عالمی یومِ ذہنی صحت: مریضوں کی کہانیاں سننا نفسیاتی بحالی کے لیے ضروری ہے، ڈاکٹر خالد مفتی

پشاور(ہم شہری) عالمی شہرت یافتہ ماہرِ نفسیات اور نفسیاتی بحالی کے لیے کام کرنے والی نجی تنظیم ہورائزن کے سربراہ ڈاکٹر خالد مفتی نے کہا ہے کہ ذہنی صحت کے مؤثر نظام کے لیے ذہنی بیماریوں، منشیات کے استعمال اور صدمات سے متاثرہ افراد کے ذاتی تجربات کو اہمیت دینا ضروری ہے۔ بحالی کی کامیابی صرف طبی نتائج سے نہیں بلکہ متاثرہ افراد کی معمول کی زندگی میں واپسی سے بھی جانچی جانی چاہیے۔
عالمی یومِ ذہنی صحت کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر خالد مفتی نے کہا کہ ذہنی صحت کے مسائل سے گزرنے والے افراد کی کہانیاں اور تجربات سننے سے علاج کو زیادہ مؤثر، قابلِ رسائی اور انسانی ضروریات کے مطابق بنایا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہر مریض کی اپنی شناخت، عزتِ نفس، خاندانی تعلقات اور معاشرے میں باوقار زندگی گزارنے کی خواہش ہوتی ہے۔ اس لیے علاج اور بحالی کے عمل میں مریضوں کے ساتھ ان کے خاندانوں کے تجربات کو بھی اہمیت دی جانی چاہیے۔
ڈاکٹر خالد مفتی نے ہورائزن کی تاریخ بیان کرتے ہوئے بتایا کہ ادارے کی بنیاد 1983 میں شروع ہونے والی گرین دسمبر موومنٹ کے تجربات سے جڑی ہے۔ اس تحریک کا مقصد منشیات کے استعمال کے خلاف سماجی شعور بیدار کرنا تھا، جو آگے چل کر 1986 میں ہورائزن کے قیام کا سبب بنی۔
ان کے مطابق ادارے نے پشاور میں ہیروئن اور دیگر افیونی منشیات کے عادی سینکڑوں نوجوانوں کی بحالی اور معاونت میں کردار ادا کیا، جن میں مقامی افراد کے علاوہ افغان مہاجرین بھی شامل تھے۔
انہوں نے کہا کہ بحالی کا عمل صرف منشیات کا استعمال ترک کرنے تک محدود نہیں، بلکہ اس کے لیے مسلسل نگہداشت، علاج کے بعد معاونت اور دوبارہ نشے کی طرف رجوع سے بچاؤ بھی ضروری ہے۔ ان کے بقول پانچ سالہ فالو اَپ مطالعے نے بھی بحالی کو ایک مسلسل عمل کے طور پر دیکھنے کی اہمیت اجاگر کی۔
ڈاکٹر مفتی کے مطابق ہورائزن افغان مہاجرین، اندرونِ ملک بے گھر ہونے والے افراد اور تنازعات، دہشت گردی، زلزلوں اور سیلابوں سے متاثرہ آبادیوں کو ذہنی صحت اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر خدمات فراہم کر رہی ہے۔
ان خدمات میں نفسیاتی علاج، مشاورت، کمیونٹی کی سطح پر بحالی اور آرمی پبلک اسکول کے سانحے سے متاثرہ بچوں اور خاندانوں کی معاونت شامل ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ہورائزن نے عبادت ہسپتال اور دیگر شراکت داروں کے تعاون سے باجوڑ اور افغانستان کے علاقے خوست سمیت دور دراز علاقوں میں ٹیلی سائیکاٹری کے ذریعے نفسیاتی مشاورت اور علاج کے بعد معاونت کی فراہمی میں بھی کردار ادا کیا ہے۔ اس کے علاوہ صحت کے کارکنوں اور کمیونٹی رضاکاروں کی تربیت پر بھی توجہ دی گئی ہے۔
ڈاکٹر خالد مفتی نے زور دیا کہ ذہنی صحت کی خدمات کی کامیابی کا اندازہ اس بات سے لگایا جانا چاہیے کہ متاثرہ افراد کس حد تک اپنے خاندانی تعلقات بحال کرنے، تعلیم یا روزگار کی طرف واپس آنے اور معاشرتی زندگی میں دوبارہ حصہ لینے کے قابل ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مریضوں اور ان کے خاندانوں کے تجربات کو ذہنی صحت کے نظام کا بنیادی حصہ بنانے سے علاج اور بحالی کے عمل کو زیادہ انسانی، مؤثر اور دیرپا بنایا جا سکتا ہے۔



