entertanmentlatest news

الحمرا میں مستنصر حسین تارڑ کے اعزاز میں ادبی شام، عالمی ادبی خدمات کو خراجِ تحسین

لاہور(عمران اسلم) لاہور آرٹس کونسل الحمرا اور ای سی او کلچرل انسٹی ٹیوٹ تہران کے اشتراک سے عالمی شہرت یافتہ ادیب، دانشور اور سفرنامہ نگار مستنصر حسین تارڑ کے اعزاز میں خصوصی ادبی تقریب ’’بیونڈ دی بارڈرز‘‘ کا انعقاد کیا گیا، جس میں ان کی ادبی خدمات، تخلیقی سفر اور اردو ادب کے لیے گراں قدر کردار کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔

تقریب میں ملکی علمی، ادبی اور ثقافتی شخصیات نے شرکت کی، جبکہ ترکیہ اور ایران سے تعلق رکھنے والے دانشوروں اور ادیبوں نے آن لائن گفتگو کے ذریعے مستنصر حسین تارڑ کی شخصیت اور ادبی خدمات کو سراہا۔

تقریب کا آغاز ڈاکٹر شائستہ حسن نے مستنصر حسین تارڑ کی شخصیت، ادبی سفر، تصانیف اور اردو ادب میں ان کے منفرد مقام کے تعارف سے کیا۔ انہوں نے ان کی تحریروں کے نمایاں پہلوؤں اور سفرنامہ نگاری میں ان کے مخصوص اسلوب پر روشنی ڈالی۔ ڈاکٹر شائستہ حسن نے تقریب کے انعقاد پر ایگزیکٹو ڈائریکٹر لاہور آرٹس کونسل الحمرا محمد نواز گوندل کا خصوصی شکریہ بھی ادا کیا۔

تقریب کے دوران مستنصر حسین تارڑ نے معروف دانشور، قانون دان اور ادیب ڈاکٹر اسامہ صدیق کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے اپنے ادبی سفر، زندگی کے تجربات، مشاہدات اور تخلیقی عمل کے مختلف پہلوؤں پر اظہارِ خیال کیا۔ اس موقع پر سفرنامہ نگاری، انسانی زندگی، تہذیب و ثقافت اور مختلف معاشروں کے تجربات کو تحریر میں سمو دینے کے ان کے منفرد انداز پر بھی گفتگو ہوئی۔

مقررین نے کہا کہ مستنصر حسین تارڑ نے اردو ادب میں سفرنامہ نگاری کو ایک منفرد شناخت عطا کی ہے۔ ان کے سفرنامے محض مختلف ممالک اور خطوں کی سیر کی روداد نہیں بلکہ وہاں کے لوگوں، تہذیبوں، معاشرتی رویوں اور انسانی تجربات کو سمجھنے کا ذریعہ بھی ہیں۔ ان کی تخلیقات نے کئی نسلوں کو مطالعے اور ادب سے وابستہ کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

ای سی او کلچرل انسٹی ٹیوٹ تہران کے صدر ایمبیسیڈر محمد حسن نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مستنصر حسین تارڑ کی ادبی خدمات کو سراہا اور اس بامقصد تقریب کے انعقاد پر لاہور آرٹس کونسل الحمرا کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے ادب اور ثقافت کو مختلف معاشروں کے درمیان روابط، باہمی تفہیم اور مشترکہ تہذیبی ورثے کے فروغ کا اہم ذریعہ قرار دیا۔

تقریب میں ترکیہ کی دوزجے یونیورسٹی کے انٹرنیشنل آفس کی ڈائریکٹر ڈاکٹر سیبل بیرام، تہران یونیورسٹی کی پروفیسر ڈاکٹر فرزانہ اعظم لطفی اور تہران میں مقیم شاعر و ادیب احمد شہریار نے آن لائن اظہارِ خیال کیا۔ مقررین نے مستنصر حسین تارڑ کی ادبی خدمات اور اردو ادب میں ان کے نمایاں مقام کو سراہتے ہوئے بین الاقوامی سطح پر علمی و ثقافتی روابط کے فروغ کی اہمیت پر زور دیا۔

اس موقع پر پروفیسر ڈاکٹر سفیر اعوان کا ریکارڈڈ پیغام بھی پیش کیا گیا، جس میں انہوں نے مستنصر حسین تارڑ کی شخصیت اور ادبی خدمات کے مختلف پہلوؤں پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

تقریب میں ادبی و ثقافتی شخصیات اور شائقینِ ادب کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔ مستنصر حسین تارڑ کے تخلیقی سفر اور ادبی کام پر ہونے والی گفتگو نے شرکا کو ان کی تحریروں اور اردو ادب میں ان کی خدمات کو نئے زاویوں سے سمجھنے کا موقع فراہم کیا۔

تقریب کے اختتام پر یادگاری سووینئرز کا تبادلہ کیا گیا۔ ’’بیونڈ دی بارڈرز‘‘ کو ادب و ثقافت کے ذریعے مختلف معاشروں کو قریب لانے، ادبی ورثے کو اجاگر کرنے اور علمی و فکری مکالمے کو فروغ دینے کی ایک اہم کاوش قرار دیا گیا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button