column and articlelatest news

نانا پاٹیکر: ایک نام، ایک آواز، ایک عہد

خالد منصور

کچھ فنکار پردۂ سیمیں پر آتے ہیں، چند لمحوں کے لیے اپنی موجودگی کا احساس دلاتے ہیں اور پھر وقت کی گرد میں کہیں گم ہوجاتے ہیں، مگر کچھ فنکار ایسے ہوتے ہیں جن کی آواز، چہرہ، مکالمہ اور کردار ناظرین کے حافظے میں ہمیشہ کے لیے نقش ہو جاتے ہیں۔ نانا پاٹیکر بھی ایسے ہی فنکار تھے۔ وہ محض ایک اداکار نہیں بلکہ اپنے عہد کی ایک ایسی توانا آواز تھے جس نے بھارتی سینما میں حقیقت، جذبات اور کردار کی گہرائی کو ایک نئے انداز میں پیش کیا۔

نانا پاٹیکر کا اصل نام وشواناتھ پاٹیکر تھا۔ یکم جنوری 1951 کو مہاراشٹرا کے علاقے مروڈ-جنزیرا میں آنکھ کھولنے والے نانا نے زندگی کو قریب سے دیکھا۔ ان کا بچپن آسائشوں میں نہیں گزرا۔ مالی مشکلات اور زندگی کی سختیوں نے ان کی شخصیت میں وہ گہرائی پیدا کی جو بعد میں ان کی اداکاری کا نمایاں وصف بن گئی۔ شاید یہی وجہ تھی کہ جب وہ کسی کردار میں اترتے تو محض اسے ادا نہیں کرتے تھے بلکہ اسے جیتے محسوس ہوتے ۔

نانا پاٹیکر کی فنی تربیت گاہ تھیٹر بنا۔ سٹیج نے انہیں مکالمے کی حرمت، خاموشی کی معنویت اور کردار کے باطن میں اترنے کا ہنر سکھایا۔ انہوں نے فلمی دنیا میں قدم رکھنے سے پہلے تھیٹر کے ذریعے اپنے فن کو جلا بخشی اور یہی تجربہ بعد میں بڑے پردے پر ان کی شناخت بن گیا۔

1978 میں فلم گمن سے ان کا فلمی سفر شروع ہوا۔ ابتدائی برسوں میں انہیں کامیابی کے لیے خاصی جدوجہد کرنا پڑی، مگر انہوں نے کبھی آسان راستے کا انتخاب نہیں کیا۔ روایتی ہیرو کے بجائے انہوں نے ایسے کرداروں کو ترجیح دی جن میں انسانی نفسیات، کشمکش اور جذبات کی گنجائش موجود ہو۔ وقت کے ساتھ ان کی صلاحیتیں نکھرتی گئیں اور وہ بھارتی فلمی صنعت میں ایک ایسے اداکار کے طور پر ابھرے جس کے لیے کردار کا حجم نہیں بلکہ اس کی معنویت اہم تھی۔

1989 میں ریلیز ہونے والی فلم پرندہ نانا پاٹیکر کے فلمی سفر میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوئی۔ فلم میں ان کا کردار شدت، خوف، طاقت اور جذبات کی کئی پرتیں لیے ہوئے تھا۔ نانا نے اس کردار کو اس قدر حقیقت کے قریب پیش کیا کہ ناظرین ان کے کردار کو دیکھتے ہوئے اداکار اور کردار کے درمیان فرق بھولنے لگے۔ ان کی اداکاری نے انہیں بین الاقوامی سطح پر نمایاں کیا اور یہ وہ مرحلہ تھا جب نانا پاٹیکر نے ثابت کیا کہ وہ محض معاون اداکار نہیں بلکہ اپنی ذات میں ایک مکمل فلمی قوت ہیں۔

