امریکی حکومت کا مائیکروسافٹ سمیت کئی کمپنیوں پر پابندی کا فیصلہ

امریکی حکومت نے ٹیکنالوجی کمپنی مائیکروسافٹ سمیت متعدد آئی ٹی کمپنیوں کو غیر ملکی ورکرز کی مستقل رہائش کے لیے سپانسرشپ کے پروگرام سے معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے پریس کانفرنس میں کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ کا مقصد امریکی ٹیکنالوجی کے شعبے میں امریکی ورکرز کے لیے روزگار کے مواقع کو ترجیح دینا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی کمپنیاں مقامی ملازمین کو فارغ کرکے ان کی جگہ غیر ملکی ورکرز کو ملازمت نہیں دے سکتیں۔
جے ڈی وینس نے خاص طور پر مائیکروسافٹ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ کمپنی نے گزشتہ سال تقریباً 6 ہزار ملازمین کو فارغ کیا، جبکہ اسی عرصے میں 6 ہزار 300 ایچ ون بی ویزوں اور تقریباً 3 ہزار گرین کارڈز سے فائدہ اٹھایا۔
امریکی لیبر ڈیپارٹمنٹ کے پرماننٹ لیبر سرٹیفیکیشن پروگرام کے ذریعے کمپنیاں غیر ملکی ورکرز کو امریکا میں مستقل رہائش کے لیے اسپانسر کرسکتی ہیں۔ یہ پروگرام ایچ ون بی ویزا پروگرام سے الگ ہے، جو مخصوص شعبوں کے ہنرمند غیر ملکی ورکرز کو عارضی طور پر امریکا میں کام کرنے کی اجازت دیتا ہے۔
حکومت کے فیصلے کے تحت ایڈوبی، کاگنیزنٹ، انفوسس، ٹاٹا کنسلٹنسی سروسز، وپرو، ایچ سی ایل اور کیپ جیمینی سمیت دیگر کمپنیوں کو بھی پروگرام سے معطل کیا گیا ہے۔
دوسری جانب، اس پیش رفت کے باوجود صدر ڈونلڈ ٹرمپ وائٹ ہاؤس میں مائیکروسافٹ کے سی ای او ستیا نڈیلا کو نیشنل میڈل آف ٹیکنالوجی اینڈ انوویشن سے نوازیں گے۔



