latest newsPoliticsWorld

اردوان کی ریاض پر حوثی حملے کی مذمت، پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے دفاعی تعاون کو ادارہ جاتی شکل دینے کی تیاری

انقرہ: ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے ریاض پر حوثیوں کے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے خطے میں امن و استحکام کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری پر زور دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مشترکہ دفاعی معاہدے کو مؤثر اور پائیدار ادارہ جاتی ڈھانچے میں ڈھالنے کا عمل جاری ہے۔

ترک کابینہ کے اجلاس کے بعد خطاب کرتے ہوئے صدر اردوان نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں تنازعات اور کشیدگی بڑھ رہی ہے، تاہم ترکیہ خطے میں استحکام اور امن کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔

انہوں نے کہا کہ لبنان سے یمن اور ایران تک کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے اور مختلف مقاصد کے حصول کے لیے پراکسی قوتوں کو استعمال کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق علاقائی مسائل کا حل جنگ کے بجائے مذاکرات، مکالمے اور سفارت کاری میں ہے، جبکہ خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام ضروری ہے۔

صدر اردوان نے 10 اکتوبر کو ریاض کے شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے کو نشانہ بنانے والے حوثی حملے کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حملے میں 12 افراد جاں بحق اور 309 زخمی ہوئے۔

ترک صدر نے جاں بحق افراد کے لیے دعائے مغفرت اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کرتے ہوئے کہا کہ ترکیہ ایسے حملوں کے مقابلے میں سعودی عرب اور اس کے عوام کے ساتھ کھڑا ہے۔

صدر اردوان نے ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان 7 اگست کو طے پانے والے مشترکہ دفاعی معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس کے لیے ضروری ادارہ جاتی ڈھانچہ تشکیل دیا جا رہا ہے۔

ان کے مطابق دفاعی تعاون کا مقصد اجتماعی دفاع اور علاقائی تعاون کو فروغ دینا اور اسے ایک پائیدار، مؤثر اور فعال نظام میں ڈھالنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ معاہدے کے تحت سرگرمیاں ترکیہ کے قومی قوانین اور قانونی ضوابط کے مطابق انجام دی جائیں گی۔ معاہدے کی داخلی منظوری کے مراحل مکمل کرنے کے لیے اسے آئندہ دنوں میں ترک پارلیمان میں پیش کرنے کی تیاریاں جاری ہیں۔

صدر اردوان نے کہا کہ ترکیہ علاقائی تنازعات کو نسلی یا فرقہ وارانہ بنیادوں پر نہیں دیکھتا بلکہ پورے خطے میں امن و استحکام کا خواہاں ہے۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ ترکیہ علاقائی تعاون اور مشترکہ ذمہ داری کے اصولوں کے تحت امن کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button