اگر نانا پاٹیکر کے فلمی سفر کا روشن سنگِ میل تلاش کیا جائے تو کرانتی ویر ان میں سب سے نمایاں ہے۔ اس فلم میں انہوں نے ایک ایسے شخص کا کردار ادا کیا جو معاشرتی ناانصافی، بدعنوانی اور ظلم کے خلاف کھڑا ہوتا ہے۔ نانا کے مکالموں میں صرف الفاظ نہیں جذبہ بولتا تھا۔ ان کی آواز میں غصہ بھی تھا، درد بھی اور احتجاج بھی۔ یہی شدت ان کی اداکاری کو یادگار بناتی تھی۔ اس کردار پر انہیں نیشنل فلم ایوارڈ برائے بہترین اداکار سے نوازا گیا۔

نانا پاٹیکر کو کسی ایک خانے میں قید کرنا ممکن نہیں۔ وہ کبھی پولیس افسر بنے، کبھی باغی، کبھی جرائم کی دنیا کا خطرناک کردار، کبھی شکستہ دل انسان اور کبھی ایسا شخص جس کے مزاح میں بھی زندگی کی تلخی چھپی ہوئی تھی۔

اب تک چھپن، اپہارَن، راج نیتی، خاموشی، اگنی ساکشی اور دیگر فلموں میں انہوں نے اپنے فن کے مختلف رنگ دکھائے۔ ان کے کرداروں میں ایک چیز مشترک رہی: حقیقت سے قربت۔ وہ کردار کو خوبصورت بنانے کے بجائے اسے سچا بنانے پر یقین رکھتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ ان کی اداکاری میں بناوٹ کم اور زندگی زیادہ دکھائی دیتی تھی۔

نانا پاٹیکر کی اداکاری کا ایک اور دلچسپ پہلو فلم ویلکم میں سامنے آیا۔ ادے شیٹی کا کردار بظاہر مزاحیہ تھا، مگر نانا نے اسے جس برجستگی اور بے ساختگی سے ادا کیا، وہ ان کے فنی پختگی کا ثبوت بن گیا۔

انیل کپور کے ساتھ ان کی جوڑی اور دونوں کے درمیان مکالموں کی نوک جھونک نے ناظرین کو خوب محظوظ کیا۔ جو اداکار اس سے پہلے سنجیدہ اور سخت کرداروں کے حوالے سے پہچانے جاتے تھے، انہوں نے مزاحیہ کردار میں بھی اپنی انفرادیت برقرار رکھی۔ یہی نانا پاٹیکر کا کمال تھا کہ وہ ایک لمحے میں ناظرین کو خوف زدہ کرسکتے تھے اور دوسرے ہی لمحے انہیں بے اختیار ہنسا سکتے تھے۔

2016 کی مراٹھی فلم نٹ سمراٹھ میں نانا پاٹیکر نے ایک ریٹائرڈ تھیٹر اداکار کا کردار ادا کیا۔ یہ کردار محض ایک شخص کی کہانی نہیں بلکہ عمر کے ڈھلتے سایوں، تنہائی، یادوں، رشتوں اور فنکار کے اندر چھپی بے قراری کی داستان تھا۔ نانا نے اس کردار کو جس گہرائی سے نبھایا، اس نے ایک بار پھر ثابت کردیا کہ ان کا اصل میدان صرف فلم نہیں بلکہ انسانی جذبات کی وہ دنیا ہے جہاں الفاظ سے زیادہ خاموشیاں بولتی ہیں۔

فلمی دنیا کی چکاچوند کے باوجود نانا پاٹیکر نے اپنی نجی زندگی کو ہمیشہ سادہ رکھا۔ ان کی شادی نیل کانتی پاٹیکر سے ہوئی۔ ان کی زندگی نے خوشیوں کے ساتھ دکھ کے لمحات بھی دیکھے اور ان کے بڑے بیٹے درواسہ کا کم عمری میں انتقال ان کی زندگی کا ایک انتہائی کرب ناک واقعہ تھا۔ ان کے دوسرے بیٹے ملہار پاٹیکر نے بھی فلمی دنیا سے وابستگی اختیار کی۔

