بغیر معیشت بہتر نہیں ہوگی۔ کب تک بیرونی قرضوں اور امداد کی بیساکھیوں پر ملک کو کھڑا رکھا جا سکتا ہے؟

سابق گورنرپنجاب کامزید یہ بھی کہناتھاکہ حکومت تجربہ کار لوگوں کے ہاتھ میں ہے۔ اس تجارتی خسارے پر یقیناً حکومتی ماہرین کی نظر بھی ہوگی خوش کن بیانات سے معیشت میں کوئی بہتری نہیں آنے والی۔انہوں نے کہا کہ برآمدی صنعتوں کو بلا تعطل سستی توانائی اور ٹیکس میں خصوصی چھوٹ دینے، ٹیکس ریفنڈز کی بروقت ادائیگی کو یقینی بنانے سے کاروباری طبقہ کا اعتماد بحال ہوگا اور پیداوار میں بہتری لانے سے حالات بہتر ہونگے۔غیر ضروری اور پُرتعیش اشیا کی درآمدات فوری بند کی جائیں اور معیشت کو بہتر بنانے پر کاروبار دوست فیصلے کئے جائیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button