Businesslatest news

فکسڈ ٹیکس سکیم ناکام، نان فائلر تاجروں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ

اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے فکسڈ ٹیکس سکیم میں تاجروں کی کم شمولیت کے بعد نان کمپلائنٹ دکانداروں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کرلیا۔

ایف بی آر کے مطابق نئی سکیم کے تحت اب تک صرف 100 نئے ریٹیلرز نے انکم ٹیکس ریٹرن جمع کرائے اور مجموعی طور پر 32 لاکھ روپے ٹیکس ادا کیا، جبکہ فی تاجر اوسط ٹیکس 32 ہزار روپے رہا۔

ذرائع کے مطابق حکومت نے تاجروں کو فکسڈ ٹیکس اسکیم کے تحت صرف ایک فیصد مقررہ انکم ٹیکس یا کم از کم 25 ہزار روپے ادا کرنے کے عوض آڈٹ سے استثنیٰ اور نقد کاروبار کی سہولت دی تھی۔ تاہم مجموعی طور پر 2,593 نئے ریٹیلرز رجسٹر ہوئے، جن میں سے صرف 100 نے ریٹرن فائل کیے۔

ایف بی آر ذرائع کے مطابق پاکستان میں تقریباً 43 لاکھ تاجر ہیں، جن میں صرف 6 لاکھ ٹیکس نظام کا حصہ ہیں۔ نئی سکیم کا ہدف باقی 37 لاکھ تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لانا تھا۔

حکام نے بتایا کہ مقررہ مدت ختم ہونے کے بعد نان فائلرز کو فکسڈ ٹیکس اسکیم کے بجائے موجودہ انکم ٹیکس قانون کے تحت نوٹس جاری کیے جائیں گے۔ ایف بی آر ابتدائی طور پر 10 ہزار سے 15 ہزار تاجروں کو انکم ٹیکس آرڈیننس کی دفعہ 114(4) کے تحت نوٹس جاری کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق ریٹرن جمع نہ کرانے پر قانون کے تحت کم از کم 50 ہزار روپے جرمانہ عائد ہوسکتا ہے، جبکہ ویلتھ اسٹیٹمنٹ جمع نہ کرانے پر مزید ایک لاکھ روپے جرمانہ بھی کیا جاسکتا ہے۔ یوں مجموعی جرمانہ 1 لاکھ 50 ہزار روپے تک پہنچ سکتا ہے۔

دوسری جانب تاجروں نے پلاسٹک بیگز کے استعمال پر مقدمات کے خلاف جمعرات کو جزوی ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔ تاجر رہنما اجمل بلوچ نے کہا کہ وہ فکسڈ ٹیکس اسکیم کی حمایت کرتے ہیں اور احتجاج اسلام آباد انتظامیہ کے خلاف ہے۔

اجمل بلوچ نے الزام عائد کیا کہ حکومت کے اندر سے بعض عناصر فکسڈ ٹیکس اسکیم کو ناکام بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق ریٹرن فائل کرنے والی آن لائن ایپلی کیشن میں تکنیکی مسائل موجود تھے، جن میں بجلی کے بلوں میں ادا کیے گئے ودہولڈنگ ٹیکس کی ایڈجسٹمنٹ کا مسئلہ بھی شامل تھا، جسے بدھ کو حل کیا گیا۔

 

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button