نانا پاٹیکر کی شخصیت کا ایک خوبصورت پہلو ان کی سادگی اور دیہی زندگی سے قربت تھی۔ شہرت کے باوجود انہیں زمین، کھیتی باڑی اور عام لوگوں کے مسائل سے دلچسپی رہی۔ شاید یہی تعلق تھا جس نے ان کے فن میں زندگی اور مٹی کی خوشبو برقرار رکھی۔

نانا پاٹیکر کو ان کے فن کے اعتراف میں تین نیشنل فلم ایوارڈز سے نوازا گیا۔ انہیں فلم فیئر سمیت متعدد دیگر اعزازات بھی ملے۔ 2013 میں حکومتِ ہند نے انہیں پدم شری سے نوازا۔ لیکن کسی فنکار کے لیے سب سے بڑا اعزاز تمغہ یا ایوارڈ نہیں ہوتا، بلکہ وہ مقام ہوتا ہے جو وہ اپنے ناظرین کے دلوں میں بناتا ہے۔ نانا پاٹیکر نے یہ مقام اپنی اداکاری، اپنی آواز اور اپنی بے مثال فنکارانہ دیانت سے حاصل کیا۔

نانا پاٹیکر کی شناخت صرف ان کے چہرے سے نہیں تھی۔ ان کی آواز خود ایک کردار تھی۔ ان کے مکالموں میں ٹھہراؤ، غصہ، درد اور طنز اس انداز سے گھلے ہوتے تھے کہ ایک معمولی جملہ بھی ان کی زبان سے نکل کر یادگار بن جاتا۔ وہ چیخے بغیر غصہ دکھا سکتے تھے، آنسو بہائے بغیر دکھ بیان کرسکتے تھے اور مسکرائے بغیر مزاح پیدا کرسکتے تھے۔ یہی وہ باریکیاں تھیں جنہوں نے انہیں ایک منفرد اداکار بنایا۔

نانا پاٹیکر کا سفر تقریباً پانچ دہائیوں پر محیط رہا۔ انہوں نے ایسے وقت میں فلمی دنیا میں قدم رکھا جب اداکاری میں مخصوص انداز اور روایتی ہیرو کا تصور غالب تھا، مگر انہوں نے اپنا راستہ خود بنایا۔ انہوں نے ثابت کیا کہ عظیم اداکار بننے کے لیے خوب صورت چہرہ یا روایتی ہیرو کا کردار ضروری نہیں؛ اصل طاقت کردار کی روح کو سمجھنے اور اسے پوری سچائی کے ساتھ پردے پر اتارنے میں ہے۔

گمن، پرندہ، کرانتی ویر، اگنی ساکشی، خاموشی، اب تک چھپن، اپہارَن، راج نیتی، ویلکم اور نٹ سمراٹھ جیسی فلمیں ان کے فنی سفر کے روشن ابواب ہیں۔

نانا پاٹیکر کے انتقال سے بھارتی سینما ایک ایسے فنکار سے محروم ہوگیا جس نے کرداروں کو صرف ادا نہیں کیا بلکہ انہیں زندگی عطا کی۔ ان کی آواز شاید خاموش ہوگئی ہو، مگر ان کے ادا کیے ہوئے کردار آج بھی بولتے ہیں۔وہ پردۂ سیمیں سے رخصت ہوگئے، مگر فن کی دنیا میں کچھ لوگ رخصت نہیں ہوتے۔ وہ اپنے کرداروں میں زندہ رہتے ہیں، اپنے مکالموں میں سنائی دیتے ہیں اور اپنے فن کے ذریعے آنے والی نسلوں سے ہم کلام رہتے ہیں۔

نانا پاٹیکر بھی ایسے ہی فنکار تھے—ایک نام، ایک آواز، ایک عہد۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button