بندوق کے زور پر مذاکرات نہیں کریں گے، جنید اکبر

تحریک انصاف خیبرپختونخوا کے صدر جنید اکبر نے کہا ہے کہ بندوق کے زور پر نہ مذاکرات کریں گے اور نہ کسی کو زبردستی مذاکرات پر مجبور کرنے دیں گے۔
جنید اکبر کے مطابق مولانا فضل الرحمان کے عمرے پر ہونے کے دوران پی ٹی آئی قیادت سے رابطہ ہوا تھا اور انہوں نے لانگ مارچ کی تاریخ آگے بڑھانے کی خواہش ظاہر کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے اپنا لانگ مارچ 27 ستمبر سے بڑھا کر 4 اکتوبر تک کیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے معاملے پر مذاکرات کے لیے ان کے دروازے کھلے ہیں اور انہیں دہشت گردوں کا ساتھی سمجھنا درست نہیں۔ ان کے مطابق دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں انٹیلی جنس بنیادوں پر ہونی چاہئیں۔
جنید اکبر نے کہا کہ اگر پی ٹی آئی سے مسئلہ ہے تو صوبے کی دیگر سیاسی قیادت، جن میں مولانا فضل الرحمان، سراج الحق، ایمل ولی اور شیرپاؤ سمیت دیگر رہنما شامل ہیں، ان کے ساتھ بیٹھ کر بات کی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر پی ٹی آئی غلط ثابت ہوئی تو وہ معافی مانگنے اور فیصلے تسلیم کرنے کے لیے تیار ہیں۔
انہوں نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی سے متعلق حکومتی بیانات پر بھی ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی ایسی باتوں کو سنجیدہ نہیں لیتی۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں حکومت ان کی ہے لیکن ٹرانسفر اور پوسٹنگ کوئی اور کرتا ہے۔
جنید اکبر نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی اپنے ووٹ اور حکومت کا تحفظ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ان کے مطابق پارٹی کارکن تھکے نہیں اور آئندہ کے اقدامات مشاورت اور منصوبہ بندی کے ساتھ کیے جائیں گے۔



